انجمن تبلیغ الاسلام اور علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاریؒ

سید آصف رضا
 انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر – ایک تعارف:
انجمن تبلیغ الاسلام کو جموں و کشمیر کے سنی مسلمانوں کی اوّلین دینی جماعت ہونے کا شرف حاصل ہے۔1930ء کے اواخرمیں جموں و کشمیر کے سرکردہ مشائخ اور علماء کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں گمراہ کُن نظریات کی روک تھام کے لئے ایک تحریک کی شروعات کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اور باتفاق رائے 1931ء سے ’’انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر‘‘ کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا۔
انجمن تبلیغ الاسلام کی تاریخ کے بارے میں اس کا دستور ان سطور میں روشنی ڈالتاہے:
”1930ء کے اواخر میں سابق سجادہ نشین درگاہِ غوثیہ خانیار شریف سرینگر مجاہد ملت حضرت میر سید مقبول شاہ گیلانیؒ (متوفی پاکستان) کے دولت خانہ پر اہلسنت و الجماعت سے وابستہ علماء کرام، ائمہ حضرات، سرکردہ شخصیات کے علاوہ سجادہ نشین حضرات پر مشتمل ایک عظیم الشان تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ وقت کے اہم تقاضوں کے پیشِ نظر طویل بحث و مباحثہ کے بعد ’’انجمن تبلیغ الاسلام‘‘ کے نام پر ایک دینی تحریک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں باتفاق رائے مرحوم میر سید محمد مقبول گیلانیؒ (سجادہ نشین درگاہ غوثیہ خانیار) انجمن کے صدر منتخب ہوئے، مولانا محمد سعید مسعودی نائب صدر، پیر محمد رفیق جنرل سکریٹری اور میر سید محمد فاضل قادری منطقی مشیر اعلیٰ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ ریاست کشمیر کے جلیل القدر علماء و مشائخ پر مشتمل مجلسِ عاملہ اور مجلس شوریٰ عمل میں لائی گئی۔ اس ریاست گیر انجمن کا پھیلاو کشمیر کے اکناف و اطراف میں ہوا اور جگہ جگہ اس کے اجتماعات منعقد ہونے لگے۔“
(دستور انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر، صفحہ 12، مارچ 2008ء)
انجمن کے بانیوں نے اس دینی جماعت کو معتدل ”مزاج رکھنے والی جماعت“ کے طور پر اس خطے کے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا۔چونکہ انجمن اسی فکر کی امین ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جس فکر کو امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں رائج کیا اور جس فکر کو حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں پروان چڑھایا گیا۔ اس دعویٰ میں کتنی سچائی ہے ، اس کو انجمن کے آٹھ دہائیوں پر مشتمل لٹریچر اور کارکردگی سے پرکھا جا سکتا ہے۔
1962ء میں سرپرست انجمن تبلیغ الاسلام فقیر ملت حضرت سیّد میرک شاہ کاشانی رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ہوئے کل ریاستی اجتماع میں امیر شریعت حضرت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو باتفاق رائے انجمن کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس کو خوش قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ معتدل سمجھی جانے والی ”انجمن تبلیغ الاسلام“ کو علامہ بخاریؒ جیسا معتدل مزاج صدر و رہنما عنایت ہوا، جس نے اپنی بے لوث خدمات سے انجمن کوبلندیوں تک پہنچایا۔ انجمن کے لئے آپؒ کا دورِ صدارت سنہرا دور کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ
اَمیرِ شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رَحمۃ اللہ علیہ( 1910 ء -2000ء) سری نگر کے عید گاہ علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپؒ ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپؒ کے والدِ گرامی علامہ سید عبد الکبیر بخاری رَحمۃ اللہ علیہ کا شمار بھی وادی کشمیر کے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔ آپؒ14 سال تک تحصیلِ علم کے لئے گھر سے دُور رہے۔ آپؒ ایک شریں بیاں مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پایہ کے مصنف بھی تھے اور مختلف موضوعات پر تقریباً 115 کتابیں تصنیف فرمائی۔ آپؒ نے تبلیغِ دین کے سلسلے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ آبِ زَر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ آپؒ نے علوم دینی کے نشر و اشاعت کے لئے ”حنفی عربی کالج“ قائم کیا جہاں سے آج بھی تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔آپؒ کے شاگردوں میں مفتی اعظم جموں و کشمیر مولانا مفتی بشیر الدین صاحب سے لے کر شہید قاضی نثارصاحب تک اور دورِ حاضر میں خطیبِ ملت مولانا مشتاق احمد خان صاحبؒ تک جید علماء رہے ہیں۔ آپؒ نے پہلے ”التبلیغ“ نامی ماہنامہ رسالہ جاری فرمایا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ماہنامہ ”الاعتقاد“ کو شروع کیا (جس کی اشاعت تاہنوز جاری ہے)۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ آپؒ کے مزاج میںشدّت کے بجائے اعتدال پایا جاتا تھا۔ یہ آپؒ کے اسی متعدل مزاج کا اثر تھا کہ مسلمانوں کے ہر مکتبۂ فکر سے وابستہ خواص و عوام آپؒ کی عزّت کرتے تھے اور حضرت علامہؒ بھی حکمِ ربّانی ”وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى“ کے تحت دینی و ملّی امور میں تعاون فرماتے تھے۔مختلف دینی جماعتوں کے ساتھ عملی تعاون کے ساتھ ساتھ علمی مشاغل میں بھی تعاون فرماتے تھے۔ ماہنامہ ”التبلیغ“ کے مارچ 1968ء کے شمارے میں ”نزول قرآن نمبر“ کےتعلق سے ایک اشتہارشائع ہوا جس میں مختلف مکاتیبِ فکرکے جیدعلماء و مفکرین کے مقالے شائع کرنے کا اعلان کیا گیا، جن علماء و مفکرین کے نام اس اشتہار میں دئیے گئے وہ اس طرح ہیں:
مولانا اخلاق حسین قاسمی (ناظم جمعیۃ العلماء دہلی)، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا نعیم صدیقی ، مولانا محمد عبّاس انصاری (شیعہ عالم و صدر اتحاد المسلمین)، مولانا واعظ غلام نبی مبارکی (صدر بزمِ توحید اہلحدیث) اور جناب پیر سعد الدّین (جماعت اسلامی)
علامہ بخاریؒ بحیثیتِ قائدِ انجمن
علامہ بخاریؒ کا شمار ایسے قائدین میں ہوتا ہے جو ”منصب“ کو امانت سمجھتے ہیں اور ”سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ“ کا عملی مظاہرہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ 1981ء میں یاری پورہ( کولگام) میں ایک جلسہ کے خطبۂ صدارت میں حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اراکین و زعماءِ انجمن کو یوں نصیحت فرمائی :
 ”آپ سب مخدوم ہیں ،میں ادنیٰ خادم ہُوں ۔آپ مقتدیٰ ہیں اور میں مقتدی ہوں اور آپ انجمن تبلیغ الاسلام ہیں اور میں آپ کا چپراسی ہوں ۔مگر چپراسی وہی ہوسکتا ہے جو اپنے ادارہ کو چوروں اور عیاروں سے بچائے۔“
 (نورِ دل از پروفیسر غلام حسن زرگر، صفحہ 178)
  اس مختصر مگر پُر مغز اقتباس سے ہماری دینی جماعتوں کے قائدین کو سبق بھی ملتا ہے کہ پر خلوص لیڈر و قائد وہی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کی پروا کئے بغیر اپنے مخلص ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور اپنی جماعت کو بھی مفاد پرستوں سے بچائے رکھے۔
  ایک طرف حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اولیاءِ کرامؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئےکشمیر کے دوردراز علاقوں، جہاں کے راستے اکثر پیدل طے کرنے پڑتے، میں دینی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی وہاں (مرکزی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے) ”حنفی“ سکول قائم فرمائے۔ دوسری طرف انجمن کی طرف سے ماہنامہ اور دوسری کتب کے ذریعہ انجمن کی آواز کو ملک بھر میں پہنچا دیا۔ حضرت علامہؒ کے دورِ صدارت میں انجمن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور و معروف عالم دین رئیس القلم علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ (ولادت: 5 مارچ 1925ء – وفات: 29 اپریل 2002ء) نے اپنے ایک مکتوب میں ان الفاظ میں انجمن کے کام کو سراہا ہے اور حضرت علامہؒ کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
”رسائل کے ذریعہ انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کی سرگرمیوں کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت وسیع دائرے میں آپ حضرات نے اس کے تعلیمی اور تبلیغی مِشن کو پھیلا دیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ مذہبی اور جماعتی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں کے درمیان دستوری نظم و ضبط کی خبریں پڑھ کر ایک ذہین اور فعال اور سوزِ قیادت کا غائبانہ یقین دل میں پیدا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے سُنی مسلمانوں کی دینی ارجمندی قابلِ رشک ہے کہ اس دورِ پُر فتن میں انہیں انجمن تبلیغ الاسلام جیسی صالح، حق پرست، ایمان پرور اور سلفِ صالحین کی روایات و افکار کا احترام کرنے والی تنظیم سے منسلک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میں انجمن تبلیغ الاسلام کے قائدین سے مودّبانہ گذارش کروں گا کہ وہ کشمیر کی وادی سے باہر ملک کے دوسرے خطوں میں بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ کروڑوں خوش عقیدہ مسلمانانِ ہند پُرجوش جذبہ محبت کے ساتھ اُن کی آواز کا خیر مقدم کریں گے۔…..“
(ماہنامہ الاعتقاد، جون/جولائی 1977)
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کو کون نہیں جانتا ۔ آپؒ کئی معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنّف ہیں جن میں ”زلزلہ “ ، ”لالہ زار“ ”بزبان حکایت“ اور ”تجلیاتِ رضا“ شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ آپؒ عالمگیر غیر سیاسی دینی و دعوتی جماعت ”دعوتِ اسلامی“ کے بانیوں میں سے ہیں۔ ایسی شخصیت کا حضرت علامہؒ اور انجمن تبلیغ الاسلام کے بارے میں اس طرح کا اظہارِ خیال کرنا ان لوگوں کےلئے چشم کشا ہونا چاہیے جن کے پیشِ نظر صرف تفرقہ بازی ہے اور جو مختلف حربوں سے اہلسنت میں خلیج کے درپے ہیں۔
  جولائی 1988ء میں مجلس عاملہ اور شوریٰ کے پہلے تعارفی اجلاس میں امیر شریعت  علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ زعماءِ انجمن سے یوں مخاطب ہوئے:
  ”یاد رکھئے کہ زمانۂ مستقبل کے مسلمان آپ کو بھی مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس وقت آپ کو ”وَتَوَا صَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“ یاد رہنا چاہیے اور اس وقت یہ بھی عرض کروںگاکہ ظالم زمانہ نے مجھے کافی نصیحت دی ہے۔ لہٰذا کوئی کلیدی عہدہ کسی ایک فرد کے ر حم وکرم پر نہیں ہونا چاہیے۔ خاص کر صدر انجمن کی کارکردگی سے تینوں نائبین صدور زبانی اور تحریری باخبر ہونے چاہیے۔اسی طرح باقی عہدوں کا بھی حال ہونا چاہیے، تاکہ انجمن ہر قسم کے خدع و مکر سےمحفوظ اور مصئوں رہے اور ہم اپنے قدیم وجدید اخوان الصّفا کے بھی دلی شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے میرے زمانہ میں انجمن یا ادارہ کو اپنی خدما ت سے نوازا۔“
(نورِ دل از پروفیسر غلام حسن زرگر، صفحہ 211)
اس نصیحت آموزخطاب سےایک طرف آپؒ کے مخلصانہ کردار کا پتہ چلتا ہے اور دوسری طرف انجمن کے اراکین اورہر سطح کے ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری کے لئے جواب دہی کا احساس کروا رہا ہے۔ لہٰذا انجمن کے زعماء کرام کو اپنے قائدِ محترمؒ کے کردار کو سامنے رکھ کر ہی اہم امور کے بارے میں فیصلہ لینا چاہیے۔
بہتر کارکردگی کے لئے تجاویز
اس مختصر مضمون میں کمہ حقہٗ انجمن تبلیغ الاسلام کے شاندار ماضی اور حضرت علامہ بخاریؒ کے کام اور انجمن کے تئیں ان کی خدمات کا بھی مختصرًا جائزہ لیا گیا۔ دورِ حاضر میں انجمن کی حالت کیا ہے یہ سب پر عیاں ہے! اس قدیم جماعت کو اگر قائدانہ رول نبھانا ہے تو اس کے اراکین و زعماء کو تندہی سے کام کرنا ہوگا۔ آپسی رساکشی کسی بھی جماعت کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، اس جماعت کے ذمہ داروں کو اخوّت کا مظاہرہ کرکے آپسی رساکشی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انجمن کو خود غرض اور انّاپرست لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے (آمین)۔
انجمن تبلیغ الاسلام کے اراکین و ذمہ داروں کو دورِ حاضر میںrelevant بننے کے لئے مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے:
(1)  انجمن کی انفرادیت کو ہر صورت میں قائم رکھنا ہے۔ جس طرح حضرت علامہؒ نے اس جماعت کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھ کر معتدل خطوط پر کام کیا، آج بھی انہی خطوط پر چلنے کی ضرورت ہے۔ دورِ حاضر میں ہماری نوجوان نسل اس ”معتدل فکر“ کی تلاش میں ہےجس میں کوئی کنفیوژن نہ ہو۔
(2)  حضرت علامہؒ کی تصانیف کو نئے انداز میں منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی پود اس سے پوری طرح استفادہ حاصل کرے۔اس سلسلے میں جناب سید عارف احمد قادری صاحب کافی تگ و دو کر رہے ہیں اور انہوں نے ”علامہ بخاریؒ اور ان کے عقائد“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس کی بہت پذیریائی ہوئی۔
(3)  آئین کے دائرہ میں رہ کر”ہر سطح کے نظم“ کو احتساب کے دائرے میں لانا چاہیے تاکہ کام میں سرعت اور خاطر خواہ نتائج بھی حاصل ہو سکیں۔
(4)  جو نوجوان انجمن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کی دینی و اخلاقی تربیت کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ 2016ء میں مرکزی سطح پر ماہانہ تربیتی پروگرام ترتیب دئیے گئے تھے جس کو عوامی سطح پر کافی سراہنا کی گئی، لیکن پھر اس سلسلے کو بند کیا گیا۔
(5)  اراکینِ انجمن کو بھی چاہیے کہ وہ تنظیمی معاملات میں دلچسپی لیں تاکہ فیصلہ سازی میں ان کی رائے کا لحاظ رکھا جائے۔
(6)  حنفی عربی کالج سے فراغت پانے والے علماء سے روابط قائم کئے جائے اور ان کو جماعت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جائے۔
موضوع کے اعتبار سے یہاں ماہنامہ ”المصباح“ کے مدیر محترم ڈاکٹر تنویر حیاتؔ صاحب کا سوال اور جناب مختار احمد صاحب کا جواب (یا رائے) درج کی جاتی ہے تاکہ متعلقین غور فرمائیں:
سوال: انجمن کا موجودہ صورتحال اور مستقبل کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے!!
جواب: ”میں نے، جب فاروق بخاری (علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ کے فرزند) اللہ کو پیارے ہوئے تھے، لکھا افسوس ”در قبیلہ قیس کسے نماند“۔ در اصل وہاں چمن کو کوئی دیدہ ور نہ رہا ورنہ کام کرنے کا مزاج ابھی بھی قابل تعریف ہے۔تنظیمی نظم بگڑ چکا ہے اور شیرازہ بندی کرنے والاکوئی نہیں۔چاہنے والے قدردان اب بھی ہیں۔تنظیم کو عوامی ترجمان بننا ہوگا ۔ بار گراں اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ مستقبل کے بارے میں اس طرح گزارش ہوگی کہ ایسے لوگوں کی تلاش کی جائے جو” فکری“ ہوں اور انجمن کے ابناء ہوں، انہیں کارگزاری کا مکمل چارج دیا جائے اور اصلی جنرل سیکرٹری و دیگر نائب صدور صاحبان اپنی جگہ بدستور رہیں۔ابنائے انجمن صدر تنظیم کے سامنے جوابدہ رہیں گے۔اس ذیلی گروپ میں با صلاحیت قلمکاروں، خطباء اور تنظیم سازوں کو اجرت پر رکھا جائے۔تب بھی بہت جلد زیادہ مثبت کام دیکھنے کو نہ ملے تاہم اگر صحیح سمت ملے کم نہیں۔فرید صاحب(موجودہ صدر انجمن تبلیغ الاسلام مولانا سید فرید الرحمٰن بخاری ) کےبیٹے اور اگر دوسرے بھائی کا فرزند ہو، انہیں تیار کیا جائے۔فاروق بخاری کی کسی دختر کو شعبہ خواتین کی ذمہ داری سونپی جائے۔“
توقع ہے کہ زعماءِ انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر اپنے قائد و رہنما امیر شریعت علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاری   کی بے لوث دینی خدمات کو نسلِ نَو تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؒ کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اراکینِ انجمن کی رہنمائی فرماتے رہیں گے اور انجمن سے جڑے نوجوانوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں گے۔
(ختم شُد)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

انجمن تبلیغ الاسلام اور علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاریؒ

سید آصف رضا
 انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر – ایک تعارف:
انجمن تبلیغ الاسلام کو جموں و کشمیر کے سنی مسلمانوں کی اوّلین دینی جماعت ہونے کا شرف حاصل ہے۔1930ء کے اواخرمیں جموں و کشمیر کے سرکردہ مشائخ اور علماء کا اجلاس منعقد کیا گیا جس میں گمراہ کُن نظریات کی روک تھام کے لئے ایک تحریک کی شروعات کرنے کا فیصلہ لیا گیا۔ اور باتفاق رائے 1931ء سے ’’انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر‘‘ کے نام سے اپنے کام کا آغاز کیا۔
انجمن تبلیغ الاسلام کی تاریخ کے بارے میں اس کا دستور ان سطور میں روشنی ڈالتاہے:
”1930ء کے اواخر میں سابق سجادہ نشین درگاہِ غوثیہ خانیار شریف سرینگر مجاہد ملت حضرت میر سید مقبول شاہ گیلانیؒ (متوفی پاکستان) کے دولت خانہ پر اہلسنت و الجماعت سے وابستہ علماء کرام، ائمہ حضرات، سرکردہ شخصیات کے علاوہ سجادہ نشین حضرات پر مشتمل ایک عظیم الشان تاریخی اجتماع منعقد ہوا۔ وقت کے اہم تقاضوں کے پیشِ نظر طویل بحث و مباحثہ کے بعد ’’انجمن تبلیغ الاسلام‘‘ کے نام پر ایک دینی تحریک کا قیام عمل میں لایا گیا۔ اجلاس میں باتفاق رائے مرحوم میر سید محمد مقبول گیلانیؒ (سجادہ نشین درگاہ غوثیہ خانیار) انجمن کے صدر منتخب ہوئے، مولانا محمد سعید مسعودی نائب صدر، پیر محمد رفیق جنرل سکریٹری اور میر سید محمد فاضل قادری منطقی مشیر اعلیٰ کے عہدوں پر فائز ہوئے۔ ریاست کشمیر کے جلیل القدر علماء و مشائخ پر مشتمل مجلسِ عاملہ اور مجلس شوریٰ عمل میں لائی گئی۔ اس ریاست گیر انجمن کا پھیلاو کشمیر کے اکناف و اطراف میں ہوا اور جگہ جگہ اس کے اجتماعات منعقد ہونے لگے۔“
(دستور انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر، صفحہ 12، مارچ 2008ء)
انجمن کے بانیوں نے اس دینی جماعت کو معتدل ”مزاج رکھنے والی جماعت“ کے طور پر اس خطے کے مسلمانوں کے سامنے پیش کیا۔چونکہ انجمن اسی فکر کی امین ہونے کا دعویٰ کرتی ہے جس فکر کو امیر کبیر میر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ علیہ نے یہاں رائج کیا اور جس فکر کو حضرت سلطان العارفین شیخ حمزہ مخدوم رحمۃ اللہ علیہ کی قیادت میں پروان چڑھایا گیا۔ اس دعویٰ میں کتنی سچائی ہے ، اس کو انجمن کے آٹھ دہائیوں پر مشتمل لٹریچر اور کارکردگی سے پرکھا جا سکتا ہے۔
1962ء میں سرپرست انجمن تبلیغ الاسلام فقیر ملت حضرت سیّد میرک شاہ کاشانی رحمۃ اللہ علیہ کی صدارت میں ہوئے کل ریاستی اجتماع میں امیر شریعت حضرت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ کو باتفاق رائے انجمن کا صدر منتخب کیا گیا۔ اس کو خوش قسمتی سے ہی تعبیر کیا جا سکتا ہے کہ معتدل سمجھی جانے والی ”انجمن تبلیغ الاسلام“ کو علامہ بخاریؒ جیسا معتدل مزاج صدر و رہنما عنایت ہوا، جس نے اپنی بے لوث خدمات سے انجمن کوبلندیوں تک پہنچایا۔ انجمن کے لئے آپؒ کا دورِ صدارت سنہرا دور کہا جائے تو بیجا نہ ہوگا۔
علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ
اَمیرِ شریعت علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رَحمۃ اللہ علیہ( 1910 ء -2000ء) سری نگر کے عید گاہ علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپؒ ایک علمی گھرانے کے چشم و چراغ تھے۔ آپؒ کے والدِ گرامی علامہ سید عبد الکبیر بخاری رَحمۃ اللہ علیہ کا شمار بھی وادی کشمیر کے بڑے علماء میں ہوتا ہے۔ آپؒ14 سال تک تحصیلِ علم کے لئے گھر سے دُور رہے۔ آپؒ ایک شریں بیاں مقرر ہونے کے ساتھ ساتھ اعلیٰ پایہ کے مصنف بھی تھے اور مختلف موضوعات پر تقریباً 115 کتابیں تصنیف فرمائی۔ آپؒ نے تبلیغِ دین کے سلسلے جو کارہائے نمایاں انجام دئیے ہیں وہ آبِ زَر سے لکھنے کے قابل ہیں۔ آپؒ نے علوم دینی کے نشر و اشاعت کے لئے ”حنفی عربی کالج“ قائم کیا جہاں سے آج بھی تشنگانِ علم اپنی علمی پیاس بجھاتے ہیں۔آپؒ کے شاگردوں میں مفتی اعظم جموں و کشمیر مولانا مفتی بشیر الدین صاحب سے لے کر شہید قاضی نثارصاحب تک اور دورِ حاضر میں خطیبِ ملت مولانا مشتاق احمد خان صاحبؒ تک جید علماء رہے ہیں۔ آپؒ نے پہلے ”التبلیغ“ نامی ماہنامہ رسالہ جاری فرمایا اور پھر کچھ عرصہ کے بعد ماہنامہ ”الاعتقاد“ کو شروع کیا (جس کی اشاعت تاہنوز جاری ہے)۔
جیسا کہ اوپر ذکر کیا گیا کہ آپؒ کے مزاج میںشدّت کے بجائے اعتدال پایا جاتا تھا۔ یہ آپؒ کے اسی متعدل مزاج کا اثر تھا کہ مسلمانوں کے ہر مکتبۂ فکر سے وابستہ خواص و عوام آپؒ کی عزّت کرتے تھے اور حضرت علامہؒ بھی حکمِ ربّانی ”وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى“ کے تحت دینی و ملّی امور میں تعاون فرماتے تھے۔مختلف دینی جماعتوں کے ساتھ عملی تعاون کے ساتھ ساتھ علمی مشاغل میں بھی تعاون فرماتے تھے۔ ماہنامہ ”التبلیغ“ کے مارچ 1968ء کے شمارے میں ”نزول قرآن نمبر“ کےتعلق سے ایک اشتہارشائع ہوا جس میں مختلف مکاتیبِ فکرکے جیدعلماء و مفکرین کے مقالے شائع کرنے کا اعلان کیا گیا، جن علماء و مفکرین کے نام اس اشتہار میں دئیے گئے وہ اس طرح ہیں:
مولانا اخلاق حسین قاسمی (ناظم جمعیۃ العلماء دہلی)، مولانا ابو الکلام آزاد، مولانا نعیم صدیقی ، مولانا محمد عبّاس انصاری (شیعہ عالم و صدر اتحاد المسلمین)، مولانا واعظ غلام نبی مبارکی (صدر بزمِ توحید اہلحدیث) اور جناب پیر سعد الدّین (جماعت اسلامی)
علامہ بخاریؒ بحیثیتِ قائدِ انجمن
علامہ بخاریؒ کا شمار ایسے قائدین میں ہوتا ہے جو ”منصب“ کو امانت سمجھتے ہیں اور ”سَیِّدُ الْقَوْمِ خَادِمُهُمْ“ کا عملی مظاہرہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ 1981ء میں یاری پورہ( کولگام) میں ایک جلسہ کے خطبۂ صدارت میں حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اراکین و زعماءِ انجمن کو یوں نصیحت فرمائی :
 ”آپ سب مخدوم ہیں ،میں ادنیٰ خادم ہُوں ۔آپ مقتدیٰ ہیں اور میں مقتدی ہوں اور آپ انجمن تبلیغ الاسلام ہیں اور میں آپ کا چپراسی ہوں ۔مگر چپراسی وہی ہوسکتا ہے جو اپنے ادارہ کو چوروں اور عیاروں سے بچائے۔“
 (نورِ دل از پروفیسر غلام حسن زرگر، صفحہ 178)
  اس مختصر مگر پُر مغز اقتباس سے ہماری دینی جماعتوں کے قائدین کو سبق بھی ملتا ہے کہ پر خلوص لیڈر و قائد وہی ہے جو اپنے ذاتی مفادات کی پروا کئے بغیر اپنے مخلص ساتھیوں کی حوصلہ افزائی کرے اور اپنی جماعت کو بھی مفاد پرستوں سے بچائے رکھے۔
  ایک طرف حضرت علامہ رحمۃ اللہ علیہ نے اولیاءِ کرامؒ کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئےکشمیر کے دوردراز علاقوں، جہاں کے راستے اکثر پیدل طے کرنے پڑتے، میں دینی بیداری پیدا کرنے کی کوشش کی اور ساتھ ہی وہاں (مرکزی حیثیت کو پیش نظر رکھتے ہوئے) ”حنفی“ سکول قائم فرمائے۔ دوسری طرف انجمن کی طرف سے ماہنامہ اور دوسری کتب کے ذریعہ انجمن کی آواز کو ملک بھر میں پہنچا دیا۔ حضرت علامہؒ کے دورِ صدارت میں انجمن کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مشہور و معروف عالم دین رئیس القلم علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ (ولادت: 5 مارچ 1925ء – وفات: 29 اپریل 2002ء) نے اپنے ایک مکتوب میں ان الفاظ میں انجمن کے کام کو سراہا ہے اور حضرت علامہؒ کی محنت کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے:
”رسائل کے ذریعہ انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر کی سرگرمیوں کی رپورٹ سے پتہ چلتا ہے کہ بہت وسیع دائرے میں آپ حضرات نے اس کے تعلیمی اور تبلیغی مِشن کو پھیلا دیاہے۔ خصوصیت کے ساتھ مذہبی اور جماعتی فلاح و بہبود کے مختلف شعبوں کے درمیان دستوری نظم و ضبط کی خبریں پڑھ کر ایک ذہین اور فعال اور سوزِ قیادت کا غائبانہ یقین دل میں پیدا ہو گیا ہے۔ جموں و کشمیر کے سُنی مسلمانوں کی دینی ارجمندی قابلِ رشک ہے کہ اس دورِ پُر فتن میں انہیں انجمن تبلیغ الاسلام جیسی صالح، حق پرست، ایمان پرور اور سلفِ صالحین کی روایات و افکار کا احترام کرنے والی تنظیم سے منسلک ہونے کا شرف حاصل ہے۔ میں انجمن تبلیغ الاسلام کے قائدین سے مودّبانہ گذارش کروں گا کہ وہ کشمیر کی وادی سے باہر ملک کے دوسرے خطوں میں بھی اپنی آواز پہنچائیں۔ کروڑوں خوش عقیدہ مسلمانانِ ہند پُرجوش جذبہ محبت کے ساتھ اُن کی آواز کا خیر مقدم کریں گے۔…..“
(ماہنامہ الاعتقاد، جون/جولائی 1977)
علامہ ارشد القادری رحمۃ اللہ علیہ کو کون نہیں جانتا ۔ آپؒ کئی معرکۃ الآرا کتابوں کے مصنّف ہیں جن میں ”زلزلہ “ ، ”لالہ زار“ ”بزبان حکایت“ اور ”تجلیاتِ رضا“ شامل ہیں۔ اس کےعلاوہ آپؒ عالمگیر غیر سیاسی دینی و دعوتی جماعت ”دعوتِ اسلامی“ کے بانیوں میں سے ہیں۔ ایسی شخصیت کا حضرت علامہؒ اور انجمن تبلیغ الاسلام کے بارے میں اس طرح کا اظہارِ خیال کرنا ان لوگوں کےلئے چشم کشا ہونا چاہیے جن کے پیشِ نظر صرف تفرقہ بازی ہے اور جو مختلف حربوں سے اہلسنت میں خلیج کے درپے ہیں۔
  جولائی 1988ء میں مجلس عاملہ اور شوریٰ کے پہلے تعارفی اجلاس میں امیر شریعت  علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاری رحمۃ اللہ علیہ زعماءِ انجمن سے یوں مخاطب ہوئے:
  ”یاد رکھئے کہ زمانۂ مستقبل کے مسلمان آپ کو بھی مشکلات میں ڈالنے کی کوشش کریں گے۔اس وقت آپ کو ”وَتَوَا صَوْا بِالْحَقِّ وَتَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ“ یاد رہنا چاہیے اور اس وقت یہ بھی عرض کروںگاکہ ظالم زمانہ نے مجھے کافی نصیحت دی ہے۔ لہٰذا کوئی کلیدی عہدہ کسی ایک فرد کے ر حم وکرم پر نہیں ہونا چاہیے۔ خاص کر صدر انجمن کی کارکردگی سے تینوں نائبین صدور زبانی اور تحریری باخبر ہونے چاہیے۔اسی طرح باقی عہدوں کا بھی حال ہونا چاہیے، تاکہ انجمن ہر قسم کے خدع و مکر سےمحفوظ اور مصئوں رہے اور ہم اپنے قدیم وجدید اخوان الصّفا کے بھی دلی شکر گزار ہیں کہ جنہوں نے میرے زمانہ میں انجمن یا ادارہ کو اپنی خدما ت سے نوازا۔“
(نورِ دل از پروفیسر غلام حسن زرگر، صفحہ 211)
اس نصیحت آموزخطاب سےایک طرف آپؒ کے مخلصانہ کردار کا پتہ چلتا ہے اور دوسری طرف انجمن کے اراکین اورہر سطح کے ذمہ دار کو اپنی ذمہ داری کے لئے جواب دہی کا احساس کروا رہا ہے۔ لہٰذا انجمن کے زعماء کرام کو اپنے قائدِ محترمؒ کے کردار کو سامنے رکھ کر ہی اہم امور کے بارے میں فیصلہ لینا چاہیے۔
بہتر کارکردگی کے لئے تجاویز
اس مختصر مضمون میں کمہ حقہٗ انجمن تبلیغ الاسلام کے شاندار ماضی اور حضرت علامہ بخاریؒ کے کام اور انجمن کے تئیں ان کی خدمات کا بھی مختصرًا جائزہ لیا گیا۔ دورِ حاضر میں انجمن کی حالت کیا ہے یہ سب پر عیاں ہے! اس قدیم جماعت کو اگر قائدانہ رول نبھانا ہے تو اس کے اراکین و زعماء کو تندہی سے کام کرنا ہوگا۔ آپسی رساکشی کسی بھی جماعت کو تباہ و برباد کر دیتی ہے، اس جماعت کے ذمہ داروں کو اخوّت کا مظاہرہ کرکے آپسی رساکشی کو ہمیشہ کے لئے ختم کرنا ہوگا۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ انجمن کو خود غرض اور انّاپرست لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے (آمین)۔
انجمن تبلیغ الاسلام کے اراکین و ذمہ داروں کو دورِ حاضر میںrelevant بننے کے لئے مندرجہ ذیل امور پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے:
(1)  انجمن کی انفرادیت کو ہر صورت میں قائم رکھنا ہے۔ جس طرح حضرت علامہؒ نے اس جماعت کو افراط و تفریط سے محفوظ رکھ کر معتدل خطوط پر کام کیا، آج بھی انہی خطوط پر چلنے کی ضرورت ہے۔ دورِ حاضر میں ہماری نوجوان نسل اس ”معتدل فکر“ کی تلاش میں ہےجس میں کوئی کنفیوژن نہ ہو۔
(2)  حضرت علامہؒ کی تصانیف کو نئے انداز میں منظر عام پر لانے کی ضرورت ہے تاکہ نئی پود اس سے پوری طرح استفادہ حاصل کرے۔اس سلسلے میں جناب سید عارف احمد قادری صاحب کافی تگ و دو کر رہے ہیں اور انہوں نے ”علامہ بخاریؒ اور ان کے عقائد“ کے نام سے ایک کتاب شائع کی جس کی بہت پذیریائی ہوئی۔
(3)  آئین کے دائرہ میں رہ کر”ہر سطح کے نظم“ کو احتساب کے دائرے میں لانا چاہیے تاکہ کام میں سرعت اور خاطر خواہ نتائج بھی حاصل ہو سکیں۔
(4)  جو نوجوان انجمن کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں ان کی دینی و اخلاقی تربیت کرنے کی طرف دھیان دینا چاہیے۔ 2016ء میں مرکزی سطح پر ماہانہ تربیتی پروگرام ترتیب دئیے گئے تھے جس کو عوامی سطح پر کافی سراہنا کی گئی، لیکن پھر اس سلسلے کو بند کیا گیا۔
(5)  اراکینِ انجمن کو بھی چاہیے کہ وہ تنظیمی معاملات میں دلچسپی لیں تاکہ فیصلہ سازی میں ان کی رائے کا لحاظ رکھا جائے۔
(6)  حنفی عربی کالج سے فراغت پانے والے علماء سے روابط قائم کئے جائے اور ان کو جماعت کے ساتھ جوڑنے کی کوشش کی جائے۔
موضوع کے اعتبار سے یہاں ماہنامہ ”المصباح“ کے مدیر محترم ڈاکٹر تنویر حیاتؔ صاحب کا سوال اور جناب مختار احمد صاحب کا جواب (یا رائے) درج کی جاتی ہے تاکہ متعلقین غور فرمائیں:
سوال: انجمن کا موجودہ صورتحال اور مستقبل کے بارے میں آپ کی رائے درکار ہے!!
جواب: ”میں نے، جب فاروق بخاری (علامہ سید محمد قاسم شاہ بخاریؒ کے فرزند) اللہ کو پیارے ہوئے تھے، لکھا افسوس ”در قبیلہ قیس کسے نماند“۔ در اصل وہاں چمن کو کوئی دیدہ ور نہ رہا ورنہ کام کرنے کا مزاج ابھی بھی قابل تعریف ہے۔تنظیمی نظم بگڑ چکا ہے اور شیرازہ بندی کرنے والاکوئی نہیں۔چاہنے والے قدردان اب بھی ہیں۔تنظیم کو عوامی ترجمان بننا ہوگا ۔ بار گراں اٹھانے کے لیے کوئی تیار نہیں۔ مستقبل کے بارے میں اس طرح گزارش ہوگی کہ ایسے لوگوں کی تلاش کی جائے جو” فکری“ ہوں اور انجمن کے ابناء ہوں، انہیں کارگزاری کا مکمل چارج دیا جائے اور اصلی جنرل سیکرٹری و دیگر نائب صدور صاحبان اپنی جگہ بدستور رہیں۔ابنائے انجمن صدر تنظیم کے سامنے جوابدہ رہیں گے۔اس ذیلی گروپ میں با صلاحیت قلمکاروں، خطباء اور تنظیم سازوں کو اجرت پر رکھا جائے۔تب بھی بہت جلد زیادہ مثبت کام دیکھنے کو نہ ملے تاہم اگر صحیح سمت ملے کم نہیں۔فرید صاحب(موجودہ صدر انجمن تبلیغ الاسلام مولانا سید فرید الرحمٰن بخاری ) کےبیٹے اور اگر دوسرے بھائی کا فرزند ہو، انہیں تیار کیا جائے۔فاروق بخاری کی کسی دختر کو شعبہ خواتین کی ذمہ داری سونپی جائے۔“
توقع ہے کہ زعماءِ انجمن تبلیغ الاسلام جموں و کشمیر اپنے قائد و رہنما امیر شریعت علامہ سیّد محمد قاسم شاہ بخاری   کی بے لوث دینی خدمات کو نسلِ نَو تک پہنچانے کی بھر پور کوشش کریں گے۔ اس کے ساتھ ساتھ آپؒ کے مشن کو پایۂ تکمیل تک پہنچانے میں اراکینِ انجمن کی رہنمائی فرماتے رہیں گے اور انجمن سے جڑے نوجوانوں کی تربیت بھی اسی نہج پر کریں گے۔
(ختم شُد)

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں