
جاوید بھارتی
یوں تو سوشل میڈیا پر ایک سے ایک پوسٹ نظر سے گزرتی ہے، سماج میں طرح طرح کی روایات، رسمیں اور تقریبات دیکھنے کو ملتی ہیں، لیکن کبھی کبھی کچھ ایسی چیزیں سامنے آتی ہیں جو دل کو جھنجھوڑ دیتی ہیں، آنکھوں سے آنسو نکل آتے ہیں اور انسان بہت کچھ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔
دنیا میں ایسے انسان بھی ہیں جن کے پاس آنکھیں ہیں مگر بینائی نہیں، ہاتھ ہیں مگر پکڑنے کی طاقت نہیں، پاؤں ہیں مگر چلنے کی صلاحیت نہیں، دل و دماغ ہے مگر سوچنے، سمجھنے اور فیصلہ کرنے کی قوت نہیں۔ اور دنیا میں ایسے لوگ بھی ہیں جن کے سینے میں دل تو ہے مگر احساس کے لیے فرصت نہیں۔ یہی وہ انسان ہے جو خود غرضی، غرور اور بے حسی کی چادر اوڑھ لیتا ہے۔
ایک انسان کے لیے ضروری ہے کہ وہ انسانیت کی چادر اوڑھے، خدمتِ خلق میں حصہ لے، ایک انسان دوسرے انسان کے کام آئے، بڑوں کا احترام کرے اور چھوٹوں پر شفقت و محبت کی نظر ڈالے۔ روایات میں یہاں تک آیا ہے کہ جو اپنے بڑوں کی عزت نہ کرے اور چھوٹوں پر شفقت نہ کرے، وہ کامل مومن نہیں۔
اگر ایک انسان کے اعضاء سے دوسرے انسان کو تکلیف پہنچے تو وہ مومن نہیں، تجارت میں دھوکا دے تو وہ مومن نہیں، رشتوں میں دراڑ ڈالے تو وہ مومن نہیں، اور جو اپنے مفاد کے لیے جھوٹ، غیبت اور چغلی کا سہارا لے، وہ بھی مومن نہیں۔
اسی طرح اگر ایک مسلمان کسی انسان کو مصیبت میں مبتلا، مشکلات میں کراہتا ہوا دیکھے اور اس کے باوجود اس کا دل نہ پسیجے، اس پر رحم نہ آئے، ہمدردی پیدا نہ ہو، تو وہ شخص حاجی، نمازی، محدث، مفکر، مقرر یا مناظر تو ہو سکتا ہے، مگر نیک نہیں ہو سکتا۔
ذرا غور کریں کہ آج ہم کہاں کھڑے ہیں، ہماری اصل حیثیت کیا ہے اور ہم خود کو سمجھتے کیا ہیں۔ کسی کی بھوک پیاس کا ہمیں احساس نہیں، کسی کے دکھ درد کا ہمیں احساس نہیں، کسی کی غربت اور مجبوری کا ہمیں احساس نہیں۔ مسجد کا متولی بن کر امام پر دھونس جمائی جاتی ہے، مدرسے کا ناظم بن کر علماء کو کمتر سمجھا جاتا ہے، خطیب بن کر منبرِ رسول ﷺ سے قصے کہانیاں سنائی جاتی ہیں، اچھی آواز ملی تو اسٹیج پر آنے کے لیے فیس مقرر کی جاتی ہے، نعت خوانی کو کمائی کا ذریعہ بنا لیا گیا ہے، اور آسودگی ملی تو مزدوروں کا خون چوسا جانے لگا ہے۔
درس و تدریس کے میدان میں تھوڑی بلندی ملی تو اپنے ہی گھر والوں، بھائیوں اور بہنوں کو حقارت سے دیکھا جانے لگا۔ کل تک خانقاہوں سے دین کی تبلیغ ہوتی تھی، آج انہیں پیٹ اور جیب بھرنے کا ذریعہ بنایا جا رہا ہے۔ کل تک خانقاہوں کے اطراف عقیدت، محبت اور ادب کا ماحول ہوتا تھا، آج وہاں بے راہ روی اور بے ادبی کے مناظر دیکھے جا رہے ہیں۔ حالانکہ ہونا یہ چاہیے کہ ہم اولیاء کرام کے آستانوں پر جائیں تو اپنے اعمال و افعال کا محاسبہ کریں اور سوچیں کہ آخر ان ہستیوں نے کون سے ایسے اعمال کیے کہ مرنے کے بعد بھی مرکزِ عقیدت بنے ہوئے ہیں۔ اللہ تعالیٰ اولیاء کرام کے مزارات پر انوار و رحمت کی بارش فرمائے، آمین۔
میدانِ محشر میں سب کو جمع ہونا ہے، سب کو سوال و جواب کا سامنا کرنا ہے۔ امیر ہو یا غریب، بادشاہ ہو یا فقیر، شہری ہو یا دیہاتی، عربی ہو یا عجمی، گورا ہو یا کالا، سب کو اپنے اعمال کے مطابق جزا یا سزا ملے گی۔ وہاں نہ رشوت چلے گی، نہ سفارش۔ سوال کرنے والی ذات اللہ رب العالمین کی ہوگی۔ اس کی بارگاہ میں سب انسان صف آرا ہوں گے اور گرجدار آواز آئے گی: "لِمَنِ الْمُلْکُ الْیَوْمَ” یعنی آج بادشاہی کس کی ہے؟
اس آواز کو سن کر وہ سب لوگ بھی لرز اٹھیں گے جو دنیا میں بڑے پروٹوکول اور سیکورٹی کے ساتھ چلتے تھے، جن کے ایک حکم سے لوگوں کی زندگیاں بدل جاتی تھیں۔ مگر وہاں سب بے بس ہوں گے۔ دنیا میں اپنا حکم چلانے والوں کو وہاں اپنے جسم کے کسی حصے پر بھی اختیار حاصل نہ ہوگا۔
اے عرب کے حکمرانوں! جب اللہ تعالیٰ سوال کرے گا کہ میرے بندوں کو موت کے گھاٹ اتارا جا رہا تھا، ان کی نسل کشی ہو رہی تھی، ان پر بم برسائے جا رہے تھے، ان کے جسموں کے ٹکڑے ہوا میں اڑائے جا رہے تھے، تو تم کیوں خاموش تھے؟ جب میرے بندے بھوک، پیاس، بے گھری اور بے بسی میں مبتلا تھے، تو تم رقص و سرور کی محفلیں کیوں سجا رہے تھے؟ جب دنیا میں میرے بندے مظلوم تھے، تو تم ظالم کا استقبال کیوں کر رہے تھے؟
یہاں تک کہ جب تمہاری مسجد کا امام بھوک سے اس حال میں تھا کہ منبر پر کھڑے ہونے اور خطبہ دینے کی طاقت نہ رکھتا تھا، اور وہ صرف یہ کہہ کر نماز شروع کرا دیتا تھا کہ "میں بھی بھوکا ہوں اور تم بھی بھوکے ہو”، تو اے مسلم ممالک کے حکمرانوں! اس منظر کے بارے میں جب ربِ ذوالجلال سوال کرے گا، تو تمہارے پاس کیا جواب ہوگا؟
اے عرب ممالک کے لوگوں اور حکمرانوں! اللہ نے تمہیں فضیلت عطا کی۔ خانہ کعبہ تمہاری سرزمین پر، قرآن تمہاری زبان میں اور تمہاری سرزمین پر نازل ہوا، خاتم الانبیاء ﷺ کی ولادت تمہاری سرزمین پر ہوئی، ام القریٰ تمہاری سرزمین پر ہے، بدر، احد، خندق اور حنین جیسی عظیم اسلامی جنگیں تمہاری سرزمین پر ہوئیں۔ اس کے باوجود تم انہی یہود و نصاریٰ کو اپنا دوست بنا رہے ہو جن سے قرآن نے خبردار کیا تھا۔
تم مسجد میں جا کر کہتے ہو: "ایاک نعبد و ایاک نستعین” مگر محل میں بیٹھ کر مدد امریکہ اور یوکرین سے مانگتے ہو۔ قرآن پڑھتے ہو: "وتعز من تشاء وتذل من تشاء” مگر عزت و تحفظ کے لیے امریکہ کے در پر جاتے ہو۔ یہی وجہ ہے کہ تمہارے پاس تیل، سونا، چاندی، ہیرے جواہرات اور دولت کے انبار ہونے کے باوجود تمہیں اسرائیل اور امریکہ انگلیوں پر نچا رہے ہیں۔ اس کی وجہ تمہارے قول و فعل کا تضاد ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ آج دنیا میں 57 مسلم ممالک ہیں، مگر ایران کو چھوڑ کر باقی اکثر ربڑ اسٹمپ بن کر رہ گئے ہیں۔ ان کی حیثیت صرف چمچماتی گاڑیوں، عیش و عشرت، کھانے پینے اور ظاہری شان و شوکت تک محدود ہو چکی ہے۔ یہ اپنے ملکوں کی حفاظت کی حقیقی صلاحیت سے بھی محروم ہوتے جا رہے ہیں۔
اگر ان ممالک کے حکمرانوں نے اپنا طرزِ عمل تبدیل نہ کیا، تو وہ دن بھی آ سکتا ہے جب سب کچھ چھن جائے گا، یہاں تک کہ حکومت کی باگ ڈور بھی ہاتھ سے نکل جائے گی۔ اس لیے اب بھی وقت ہے کہ آنکھیں کھولی جائیں، سوچا جائے، سمجھا جائے اور صحیح فیصلہ لیا جائے، ورنہ بربادی کی آہٹ تو اب ہر روز سنائی دے رہی ہے۔
ززز


