ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ہی خودفریبی کے شکار ہیں

بےنام گیلانی

عہدِ حاضر میں دنیا کے جو حالات ہیں، وہ ناقابلِ بیان محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دنیا سے انسانیت بالکل رخصت ہو چکی ہے۔ انسانی ہمدردی، انسانی جذبات و احساسات اور دیگر اعلیٰ انسانی صفات دنیا سے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر مشرقی برصغیر کے حالات تو مزید ناگفتہ بہ ہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ انسانیت کی پاسداری، جو اسلام کی سب سے اہم شرط ہے، آج عالمِ اسلام ہی سے ناپید ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جس نااتفاقی کے اندیشے کے تحت اسلام نے ملوکیت سے احتراز برتنے کا حکم دیا اور وراثت کے بجائے خلافت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، آج اسلامی ممالک کے حکمران اسی ملوکیت کے غلام بنے بیٹھے ہیں اور خلافت کو شجرِ ممنوعہ تصور کیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اسلام کو خطرات سے دوچار نظر آنا لازمی ہے۔
ان خطرات کا باعث کوئی کافر یا مشرک نہیں، بلکہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے دلوں میں گھر کر جانے والی تخت و تاج کے چھن جانے کی شدید دہشت ہے۔ ان کے اسی بے جا خوف کا فائدہ اہلِ مغرب، خصوصاً امریکہ کے حکمران، ہر طرح سے خوب اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عرب ممالک اربوں ڈالر بطورِ خراج امریکہ کو ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ اہلِ عرب کی عیاشی، کوتاہی اور سیاسی بے بصیرتی کا شاخسانہ ہے۔
تعیش پسند عرب، اتنی بے پناہ دولت رکھنے کے باوجود، اپنے ہر معاملے میں اہلِ مغرب، خصوصاً امریکہ، کے محتاج رہے ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس محتاجی کا خمیازہ آج خود انہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جس امریکہ کو وہ اپنا محافظ، اپنا آقا، بلکہ گویا اپنا خدا بنائے بیٹھے تھے، اسی نے عربوں کو اپنا غلام قرار دیتے ہوئے "جوتا چاٹنے والا” تک کہہ دیا، اور عربوں کو یہ ذلت و رسوائی کا تلخ گھونٹ خاموشی سے پینا پڑا، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی چارۂ کار نہ تھا۔
یہاں اہلِ عرب کی مجبوریاں تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہیں، اگرچہ وہ خود ان کی پیدا کردہ ہیں، لیکن امریکہ کی بے غیرتی اور ہٹ دھرمی ناقابلِ فہم ہے۔ وہ خود کو عربوں کا آقا اور عربوں کو اپنا تابع سمجھتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عرب ممالک امریکہ کے لاکھوں فوجیوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں، ان کے بہترین خورد و نوش، شراب و کباب اور دیگر عیاشیوں کا انتظام کرتے ہیں، انہیں بھاری بھرکم تنخواہیں فراہم کرتے ہیں، جن پر روزانہ لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اہلِ عرب ہی "جوتے چاٹنے والے غلام” قرار پاتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ عرب ضرورت سے زیادہ خوف زدہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سلطنتوں کا محافظ جدید اسلحے سے لیس امریکہ کو تسلیم کر لیا۔ یہی سبب ہے کہ دنیا امریکہ کو "سپر پاور” کہنے لگی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی امریکہ کئی چھوٹے، نسبتاً کمزور اور وسائل میں محدود ممالک سے شکست کھا چکا ہے۔ اس کی فہرست کیوبا سے شروع ہو کر افغانستان تک پہنچتی ہے۔ درمیان میں ویت نام، ایران، عراق اور لیبیا جیسے نام بھی آتے ہیں۔
سب سے زیادہ ذلت آمیز ہزیمت اسے ویت نام اور افغانستان میں اٹھانی پڑی۔ جب ویت نام اور افغانستان جیسے نسبتاً چھوٹے ممالک امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں، تو پھر امریکہ کا خود کو سپر پاور سمجھتے رہنا بے حسی اور بے شرمی کے سوا اور کیا کہلائے گا؟ اس کے باوجود اسے "ناقابلِ شکست” اور "سپر پاور” بنا کر پیش کرنے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا زبردست کردار رہا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت تغیر پسند ہے، اور وقت ہی سب سے زیادہ مضبوط و مستحکم طاقت ہے۔ وقت نے بڑے بڑے سورماؤں کو جھکنے پر مجبور کیا، لیکن وقت کو آج تک کوئی شکست نہیں دے سکا۔ اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود کو نہ صرف سپر پاور بلکہ ناقابلِ شکست بھی ثابت کرتے رہے ہیں۔ انہیں اپنے جدید اسلحے، میزائلوں اور جنگی طیاروں پر اس قدر غرور تھا کہ وہ دنیا کے کسی ملک کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہی غرور آج ان کی بربادی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔
یوں تو امریکہ کو تکبر دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہی سے لاحق تھا، لیکن اس کے غرور کو مزید ہوا اس وقت ملی جب پرل ہاربر کے بعد امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا اور ہزاروں بے گناہ جاپانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ گویا ایک خونخوار شیر بن گیا۔ اپنی طاقت کے بل پر اس نے نہ جانے کتنے ہی کمزور ممالک کو خون کے آنسو رلایا۔ اب جب اس کے اپنے خون کے آنسو بہانے کا وقت آیا ہے، تو وہ انسانی حقوق کی دہائی دینے لگا ہے۔
اس دہائی میں نیتن یاہو بھی برابر کا شریک ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس بے شرمی کے ساتھ اب انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، جبکہ انہی لوگوں نے فلسطین میں حیوانیت کی انتہا کر دی تھی۔ وہاں ہزاروں معصوم اور شیر خوار بچے شہید ہوئے، بزرگ خواتین قتل ہوئیں اور بے شمار جوان و بزرگ مرد لقمۂ اجل بنے۔ کیا وہ یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں گے کہ جب وہ اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہے تھے، تو اس وقت انہیں انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟
اس وقت یہ لوگ اپنی طاقت کے نشے میں چور تھے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دنیا میں کوئی قوت انہیں شکستِ فاش سے دوچار نہیں کر سکتی۔ ان کے پاس دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام، جدید ترین جنگی طیارے، جدید ترین میزائل، بڑے سے بڑے بم اور بمبار طیارے موجود تھے، اس لیے وہ خود کو ہر شکست و ریخت سے محفوظ سمجھتے تھے۔ لیکن اب جب مصیبت کا پہاڑ ان کے سروں پر ٹوٹ رہا ہے، تو انہیں خدا یاد آ رہا ہے۔
ایران کے حملوں سے نمٹنے کے لیے ان لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں اور کاہنوں کو فعال کر رکھا ہے، اور شب و روز جادو ٹونے اور توہم پرستی کے مختلف سلسلے جاری ہیں۔ ان کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اب انہیں اپنی عسکری قوت پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رہا۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ جدید ترین عہد میں رہتے ہوئے بھی فکری اعتبار سے ہزاروں سال پیچھے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ وہ جدید دنیاوی علوم سے اچھی طرح لیس ہیں، لیکن اس کے باوجود جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسے کیا کہا جائے؟
بہرحال، نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ اب واضح طور پر ناامیدی اور بے یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ کہاں "فاتحِ عالم” بننے کے خواب، اور کہاں ایسی بے بسی اور مایوسی! ان دونوں کی یہ رسوائی واقعی تاریخی نوعیت کی ہے، اور دنیا اسے صدیوں یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے زعم میں ایران سے جنگ تو چھیڑ دی، لیکن اب ایسی پسپائی کے عالم میں وہ دونوں ہی جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں، مگر کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ اب انہیں نہ نگلتے بنتا ہے اور نہ اگلتے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ کا اس جنگ میں اترنے کا پہلے سے کوئی واضح منصوبہ نہ تھا، جیسا کہ خود ٹرمپ بھی اشاروں میں بیان دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے انہیں، خواہش نہ ہونے کے باوجود، ایران پر یلغار کے لیے آمادہ کیا۔ مشاہدے میں بھی یہی آیا کہ جنگ سے قبل نیتن یاہو نے امریکہ کے متعدد دورے کیے اور تقریباً ہر بار گفتگو کا مرکزی موضوع یہی تھا کہ ایران پر حملہ اب ناگزیر ہے۔
جب کسی انسان پر ایک ہی بات کے لیے بار بار دباؤ ڈالا جائے، تو وہ بالآخر کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر ٹرمپ نے ایران پر حملہ تو کر دیا، مگر اپنی اسی ایک بڑی غلطی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
اب دنیا پر یہ حقیقت ظاہر ہو چکی ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں وہ سپر پاور نہیں رہا، جس کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔ اس جنگ نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ بھی مکمل طور پر خودمختار فیصلے کرنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ کئی مواقع پر اسرائیلی اثر و رسوخ اس پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی واضح ہوا کہ اس کے اسلحے اور دفاعی نظام ایسے نہیں کہ اسے ناقابلِ تسخیر بنا سکیں۔ اس کی معیشت بھی پہلے جیسی مستحکم نہیں رہی، اور نہ ہی عالمی اقتدار پر اس کی گرفت پہلے جیسی مضبوط ہے۔
المختصر، دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے جو کچھ حاصل کیا تھا، خواہ وہ دولت ہو، عزت ہو یا شہرت، اس جنگی مہم جوئی نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے حصے میں اب دنیا بھر کی بدنامی اور رسوائی زیادہ آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے قریبی اتحادی، حتیٰ کہ ناٹو ممالک بھی، اس کی پالیسیوں سے نہ صرف ناراض دکھائی دیتے ہیں بلکہ کئی معاملات میں اس سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سر سے تکبر کا بھوت ابھی تک نہیں اترا۔ نتیجتاً دونوں فریقوں کے فوجی مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، دونوں جانب اسلحہ برباد ہو رہا ہے، اور خصوصاً اسرائیل کا بنیادی ڈھانچہ بھی نقصان اٹھا رہا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے حکمران ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ نہیں۔ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مسلم دشمنی کے باعث ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے اپنے ممالک کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔
اب معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ ایران تو پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کے پاس گنوانے کے لیے بہت کم بچا ہے، کیونکہ اہلِ مغرب نے اس پر پہلے ہی اس قدر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ نقصان کی گنجائش محدود رہ گئی ہے۔ لیکن جو قوتیں خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی رہی ہیں، اور جو اپنی معیشت و طاقت کے استحکام کا ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہیں، اگر ان کی حالت ابتر ہوتی ہے، تو وہ یقیناً دنیا کے لیے مقامِ عبرت ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

تازہ ترین خبریں

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

عمر سرکار کے 19 ماہ: کامیابیاں یا ناکامیاں؟

رشید پروینؔ  سوپور 3 جون 2026 کو این سی کا ایک گرینڈ...

خط

محمد شاکر لبانہ ڈنمارک کے تیسرے بڑے شہر آر ہوس...

ٹرمپ اور نیتن یاہو دونوں ہی خودفریبی کے شکار ہیں

بےنام گیلانی

عہدِ حاضر میں دنیا کے جو حالات ہیں، وہ ناقابلِ بیان محسوس ہوتے ہیں۔ ایسا معلوم ہوتا ہے گویا دنیا سے انسانیت بالکل رخصت ہو چکی ہے۔ انسانی ہمدردی، انسانی جذبات و احساسات اور دیگر اعلیٰ انسانی صفات دنیا سے ناپید ہوتی جا رہی ہیں۔ خاص طور پر مشرقی برصغیر کے حالات تو مزید ناگفتہ بہ ہیں۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز امر یہ ہے کہ انسانیت کی پاسداری، جو اسلام کی سب سے اہم شرط ہے، آج عالمِ اسلام ہی سے ناپید ہوتی دکھائی دے رہی ہے۔ جس نااتفاقی کے اندیشے کے تحت اسلام نے ملوکیت سے احتراز برتنے کا حکم دیا اور وراثت کے بجائے خلافت اختیار کرنے کی تلقین فرمائی، آج اسلامی ممالک کے حکمران اسی ملوکیت کے غلام بنے بیٹھے ہیں اور خلافت کو شجرِ ممنوعہ تصور کیے ہوئے ہیں۔ ایسے میں اسلام کو خطرات سے دوچار نظر آنا لازمی ہے۔
ان خطرات کا باعث کوئی کافر یا مشرک نہیں، بلکہ اسلامی ممالک کے حکمرانوں کے دلوں میں گھر کر جانے والی تخت و تاج کے چھن جانے کی شدید دہشت ہے۔ ان کے اسی بے جا خوف کا فائدہ اہلِ مغرب، خصوصاً امریکہ کے حکمران، ہر طرح سے خوب اٹھا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں عرب ممالک اربوں ڈالر بطورِ خراج امریکہ کو ادا کرنے پر مجبور ہیں۔ یہ اہلِ عرب کی عیاشی، کوتاہی اور سیاسی بے بصیرتی کا شاخسانہ ہے۔
تعیش پسند عرب، اتنی بے پناہ دولت رکھنے کے باوجود، اپنے ہر معاملے میں اہلِ مغرب، خصوصاً امریکہ، کے محتاج رہے ہیں۔ افسوس کا مقام تو یہ ہے کہ اس محتاجی کا خمیازہ آج خود انہی کو بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جس امریکہ کو وہ اپنا محافظ، اپنا آقا، بلکہ گویا اپنا خدا بنائے بیٹھے تھے، اسی نے عربوں کو اپنا غلام قرار دیتے ہوئے "جوتا چاٹنے والا” تک کہہ دیا، اور عربوں کو یہ ذلت و رسوائی کا تلخ گھونٹ خاموشی سے پینا پڑا، کیونکہ اس کے سوا ان کے پاس اور کوئی چارۂ کار نہ تھا۔
یہاں اہلِ عرب کی مجبوریاں تو کسی حد تک سمجھ میں آتی ہیں، اگرچہ وہ خود ان کی پیدا کردہ ہیں، لیکن امریکہ کی بے غیرتی اور ہٹ دھرمی ناقابلِ فہم ہے۔ وہ خود کو عربوں کا آقا اور عربوں کو اپنا تابع سمجھتا ہے، جبکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ عرب ممالک امریکہ کے لاکھوں فوجیوں کو اپنے ہاں پناہ دیے ہوئے ہیں، ان کے بہترین خورد و نوش، شراب و کباب اور دیگر عیاشیوں کا انتظام کرتے ہیں، انہیں بھاری بھرکم تنخواہیں فراہم کرتے ہیں، جن پر روزانہ لاکھوں ڈالر خرچ ہوتے ہیں۔ اس کے باوجود اہلِ عرب ہی "جوتے چاٹنے والے غلام” قرار پاتے ہیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ اہلِ عرب ضرورت سے زیادہ خوف زدہ ہیں۔ چنانچہ انہوں نے اپنی سلطنتوں کا محافظ جدید اسلحے سے لیس امریکہ کو تسلیم کر لیا۔ یہی سبب ہے کہ دنیا امریکہ کو "سپر پاور” کہنے لگی، حالانکہ حقیقت یہ ہے کہ یہی امریکہ کئی چھوٹے، نسبتاً کمزور اور وسائل میں محدود ممالک سے شکست کھا چکا ہے۔ اس کی فہرست کیوبا سے شروع ہو کر افغانستان تک پہنچتی ہے۔ درمیان میں ویت نام، ایران، عراق اور لیبیا جیسے نام بھی آتے ہیں۔
سب سے زیادہ ذلت آمیز ہزیمت اسے ویت نام اور افغانستان میں اٹھانی پڑی۔ جب ویت نام اور افغانستان جیسے نسبتاً چھوٹے ممالک امریکہ کو شکست دے سکتے ہیں، تو پھر امریکہ کا خود کو سپر پاور سمجھتے رہنا بے حسی اور بے شرمی کے سوا اور کیا کہلائے گا؟ اس کے باوجود اسے "ناقابلِ شکست” اور "سپر پاور” بنا کر پیش کرنے میں مغربی ذرائع ابلاغ کا زبردست کردار رہا ہے۔
یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ وقت تغیر پسند ہے، اور وقت ہی سب سے زیادہ مضبوط و مستحکم طاقت ہے۔ وقت نے بڑے بڑے سورماؤں کو جھکنے پر مجبور کیا، لیکن وقت کو آج تک کوئی شکست نہیں دے سکا۔ اس امر کا جیتا جاگتا ثبوت ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان حالیہ جنگی کشیدگی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل اپنے ذرائع ابلاغ کے ذریعے خود کو نہ صرف سپر پاور بلکہ ناقابلِ شکست بھی ثابت کرتے رہے ہیں۔ انہیں اپنے جدید اسلحے، میزائلوں اور جنگی طیاروں پر اس قدر غرور تھا کہ وہ دنیا کے کسی ملک کو خاطر میں لانے کے لیے تیار نہ تھے۔ یہی غرور آج ان کی بربادی کا سبب بنتا جا رہا ہے۔
یوں تو امریکہ کو تکبر دوسری جنگِ عظیم کے بعد ہی سے لاحق تھا، لیکن اس کے غرور کو مزید ہوا اس وقت ملی جب پرل ہاربر کے بعد امریکہ نے جاپان پر ایٹم بم گرایا اور ہزاروں بے گناہ جاپانیوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا۔ اس واقعے کے بعد امریکہ گویا ایک خونخوار شیر بن گیا۔ اپنی طاقت کے بل پر اس نے نہ جانے کتنے ہی کمزور ممالک کو خون کے آنسو رلایا۔ اب جب اس کے اپنے خون کے آنسو بہانے کا وقت آیا ہے، تو وہ انسانی حقوق کی دہائی دینے لگا ہے۔
اس دہائی میں نیتن یاہو بھی برابر کا شریک ہے۔ حیرت ہوتی ہے کہ یہ لوگ کس بے شرمی کے ساتھ اب انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، جبکہ انہی لوگوں نے فلسطین میں حیوانیت کی انتہا کر دی تھی۔ وہاں ہزاروں معصوم اور شیر خوار بچے شہید ہوئے، بزرگ خواتین قتل ہوئیں اور بے شمار جوان و بزرگ مرد لقمۂ اجل بنے۔ کیا وہ یہ بتانے کی زحمت گوارا کریں گے کہ جب وہ اسپتالوں اور اسکولوں پر بمباری کر رہے تھے، تو اس وقت انہیں انسانی حقوق کیوں یاد نہ آئے؟
اس وقت یہ لوگ اپنی طاقت کے نشے میں چور تھے۔ وہ یہ سمجھ رہے تھے کہ دنیا میں کوئی قوت انہیں شکستِ فاش سے دوچار نہیں کر سکتی۔ ان کے پاس دنیا کا جدید ترین دفاعی نظام، جدید ترین جنگی طیارے، جدید ترین میزائل، بڑے سے بڑے بم اور بمبار طیارے موجود تھے، اس لیے وہ خود کو ہر شکست و ریخت سے محفوظ سمجھتے تھے۔ لیکن اب جب مصیبت کا پہاڑ ان کے سروں پر ٹوٹ رہا ہے، تو انہیں خدا یاد آ رہا ہے۔
ایران کے حملوں سے نمٹنے کے لیے ان لوگوں نے اپنے مذہبی پیشواؤں اور کاہنوں کو فعال کر رکھا ہے، اور شب و روز جادو ٹونے اور توہم پرستی کے مختلف سلسلے جاری ہیں۔ ان کے اس عمل سے ثابت ہوتا ہے کہ اب انہیں اپنی عسکری قوت پر ذرہ برابر بھی یقین نہیں رہا۔ یہ بھی واضح ہوتا ہے کہ یہ لوگ جدید ترین عہد میں رہتے ہوئے بھی فکری اعتبار سے ہزاروں سال پیچھے ہیں۔ اگرچہ یہ ایک ناقابلِ تردید حقیقت ہے کہ وہ جدید دنیاوی علوم سے اچھی طرح لیس ہیں، لیکن اس کے باوجود جادو ٹونے پر یقین رکھتے ہیں۔ اسے کیا کہا جائے؟
بہرحال، نیتن یاہو اور ڈونالڈ ٹرمپ اب واضح طور پر ناامیدی اور بے یقینی کا شکار دکھائی دیتے ہیں۔ کہاں "فاتحِ عالم” بننے کے خواب، اور کہاں ایسی بے بسی اور مایوسی! ان دونوں کی یہ رسوائی واقعی تاریخی نوعیت کی ہے، اور دنیا اسے صدیوں یاد رکھے گی۔ انہوں نے اپنے زعم میں ایران سے جنگ تو چھیڑ دی، لیکن اب ایسی پسپائی کے عالم میں وہ دونوں ہی جنگ سے نکلنے کی راہ تلاش کر رہے ہیں، مگر کوئی راستہ سجھائی نہیں دے رہا۔ اب انہیں نہ نگلتے بنتا ہے اور نہ اگلتے۔
یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ٹرمپ کا اس جنگ میں اترنے کا پہلے سے کوئی واضح منصوبہ نہ تھا، جیسا کہ خود ٹرمپ بھی اشاروں میں بیان دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو نے انہیں، خواہش نہ ہونے کے باوجود، ایران پر یلغار کے لیے آمادہ کیا۔ مشاہدے میں بھی یہی آیا کہ جنگ سے قبل نیتن یاہو نے امریکہ کے متعدد دورے کیے اور تقریباً ہر بار گفتگو کا مرکزی موضوع یہی تھا کہ ایران پر حملہ اب ناگزیر ہے۔
جب کسی انسان پر ایک ہی بات کے لیے بار بار دباؤ ڈالا جائے، تو وہ بالآخر کچھ نہ کچھ کرنے پر مجبور ہو جاتا ہے۔ چنانچہ نیتن یاہو کے دباؤ میں آ کر ٹرمپ نے ایران پر حملہ تو کر دیا، مگر اپنی اسی ایک بڑی غلطی کے باعث اپنی عالمی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا۔
اب دنیا پر یہ حقیقت ظاہر ہو چکی ہے کہ امریکہ موجودہ دور میں وہ سپر پاور نہیں رہا، جس کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔ اس جنگ نے یہ بھی ثابت کیا کہ امریکہ بھی مکمل طور پر خودمختار فیصلے کرنے والا ملک نہیں رہا، بلکہ کئی مواقع پر اسرائیلی اثر و رسوخ اس پر غالب دکھائی دیتا ہے۔ یہ بھی واضح ہوا کہ اس کے اسلحے اور دفاعی نظام ایسے نہیں کہ اسے ناقابلِ تسخیر بنا سکیں۔ اس کی معیشت بھی پہلے جیسی مستحکم نہیں رہی، اور نہ ہی عالمی اقتدار پر اس کی گرفت پہلے جیسی مضبوط ہے۔
المختصر، دوسری جنگِ عظیم کے بعد امریکہ نے جو کچھ حاصل کیا تھا، خواہ وہ دولت ہو، عزت ہو یا شہرت، اس جنگی مہم جوئی نے اسے شدید نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے حصے میں اب دنیا بھر کی بدنامی اور رسوائی زیادہ آ رہی ہے۔ اسی وجہ سے اس کے قریبی اتحادی، حتیٰ کہ ناٹو ممالک بھی، اس کی پالیسیوں سے نہ صرف ناراض دکھائی دیتے ہیں بلکہ کئی معاملات میں اس سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آ رہے ہیں۔
ٹرمپ اور نیتن یاہو کے سر سے تکبر کا بھوت ابھی تک نہیں اترا۔ نتیجتاً دونوں فریقوں کے فوجی مسلسل جانیں گنوا رہے ہیں، دونوں جانب اسلحہ برباد ہو رہا ہے، اور خصوصاً اسرائیل کا بنیادی ڈھانچہ بھی نقصان اٹھا رہا ہے۔ اس کے باوجود دونوں ممالک کے حکمران ہوش کے ناخن لینے پر آمادہ نہیں۔ اپنی ضد، ہٹ دھرمی اور مسلم دشمنی کے باعث ٹرمپ اور نیتن یاہو نے اپنے اپنے ممالک کو تباہی کے دہانے تک پہنچا دیا ہے۔
اب معلوم نہیں اس کا انجام کیا ہوگا۔ ایران تو پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ اس کے پاس گنوانے کے لیے بہت کم بچا ہے، کیونکہ اہلِ مغرب نے اس پر پہلے ہی اس قدر پابندیاں عائد کر رکھی ہیں کہ نقصان کی گنجائش محدود رہ گئی ہے۔ لیکن جو قوتیں خود کو ناقابلِ شکست سمجھتی رہی ہیں، اور جو اپنی معیشت و طاقت کے استحکام کا ڈھنڈورا پیٹتی رہی ہیں، اگر ان کی حالت ابتر ہوتی ہے، تو وہ یقیناً دنیا کے لیے مقامِ عبرت ہوگی۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں