نیٹو سے امریکی دوری

امریکہ اور مغربی یورپ کے درمیان نیٹو کے سائے تلے قائم 77 سالہ شراکت داری کو اگر واقعی دھچکا پہنچتا ہے، تو یہ صرف ایک سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے ڈھانچے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے نکلنے پر "بالکل غور” کرنے اور اسے "کاغذی شیر” قرار دینے والے بیانات، امریکہ کی روایتی عالمی قیادت اور اتحادی نظام سے بڑھتی ہوئی بیزاری کی علامت ہیں۔
نیٹو محض ایک فوجی اتحاد نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے مغربی دفاعی اور سیاسی نظم کی بنیاد رہا ہے۔ اگر واشنگٹن اس اتحاد سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کا فوری اثر یورپ کے دفاعی اعتماد، روسی عزائم، مشرقِ وسطیٰ کے توازن، اور عالمی طاقت کے نظام پر پڑے گا۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ بحث کسی سنجیدہ اصلاحی سوچ کے بجائے فوری جنگی مفادات اور اتحادیوں سے ناراضی کے تناظر میں سامنے آ رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس بات پر مایوسی ہوئی کہ یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگی مہم میں فوری عسکری تعاون نہیں دیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لئے۔ آبنائے ہرمز یقیناً عالمی توانائی کی شہ رگ ہے، مگر اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا اور پھر ان کی "کمزوری” کو نیٹو سے دوری کا جواز بنانا، ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ شکوہ بھی نیا نہیں کہ امریکہ نیٹو میں جتنا ڈال رہا ہے، اتنا حاصل نہیں کر رہا۔ بلاشبہ، دفاعی اخراجات کی منصفانہ تقسیم ایک جائز بحث ہے، مگر اس کا حل اتحاد کو توڑنا نہیں بلکہ اسے متوازن اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
مزید تشویش اس بات پر ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن جانتے ہیں کہ نیٹو اپنے رکن ممالک کے دفاع کے لئے مطلوبہ سختی نہیں رکھتا۔ جب یوکرین کے خلاف روسی جارحیت پہلے ہی یورپ کے لئے بڑا سیکیورٹی بحران بن چکی ہو اور بالٹک ریاستوں کے بارے میں بھی خدشات موجود ہوں، تو ایسے بیانات ماسکو کے لئے حوصلہ افزا اشارہ بن سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ واقعی نیٹو سے دور ہوتا ہے تو یورپ کا دفاعی مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یورپی ممالک مکمل طور پر خود کفیل ہو سکیں گے؟ کیا یورپی یونین اس خلا کو پُر کر پائے گی؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ امریکی انخلا یا کمزوری کا تاثر عالمی عدم استحکام میں اضافہ کرے گا۔
اگر امریکہ اپنی ترجیحات کو نیٹو سے ہٹا کر مکمل طور پر ایران، اسرائیل اور خلیجی آبی گزرگاہوں پر مرکوز کرتا ہے، تو اس سے عالمی طاقت کے توازن میں نئی بے چینی پیدا ہوگی۔ یہ بھی ظاہر ہوگا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اصولوں سے زیادہ فوری مفادات کے تابع ہو چکی ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ نیٹو کو اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے، مگر یہ عمل جذباتی بیانات، دھمکیوں اور یکطرفہ فیصلوں سے ممکن نہیں۔ نیٹو کی کمزوریاں اپنی جگہ، مگر اس کی موجودگی نے عشروں تک یورپ کو بڑے جنگی تصادم سے بچائے رکھا ہے۔
اگر امریکہ اس اتحاد سے واقعی پیچھے ہٹتا ہے، تو وہ صرف ایک معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا بلکہ اپنی ہی بنائی ہوئی عالمی قیادت کے ایک بنیادی ستون کو کمزور کرے گا۔ اس کا فائدہ انہی قوتوں کو ہوگا جو ایک منقسم اور غیر یقینی دنیا چاہتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ردعمل کے بجائے تدبر، سفارت کاری اور مشترکہ ذمہ داری کا راستہ اپنائیں۔ نیٹو کو کمزور کرنے کے بجائے، اسے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہی عالمی امن و استحکام کے لئے بہتر راستہ ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

تازہ ترین خبریں

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

نیٹو سے امریکی دوری

امریکہ اور مغربی یورپ کے درمیان نیٹو کے سائے تلے قائم 77 سالہ شراکت داری کو اگر واقعی دھچکا پہنچتا ہے، تو یہ صرف ایک سفارتی تبدیلی نہیں بلکہ عالمی سلامتی کے ڈھانچے کے لئے ایک بڑا خطرہ ہوگا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے نیٹو سے نکلنے پر "بالکل غور” کرنے اور اسے "کاغذی شیر” قرار دینے والے بیانات، امریکہ کی روایتی عالمی قیادت اور اتحادی نظام سے بڑھتی ہوئی بیزاری کی علامت ہیں۔
نیٹو محض ایک فوجی اتحاد نہیں بلکہ دوسری جنگِ عظیم کے بعد قائم ہونے والے مغربی دفاعی اور سیاسی نظم کی بنیاد رہا ہے۔ اگر واشنگٹن اس اتحاد سے پیچھے ہٹتا ہے تو اس کا فوری اثر یورپ کے دفاعی اعتماد، روسی عزائم، مشرقِ وسطیٰ کے توازن، اور عالمی طاقت کے نظام پر پڑے گا۔ افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ یہ بحث کسی سنجیدہ اصلاحی سوچ کے بجائے فوری جنگی مفادات اور اتحادیوں سے ناراضی کے تناظر میں سامنے آ رہی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وائٹ ہاؤس کو اس بات پر مایوسی ہوئی کہ یورپی اور دیگر اتحادی ممالک نے مغربی ایشیا میں امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگی مہم میں فوری عسکری تعاون نہیں دیا، خاص طور پر آبنائے ہرمز میں تیل بردار جہازوں کی محفوظ گزرگاہ کے لئے۔ آبنائے ہرمز یقیناً عالمی توانائی کی شہ رگ ہے، مگر اتحادیوں پر دباؤ ڈالنا اور پھر ان کی "کمزوری” کو نیٹو سے دوری کا جواز بنانا، ایک غیر ذمہ دارانہ طرزِ فکر کی عکاسی کرتا ہے۔
صدر ٹرمپ کا یہ شکوہ بھی نیا نہیں کہ امریکہ نیٹو میں جتنا ڈال رہا ہے، اتنا حاصل نہیں کر رہا۔ بلاشبہ، دفاعی اخراجات کی منصفانہ تقسیم ایک جائز بحث ہے، مگر اس کا حل اتحاد کو توڑنا نہیں بلکہ اسے متوازن اور مؤثر بنانا ہونا چاہیے۔
مزید تشویش اس بات پر ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ تاثر بھی دیا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن جانتے ہیں کہ نیٹو اپنے رکن ممالک کے دفاع کے لئے مطلوبہ سختی نہیں رکھتا۔ جب یوکرین کے خلاف روسی جارحیت پہلے ہی یورپ کے لئے بڑا سیکیورٹی بحران بن چکی ہو اور بالٹک ریاستوں کے بارے میں بھی خدشات موجود ہوں، تو ایسے بیانات ماسکو کے لئے حوصلہ افزا اشارہ بن سکتے ہیں۔
اصل سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ واقعی نیٹو سے دور ہوتا ہے تو یورپ کا دفاعی مستقبل کیا ہوگا؟ کیا یورپی ممالک مکمل طور پر خود کفیل ہو سکیں گے؟ کیا یورپی یونین اس خلا کو پُر کر پائے گی؟ یہ سوالات اپنی جگہ اہم ہیں، مگر اتنا واضح ہے کہ امریکی انخلا یا کمزوری کا تاثر عالمی عدم استحکام میں اضافہ کرے گا۔
اگر امریکہ اپنی ترجیحات کو نیٹو سے ہٹا کر مکمل طور پر ایران، اسرائیل اور خلیجی آبی گزرگاہوں پر مرکوز کرتا ہے، تو اس سے عالمی طاقت کے توازن میں نئی بے چینی پیدا ہوگی۔ یہ بھی ظاہر ہوگا کہ واشنگٹن کی خارجہ پالیسی اصولوں سے زیادہ فوری مفادات کے تابع ہو چکی ہے۔
اس میں شبہ نہیں کہ نیٹو کو اصلاح اور تجدید کی ضرورت ہے، مگر یہ عمل جذباتی بیانات، دھمکیوں اور یکطرفہ فیصلوں سے ممکن نہیں۔ نیٹو کی کمزوریاں اپنی جگہ، مگر اس کی موجودگی نے عشروں تک یورپ کو بڑے جنگی تصادم سے بچائے رکھا ہے۔
اگر امریکہ اس اتحاد سے واقعی پیچھے ہٹتا ہے، تو وہ صرف ایک معاہدے سے دستبردار نہیں ہوگا بلکہ اپنی ہی بنائی ہوئی عالمی قیادت کے ایک بنیادی ستون کو کمزور کرے گا۔ اس کا فائدہ انہی قوتوں کو ہوگا جو ایک منقسم اور غیر یقینی دنیا چاہتی ہیں۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ امریکہ اور اس کے یورپی اتحادی ردعمل کے بجائے تدبر، سفارت کاری اور مشترکہ ذمہ داری کا راستہ اپنائیں۔ نیٹو کو کمزور کرنے کے بجائے، اسے زیادہ مؤثر، منصفانہ اور دورِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ بنانا ہی عالمی امن و استحکام کے لئے بہتر راستہ ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں