تاریخی مگر اضطراب زدہ جنگ بندی

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تباہ کن جنگ بالآخر ایک تاریخی جنگ بندی پر آ کر وقتی طور پر رک گئی ہے، مگر اس کے باوجود پورا مشرقِ وسطیٰ اب بھی شدید بے یقینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ یہ تصادم صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے عرب دنیا، عالمی منڈیوں اور خطے کے سیاسی توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
یہ جنگ 28 فروری کو تہران پر ایک بڑے حملے اور اعلیٰ قیادت کے قتل سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ چالیس دن کی اس خونریز کشمکش کے دوران نہ صرف ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کو ایک ممکنہ توانائی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس جنگ بندی میں پاکستانی سفارت کاری نے بھی کردار ادا کیا۔ تاہم، جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے، ایران کے اندر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس سے واضح ہے کہ جنگ رکی ضرور ہے، مگر اس کے شعلے ابھی بجھے نہیں۔
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ زبان استعمال کر چکے تھے۔ بعد ازاں ان کی جانب سے مذاکرات، پابندیوں میں نرمی اور تعاون کی باتیں بھی سامنے آئیں، جو بظاہر ایک مثبت اشارہ ہیں، مگر "ریجیم چینج” جیسی اصطلاحات اس عمل کو مشکوک بھی بناتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور لبنان میں اب تک 1500 سے زائد ہلاکتیں اور 4800 سے زیادہ زخمیوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر جنگ بندی صرف ایک محاذ تک محدود ہو اور دوسرے محاذوں پر خونریزی جاری رہے، تو کیا اسے واقعی امن کہا جا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ بندی جتنی تاریخی ہے، اتنی ہی نازک بھی۔ اگر آنے والے مذاکرات سنجیدگی، دیانت اور علاقائی حساسیت کے ساتھ آگے نہ بڑھے، تو یہ وقتی سکون دوبارہ شدید تصادم میں بدل سکتا ہے۔اصل امتحان اب جنگ روکنے کا نہیں، بلکہ امن کو قائم رکھنے کا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

تازہ ترین خبریں

آج سے امریکہ اور ایران کے بیچ نئے مذاکرات شروع ہوں گے: ڈونلڈ ٹرمپ

واشنگٹن امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے...

مایا جال

  فاضل شفیع بٹ اکنگام، انت ناگ "یار شیدے! میرا سارا کاروبار...

بچوں کی اسلامی تربیت وقت کی اہم ترین ضرورت

پیر اقبال رشید اللہ تعالیٰ نے انسان کو اشرف المخلوقات...

ایامم جاہلیہ کے سات قصیدے (سبعۃ المعلقات)

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی ایامِ جاہلیہ کی شاعری میں ہمیں...

حجاب، مذہبی شناخت اور عالمی ضمیراصول یا دوہرا معیار؟

  مسعود محبوب خان دنیا میں انسان کی شناخت صرف اس...

تاریخی مگر اضطراب زدہ جنگ بندی

امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری تباہ کن جنگ بالآخر ایک تاریخی جنگ بندی پر آ کر وقتی طور پر رک گئی ہے، مگر اس کے باوجود پورا مشرقِ وسطیٰ اب بھی شدید بے یقینی اور اضطراب کی لپیٹ میں ہے۔ یہ تصادم صرف ایران اور اسرائیل تک محدود نہ رہا بلکہ اس نے عرب دنیا، عالمی منڈیوں اور خطے کے سیاسی توازن کو بھی ہلا کر رکھ دیا۔
یہ جنگ 28 فروری کو تہران پر ایک بڑے حملے اور اعلیٰ قیادت کے قتل سے شروع ہوئی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک علاقائی جنگ میں تبدیل ہو گئی۔ چالیس دن کی اس خونریز کشمکش کے دوران نہ صرف ہزاروں جانیں ضائع ہوئیں بلکہ آبنائے ہرمز کی بندش کے باعث دنیا کو ایک ممکنہ توانائی بحران کا بھی سامنا کرنا پڑا۔
اس جنگ بندی میں پاکستانی سفارت کاری نے بھی کردار ادا کیا۔ تاہم، جنگ بندی کے باوجود زمینی حقائق زیادہ حوصلہ افزا نہیں۔ اسرائیل نے لبنان میں حملے جاری رکھے، ایران کے اندر تنصیبات کو نشانہ بنایا گیا، اور خطے کے دیگر ممالک میں بھی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئیں۔ اس سے واضح ہے کہ جنگ رکی ضرور ہے، مگر اس کے شعلے ابھی بجھے نہیں۔
یہ جنگ بندی ایسے وقت میں سامنے آئی جب ڈونالڈ ٹرمپ ایران کے خلاف انتہائی جارحانہ زبان استعمال کر چکے تھے۔ بعد ازاں ان کی جانب سے مذاکرات، پابندیوں میں نرمی اور تعاون کی باتیں بھی سامنے آئیں، جو بظاہر ایک مثبت اشارہ ہیں، مگر "ریجیم چینج” جیسی اصطلاحات اس عمل کو مشکوک بھی بناتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل نے صاف کر دیا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کا اطلاق لبنان پر نہیں ہوگا۔ یہی وجہ ہے کہ حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں، اور لبنان میں اب تک 1500 سے زائد ہلاکتیں اور 4800 سے زیادہ زخمیوں کی اطلاعات سامنے آ چکی ہیں۔
یہ صورتِ حال ایک بنیادی سوال اٹھاتی ہے: اگر جنگ بندی صرف ایک محاذ تک محدود ہو اور دوسرے محاذوں پر خونریزی جاری رہے، تو کیا اسے واقعی امن کہا جا سکتا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ یہ جنگ بندی جتنی تاریخی ہے، اتنی ہی نازک بھی۔ اگر آنے والے مذاکرات سنجیدگی، دیانت اور علاقائی حساسیت کے ساتھ آگے نہ بڑھے، تو یہ وقتی سکون دوبارہ شدید تصادم میں بدل سکتا ہے۔اصل امتحان اب جنگ روکنے کا نہیں، بلکہ امن کو قائم رکھنے کا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں