جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے گاندربل انکاؤنٹر کے حوالے سے مجسٹریل انکوائری کا حکم دینا ایک خوش آئند اور بروقت قدم ہے۔ ایسے حساس خطے میں، جہاں ہر سکیورٹی واقعہ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی جذبات، سیاسی ردِعمل اور سماجی اعتماد سے جڑا ہوتا ہے، وہاں حقائق تک رسائی کو قیاس آرائیوں، افواہوں اور سیاسی مفادات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔یہ انکاؤنٹر منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا، جس کے بعد مختلف حلقوں میں سوالات اور تشویش نے جنم لیا۔ کئی مرکزی دھارے کے سیاسی رہنماؤں، جن میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی شامل ہیں، نے بھی اس واقعے کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔ ان کا ردِعمل دراصل اُس وسیع عوامی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں لوگ نہ صرف امن و امان بلکہ شفافیت، جوابدہی اور قانون کی بالادستی کے بھی متقاضی ہیں۔ایسے مواقع پر انکوائری محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک جمہوری تقاضا بن جاتی ہے۔
جب کسی انکاؤنٹر کے بارے میں شبہات پیدا ہوں تو ریاستی اداروں کی ساکھ براہِ راست امتحان سے گزرتی ہے۔ ایسے میں حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف فوری بلکہ غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد انداز میں حقائق سامنے لائے۔مجسٹریل انکوائری کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ سچائی کو ادارہ جاتی اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے سامنے لایا جائے، نہ کہ سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں، سیاسی بیانات یا یکطرفہ بیانیوں کے ذریعے۔اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ صرف انکوائری کا اعلان نہ ہو، بلکہ یہ تیزی، دیانتداری اور غیر جانب داری کے ساتھ مکمل بھی کی جائے۔ ایسے حساس معاملات میں تاخیر نہ صرف شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے بلکہ افواہوں، بے اعتمادی اور بدنظمی کے لئے بھی راہیں ہموار کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کو ابہام نہیں بلکہ وضاحت درکار ہے، تماشہ نہیں بلکہ حقیقت چاہیے۔یہ لازم ہے کہ انکوائری کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اس کی رپورٹ، قانون اور سکیورٹی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، حتی الامکان عوام کے سامنے لائی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس پورے عمل کی معنویت مشکوک ہو جائے گی۔
اس وقت جبکہ حقائق کی جانچ ابھی باقی ہے، بعض حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنا نہایت افسوسناک ہوگا۔ سکیورٹی آپریشنز اور شہری جانوں سے متعلق معاملات کسی بھی طور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، وقتی شور شرابے یا موقع پرستانہ بیانات کی نذر نہیں ہونے چاہئیں۔یہ وقت جذباتی نعرہ بازی کا نہیں بلکہ سیاسی سنجیدگی، تحمل اور ذمہ داری کا ہے۔ اگر واقعی کوئی سوالات موجود ہیں تو ان کا جواب ادارہ جاتی سطح پر سامنے آنا چاہیے۔ اگر کسی قسم کی زیادتی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے قانون کے مطابق بے نقاب اور درست کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر حقائق کچھ اور ثابت کریں، تو انہیں بھی دیانتداری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ایسے واقعات کو پہلے سے تیار شدہ سیاسی بیانیوں کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل اور بنیادی نکتہ صرف ایک ہونا چاہیے: سچ اور انصاف۔
غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر
غیر جانبدارانہ جانچ ناگزیر
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی جانب سے گاندربل انکاؤنٹر کے حوالے سے مجسٹریل انکوائری کا حکم دینا ایک خوش آئند اور بروقت قدم ہے۔ ایسے حساس خطے میں، جہاں ہر سکیورٹی واقعہ صرف ایک انتظامی معاملہ نہیں بلکہ عوامی جذبات، سیاسی ردِعمل اور سماجی اعتماد سے جڑا ہوتا ہے، وہاں حقائق تک رسائی کو قیاس آرائیوں، افواہوں اور سیاسی مفادات کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔یہ انکاؤنٹر منگل اور بدھ کی درمیانی شب پیش آیا، جس کے بعد مختلف حلقوں میں سوالات اور تشویش نے جنم لیا۔ کئی مرکزی دھارے کے سیاسی رہنماؤں، جن میں وزیراعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی شامل ہیں، نے بھی اس واقعے کے مختلف پہلوؤں پر سوالات اٹھائے۔ ان کا ردِعمل دراصل اُس وسیع عوامی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے، جس میں لوگ نہ صرف امن و امان بلکہ شفافیت، جوابدہی اور قانون کی بالادستی کے بھی متقاضی ہیں۔ایسے مواقع پر انکوائری محض ایک رسمی کارروائی نہیں ہوتی، بلکہ ایک جمہوری تقاضا بن جاتی ہے۔
جب کسی انکاؤنٹر کے بارے میں شبہات پیدا ہوں تو ریاستی اداروں کی ساکھ براہِ راست امتحان سے گزرتی ہے۔ ایسے میں حکومت اور انتظامیہ کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ نہ صرف فوری بلکہ غیر جانبدار، شفاف اور قابلِ اعتماد انداز میں حقائق سامنے لائے۔مجسٹریل انکوائری کا اصل مقصد یہی ہونا چاہیے کہ سچائی کو ادارہ جاتی اور قانونی طریقۂ کار کے ذریعے سامنے لایا جائے، نہ کہ سوشل میڈیا کی قیاس آرائیوں، سیاسی بیانات یا یکطرفہ بیانیوں کے ذریعے۔اب اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ صرف انکوائری کا اعلان نہ ہو، بلکہ یہ تیزی، دیانتداری اور غیر جانب داری کے ساتھ مکمل بھی کی جائے۔ ایسے حساس معاملات میں تاخیر نہ صرف شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے بلکہ افواہوں، بے اعتمادی اور بدنظمی کے لئے بھی راہیں ہموار کرتی ہے۔ جموں و کشمیر کے عوام کو ابہام نہیں بلکہ وضاحت درکار ہے، تماشہ نہیں بلکہ حقیقت چاہیے۔یہ لازم ہے کہ انکوائری کو جلد از جلد مکمل کیا جائے اور اس کی رپورٹ، قانون اور سکیورٹی تقاضوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے، حتی الامکان عوام کے سامنے لائی جائے۔ اگر ایسا نہ ہوا تو اس پورے عمل کی معنویت مشکوک ہو جائے گی۔
اس وقت جبکہ حقائق کی جانچ ابھی باقی ہے، بعض حلقوں کی جانب سے اس واقعے کو سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے استعمال کرنا نہایت افسوسناک ہوگا۔ سکیورٹی آپریشنز اور شہری جانوں سے متعلق معاملات کسی بھی طور سیاسی پوائنٹ اسکورنگ، وقتی شور شرابے یا موقع پرستانہ بیانات کی نذر نہیں ہونے چاہئیں۔یہ وقت جذباتی نعرہ بازی کا نہیں بلکہ سیاسی سنجیدگی، تحمل اور ذمہ داری کا ہے۔ اگر واقعی کوئی سوالات موجود ہیں تو ان کا جواب ادارہ جاتی سطح پر سامنے آنا چاہیے۔ اگر کسی قسم کی زیادتی یا غلطی ہوئی ہے تو اسے قانون کے مطابق بے نقاب اور درست کیا جانا چاہیے۔ لیکن اگر حقائق کچھ اور ثابت کریں، تو انہیں بھی دیانتداری کے ساتھ قبول کیا جانا چاہیے۔ایسے واقعات کو پہلے سے تیار شدہ سیاسی بیانیوں کی نذر نہیں کیا جانا چاہیے۔ اصل اور بنیادی نکتہ صرف ایک ہونا چاہیے: سچ اور انصاف۔


