24 مارچ کو عالمی یومِ تپِ دق اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ اس مہلک مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس سال کا موضوع “ہاں! ہم ٹی بی کا خاتمہ کر سکتے ہیں” بھارت جیسے ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جو دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی مریضوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ٹی بی کے کیسز اور اموات میں کمی آئی ہے، جبکہ علاج کی رسائی اور کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی تپِ دق انسداد پروگرام اور پردھان منتری ٹی بی مکت بھارت ابھیان جیسے اقدامات نے عوامی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔ نکشے متر اور نکشے پوشن یوجنا جیسے پروگرام مریضوں کو غذائی اور سماجی سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود چیلنجز باقی ہیں، خاص طور پر ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی، غذائی قلت اور سماجی بدنامی۔ 2025 کا ہدف مکمل طور پر حاصل نہ ہونے کے باوجود پیش رفت امید افزا ہے اور مزید تیزی کی ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت، غذائیت اور آگاہی کو یکجا کر کے اس جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے۔ دیہی اور شہری سطح پر بروقت تشخیص، مسلسل علاج اور مریضوں کی رہنمائی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی فرد علاج سے محروم نہ رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ ٹی بی کو بدنامی کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری کے طور پر دیکھا جائے۔ جب تک عوام خود اس مہم کا حصہ نہیں بنتے، اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
ٹی بی کا خاتمہ اب خواب نہیں بلکہ حقیقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت اور عوام مل کر اس مشن کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔
ہاں! ہم TB کا خاتمہ کر سکتے ہیں
ہاں! ہم TB کا خاتمہ کر سکتے ہیں
24 مارچ کو عالمی یومِ تپِ دق اس عہد کی یاد دلاتا ہے کہ اس مہلک مرض کا خاتمہ ممکن ہے۔ اس سال کا موضوع “ہاں! ہم ٹی بی کا خاتمہ کر سکتے ہیں” بھارت جیسے ملک کے لیے خاص اہمیت رکھتا ہے، جو دنیا کے تقریباً ایک چوتھائی مریضوں کا بوجھ اٹھانے کے باوجود نمایاں پیش رفت کر رہا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت میں ٹی بی کے کیسز اور اموات میں کمی آئی ہے، جبکہ علاج کی رسائی اور کامیابی کی شرح میں اضافہ ہوا ہے۔ قومی تپِ دق انسداد پروگرام اور پردھان منتری ٹی بی مکت بھارت ابھیان جیسے اقدامات نے عوامی شمولیت کو فروغ دیا ہے۔ نکشے متر اور نکشے پوشن یوجنا جیسے پروگرام مریضوں کو غذائی اور سماجی سہارا فراہم کر رہے ہیں۔
اس کے باوجود چیلنجز باقی ہیں، خاص طور پر ملٹی ڈرگ ریزسٹنٹ ٹی بی، غذائی قلت اور سماجی بدنامی۔ 2025 کا ہدف مکمل طور پر حاصل نہ ہونے کے باوجود پیش رفت امید افزا ہے اور مزید تیزی کی ضرورت ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ صحت، غذائیت اور آگاہی کو یکجا کر کے اس جدوجہد کو مضبوط بنایا جائے۔ دیہی اور شہری سطح پر بروقت تشخیص، مسلسل علاج اور مریضوں کی رہنمائی کو یقینی بنانا ہوگا تاکہ کوئی بھی فرد علاج سے محروم نہ رہے۔
اس کے ساتھ ساتھ معاشرے میں شعور بیدار کرنا بھی ناگزیر ہے تاکہ ٹی بی کو بدنامی کے بجائے ایک قابلِ علاج بیماری کے طور پر دیکھا جائے۔ جب تک عوام خود اس مہم کا حصہ نہیں بنتے، اس مرض کا مکمل خاتمہ ممکن نہیں۔
ٹی بی کا خاتمہ اب خواب نہیں بلکہ حقیقت بن سکتا ہے، بشرطیکہ حکومت اور عوام مل کر اس مشن کو مستقل مزاجی کے ساتھ آگے بڑھائیں۔


