دنیا بھر میں عید الفطر منائی جا رہی ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام کی خوشی لاتی ہے، مگر اس بار یہ خوشی عالمی کشیدگی اور بے یقینی کے سائے میں دب گئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں اور اس کے ردِعمل میں خطے میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین کی طویل جنگ، نیز افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام عالمی امن کے لئے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
ان تمام حالات کے درمیان سب سے زیادہ دلخراش منظر غزہ کا ہے، جہاں معصوم جانیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں اور بنیادی انسانی سہولیات بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ اس سال ایک اور افسوسناک لمحہ تب سامنے آیا جب مسجد اقصیٰ میں صدیوں بعد عید کی نماز ادا نہ ہو سکی، جو پوری امت مسلمہ کے لئے گہرے صدمے کا باعث ہے۔
عید کا اصل پیغام صبر، قربانی، اتحاد اور امن ہے، مگر دنیا جس سمت میں بڑھ رہی ہے وہ ان اقدار کے بالکل برعکس ہے۔ طاقت کے استعمال، سیاسی مفادات اور انتقامی کارروائیوں نے انسانیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی قیادت ہوش کے ناخن لے، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے اور مظلوموں کی داد رسی کو یقینی بنائے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو عید جیسے مواقع بھی صرف رسمی خوشیوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
یہ عید ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ حقیقی خوشی صرف اسی وقت ممکن ہے جب دنیا میں امن، انصاف اور انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔ دعا ہے کہ یہ مبارک دن نفرتوں کو کم کرے اور ایک پرامن مستقبل کی بنیاد رکھے۔
جنگ کے سائے میں عید
جنگ کے سائے میں عید
دنیا بھر میں عید الفطر منائی جا رہی ہے، جو رمضان المبارک کے اختتام کی خوشی لاتی ہے، مگر اس بار یہ خوشی عالمی کشیدگی اور بے یقینی کے سائے میں دب گئی ہے۔
امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جارحانہ پالیسیوں اور اس کے ردِعمل میں خطے میں بڑھتی عسکری سرگرمیوں نے صورتحال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ دوسری جانب روس اور یوکرین کی طویل جنگ، نیز افغانستان اور پاکستان میں عدم استحکام عالمی امن کے لئے مستقل خطرہ بن چکا ہے۔
ان تمام حالات کے درمیان سب سے زیادہ دلخراش منظر غزہ کا ہے، جہاں معصوم جانیں مسلسل نشانہ بن رہی ہیں اور بنیادی انسانی سہولیات بھی ناپید ہو چکی ہیں۔ اس سال ایک اور افسوسناک لمحہ تب سامنے آیا جب مسجد اقصیٰ میں صدیوں بعد عید کی نماز ادا نہ ہو سکی، جو پوری امت مسلمہ کے لئے گہرے صدمے کا باعث ہے۔
عید کا اصل پیغام صبر، قربانی، اتحاد اور امن ہے، مگر دنیا جس سمت میں بڑھ رہی ہے وہ ان اقدار کے بالکل برعکس ہے۔ طاقت کے استعمال، سیاسی مفادات اور انتقامی کارروائیوں نے انسانیت کو پسِ پشت ڈال دیا ہے۔
آج ضرورت اس بات کی ہے کہ عالمی قیادت ہوش کے ناخن لے، جنگ کے بجائے مذاکرات کو ترجیح دے اور مظلوموں کی داد رسی کو یقینی بنائے۔ اگر یہی روش برقرار رہی تو عید جیسے مواقع بھی صرف رسمی خوشیوں تک محدود ہو کر رہ جائیں گے۔
یہ عید ہمیں یہ یاد دہانی کراتی ہے کہ حقیقی خوشی صرف اسی وقت ممکن ہے جب دنیا میں امن، انصاف اور انسانیت کو فروغ حاصل ہو۔ دعا ہے کہ یہ مبارک دن نفرتوں کو کم کرے اور ایک پرامن مستقبل کی بنیاد رکھے۔


