جنگ نیوز ڈیسک
نئی دہلی/متحدہ عرب امارات کے بھارت میں پہلے سفیر حسین حسن مرزا نے کہا ہے کہ امارات ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری تنازع میں شامل ہونے کا خواہش مند نہیں اور نہ ہی وہ اپنے علاقے کو کسی بھی فریق کے لئے حملوں کے آغاز کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونے دے گا۔
ایک ٹی وی انٹرویو میں مرزا نے کہا کہ سچ پوچھیں تو ہمیں سمجھ نہیں آتا کہ ہم اس معاملے میں کیوں شامل ہوں، کیونکہ متحدہ عرب امارات کے لئے اس تنازع میں ملوث ہونے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابوظہبی ایک حساس جغرافیائی سیاسی مقام پر واقع ہے۔ ایک طرف وہ ایران کا ہمسایہ ہے اور دوسری جانب ابراہام معاہدوں کے تحت اسرائیل کا شراکت دار بھی ہے۔
مرزا کے مطابق یہی حیثیت متحدہ عرب امارات کو اہم بناتی ہے اور وہ دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات میں کردار ادا کر سکتا ہے۔
وزیر اعظم نریندر مودی کے خلیجی قیادت کے ساتھ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مودی کو نہ صرف خلیجی رہنماؤں بلکہ خطے کے عوام اور کاروباری حلقوں میں بھی عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور یہی اعتماد موجودہ تنازع کے دونوں فریقوں تک پھیلا ہوا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم مودی اگر ایران اور اسرائیل کے رہنماؤں کو صرف ایک فون کال کریں تو یہ مسئلہ ختم ہو سکتا ہے۔ ایک فون کال اس تنازع کو ختم کرنے کے لئے کافی ہو سکتی ہے۔
مرزا نے کہا کہ اس اعتماد کی وجہ یہ ہے کہ دونوں فریق، جنہیں انہوں نے جنگجو قرار دیا، اس وقت ایسی جنگ لڑ رہے ہیں جو ان کے بقول ہماری سر زمین پر لڑی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ایک دوسرے سے ہماری سرزمین پر لڑ رہے ہیں اور یہ ناقابلِ قبول ہے۔
مرزا نے واضح کیا کہ وہ فوجی ماہر نہیں ہیں، تاہم ان کے اندازے کے مطابق اب تک ہونے والے نقصانات کے بارے میں سامنے آنے والی اطلاعات درست ہیں۔
ادھر ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ میں کوئی کمی نظر نہیں آئی۔ ایران کے نئے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کی قیادت میں تبدیلی کے باوجود لڑائی جاری ہے۔ پیر کے روز اسرائیلی فوج نے وسطی ایران پر تازہ حملے کیے اور بیروت میں حزب اللہ کے ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا۔
جنگ کے انسانی نقصانات بھی مسلسل بڑھ رہے ہیں۔ اقوام متحدہ میں ایران کے سفیر کے مطابق شہری ہلاکتوں کی تعداد 1332 تک پہنچ گئی ہے جبکہ ہزاروں افراد زخمی ہوئے ہیں۔ امریکہ نے بھی تصدیق کی ہے کہ علاج کے دوران اس کا ایک اور فوجی ہلاک ہوگیا ہے، جس کے بعد مرنے والے امریکی فوجیوں کی تعداد سات ہوگئی ہے۔


