ایران، اسرائیل اور امریکہ کا تنازع پر ایک طائرانہ نظر

 

محمد سعدان
جامعہ ملیہ اسلامیہ

مشرق وسطی گزشتہ ایک صدی سے عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے یہاں کے تیل کے ذخائر جغرافیائی اہمیت مذہبی تقدس اور عالمی طاقتوں کا اسٹریٹیجک دلچسپی نے اسے مسلسل کشیدگی کا شکار بنا رکھا ہے۔ موجودہ وقت میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ عالمی سیاست کے نہایت ہی پرخطر اور پیچیدہ مسئلہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ یہ جنگ محض تین ریاستوں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت ، توانائی کی منڈی علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین تک پھیل رہے ہیں۔
ایرانی انقلاب اور تعلقات کی تبدیلی
19ویں صدی میں مشرق وسطی ایک اہم ریاست کے طور پر ابھرا، لیکن 1979 کا ایرانی انقلاب اس کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی و نظریاتی موڑ ثابت ہوا۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایران کے داخلی نظام کو تبدیل کیا بلکہ اس کے خارجہ پالیسی اور عالمی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات یکسر تبدیل ہو گئے۔
انقلاب سے پہلے کا ایران
انقلاب سے پہلے ایران پر محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی، شاہ مغرب نواز حکمراں تھے۔ اس دور میں ایران امریکہ کو بہترین دوست مانتا تھا اور امریکہ ایران کو مشرق وسطی میں اپنا اہم اتحادی سمجھتا تھا اور اسے اقتصادی و معاشی امداد بھی فراہم کرتا تھا حتی کہ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سفارتی و تجارتی روابط بھی تھے۔
1979 کا انقلاب اور تبدیلی
1979 میں عوامی احتجاج، سیاسی بدعنوانی ، معاشی عدم مساوات اور مذہبی قیادت کی مخالفت کے نتیجے میں شاہ کی حکومت ختم ہو گئی اور ایک اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ہوا ، اس انقلاب کے روح رواں آیت اللہ روح اللہ خمینی تھے ، ان کی قیادت میں یہ انقلاب کامیاب ہوا۔ انقلاب کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی امریکہ اور اسرائیل کو لے کر یکسر تبدیل ہو گئی، اس نے ریاست ببانگ دہل امریکہ کو استعماری طاقت اور اسرائیل کو ناجائز ریاست کہا۔
ایران اسرائیل اور امریکہ کا موجودہ تنازع
ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کا سب سے حساس اور مرکزی پہلو ایران کا جوہری پروگرام اور حکومت کی تبدیلی ہے جسے لے کر ایران پر امریکہ پچھلے کئی سالوں سے پابندیاں عائد کیے ہوا ہے، اور ابھی محض چھ ماہ قبل اسی جوہری ہتھیار کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے امریکہ کی معاونت سے ایران پر حملہ کیا اور یہ جنگ تقریبا 12 دنوں تک جاری رہی ، بالاخر آپسی مصالحت سے جنگ بندی کا اعلان ہوا ، جس میں کئ ہزار ناحق جانیں گئیں۔
قارئین کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ IAEA نے صریح لفظوں میں ایران کا جوہری پروگرام میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے ایران کسی طرح کا کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا ہے ، اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا چہ معنیٰ دارد؟؟؟
تاریخ ہمیں عراق و لیبیا کے ساتھ امریکہ کے ظلم وبربریت بھی بتاتی ہے کہ کس طرح صدام حسین اور معمر قذافی کو انہیں جھوٹے الزام میں تختۂ دار پر لٹکایا گیا اور دوسرے کو قتل کروایا گیا مگر دنیا آج تک ان الزام کو ثابت کرنے سے قاصر ہے بلکہ یہ بات ثابت ہو گئ ہے کہ ان پر حملہ کرنا امریکہ اور اس کی اتحادی ممالک کی بہت بڑی غلطی تھی ، جس غلطی کا خمیازہ لاکھوں معصوموں کو بھگتنا پڑا ۔ وہی کھیل اب امریکہ اور اسرائیل ایران میں کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں جس کو ایران سمجھ چکا ہے اور اس نے اپنا موقف بالکل صاف اور واضح کردیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقصد کے لیے ہے جبکہ اسرائیل اس کو اپنی سلامتی کے لیے اور اپنے وجود پر خطرہ بتاتا ہے تو امریکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پوری دنیا کی سالمیت کے لیے خطرہ بتارہا ہے۔
اسرائیل دراصل امریکہ کی مدد سے پورے مشرق وسطی پراپنی حکمرانی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے اور ایک حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہے ، خلیج کے تمام ممالک اس کے زیر نگیں ہیں ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں سوائے معدودے کہ جن میں سر فہرست بلکہ جن کا بادشاہ ایران ہے جو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے بھی دانت کھٹے کیے ہوئے ہے۔
ابھی ایران اور امریکہ گفت و شنید کے میز پر تھے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بھیڑیوں کی طرح بزدلانہ حملہ کردیا اور ان کے تقریبا 40 بڑے لیڈران کو بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی رحمہم اللہ کو شہید کردیا اور ساتھ ہی ساتھ پرائمری اسکول پر بھی بم برسایا جن میں تقریبا 180 معصوم پھول جاں بحق ہوگئے ، یہ ان کے ایران کو لے کر دہشت اور بوکھلاہٹ کو بتاتا ہے کہ کس طرح ایران سے اسرائیل اور امریکہ خائف ہیں۔ ان تمام کے باوجود ایران کا جنگ میں مرد غیور کی طرح ڈٹے رہنا ان تمام ممالک کو جن کا امریکہ سے کسی بھی اعتبار سے تعلقات ہیں یا اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ شریک ہیں نشانہ بنانا اور بیک وقت کئ ممالک کے ان علاقوں پرجہاں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں یا امریکہ نے ایئر بیس لے رکھا ہے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کرنا اس کی دلیری ، شجاعت ، ہمت و حوصلہ کو بتاتا ہے اور حضرت علی کی وراث ہونے کی مثال پیش کرتا ہے۔ ایران نے اپنا موقف بالکل واضح کر دیا ہے کہ اب امریکہ سے گفت و شنید کا وقت ختم ہو چکا ہے اب امریکہ سے کسی طرح کی بات چیت نہیں ہوگی اور نو منتخب سپریم لیڈر مجتبی خامنئی نے فتوی جاری کیا ہے کہ خون کا بدلہ خون اور مقام مقدس میں علم سیاہ (جو حزن و غم )اورعلم سرخ (جو انتقام کی علامت ہے) لگا دیے ہیں۔
اس جنگ میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جنگ حکومت کی تبدیلی کی نہیں بلکہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ ایک طرف ایک اکیلا ایران جو پورے مسلمانوں کی طرف سے ترجمان اسلام کی حیثیت سے نام نہاد سپر پاور امریکہ اور اسرائیل سے دست و گریباں ہیں اور بنام خدا اپنی پوری طاقت اسلام کے سربلندی کے لیے جھونک رہا ہے۔ یہ جنگ کہاں تلک جائے گی ابھی کسی کو نہیں معلوم ، لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے امریکہ اور اسرائیل کو اتنا آسان نہیں ہوگا ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنا۔ اس کا اثر نہ صرف مشرق وسطیٰ پر بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

ایران، اسرائیل اور امریکہ کا تنازع پر ایک طائرانہ نظر

 

محمد سعدان
جامعہ ملیہ اسلامیہ

مشرق وسطی گزشتہ ایک صدی سے عالمی سیاست کا مرکز بنا ہوا ہے یہاں کے تیل کے ذخائر جغرافیائی اہمیت مذہبی تقدس اور عالمی طاقتوں کا اسٹریٹیجک دلچسپی نے اسے مسلسل کشیدگی کا شکار بنا رکھا ہے۔ موجودہ وقت میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ عالمی سیاست کے نہایت ہی پرخطر اور پیچیدہ مسئلہ بنتے نظر آرہے ہیں۔ یہ جنگ محض تین ریاستوں کے درمیان جنگ نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی معیشت ، توانائی کی منڈی علاقائی استحکام اور بین الاقوامی قوانین تک پھیل رہے ہیں۔
ایرانی انقلاب اور تعلقات کی تبدیلی
19ویں صدی میں مشرق وسطی ایک اہم ریاست کے طور پر ابھرا، لیکن 1979 کا ایرانی انقلاب اس کی تاریخ کا سب سے بڑا سیاسی و نظریاتی موڑ ثابت ہوا۔ اس انقلاب نے نہ صرف ایران کے داخلی نظام کو تبدیل کیا بلکہ اس کے خارجہ پالیسی اور عالمی تعلقات پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ، خاص طور پر امریکہ اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات یکسر تبدیل ہو گئے۔
انقلاب سے پہلے کا ایران
انقلاب سے پہلے ایران پر محمد رضا شاہ پہلوی کی حکومت تھی، شاہ مغرب نواز حکمراں تھے۔ اس دور میں ایران امریکہ کو بہترین دوست مانتا تھا اور امریکہ ایران کو مشرق وسطی میں اپنا اہم اتحادی سمجھتا تھا اور اسے اقتصادی و معاشی امداد بھی فراہم کرتا تھا حتی کہ دونوں ممالک کے درمیان خفیہ سفارتی و تجارتی روابط بھی تھے۔
1979 کا انقلاب اور تبدیلی
1979 میں عوامی احتجاج، سیاسی بدعنوانی ، معاشی عدم مساوات اور مذہبی قیادت کی مخالفت کے نتیجے میں شاہ کی حکومت ختم ہو گئی اور ایک اسلامی جمہوریہ ایران کا وجود ہوا ، اس انقلاب کے روح رواں آیت اللہ روح اللہ خمینی تھے ، ان کی قیادت میں یہ انقلاب کامیاب ہوا۔ انقلاب کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی امریکہ اور اسرائیل کو لے کر یکسر تبدیل ہو گئی، اس نے ریاست ببانگ دہل امریکہ کو استعماری طاقت اور اسرائیل کو ناجائز ریاست کہا۔
ایران اسرائیل اور امریکہ کا موجودہ تنازع
ایران اسرائیل اور امریکہ کے درمیان جاری جنگ کا سب سے حساس اور مرکزی پہلو ایران کا جوہری پروگرام اور حکومت کی تبدیلی ہے جسے لے کر ایران پر امریکہ پچھلے کئی سالوں سے پابندیاں عائد کیے ہوا ہے، اور ابھی محض چھ ماہ قبل اسی جوہری ہتھیار کو بنیاد بنا کر اسرائیل نے امریکہ کی معاونت سے ایران پر حملہ کیا اور یہ جنگ تقریبا 12 دنوں تک جاری رہی ، بالاخر آپسی مصالحت سے جنگ بندی کا اعلان ہوا ، جس میں کئ ہزار ناحق جانیں گئیں۔
قارئین کو یہ بات معلوم ہونی چاہیے کہ IAEA نے صریح لفظوں میں ایران کا جوہری پروگرام میں ملوث ہونے سے انکار کیا ہے اور کہا ہے ایران کسی طرح کا کوئی ایٹمی ہتھیار نہیں بنا رہا ہے ، اس کے باوجود امریکہ اور اسرائیل کا ایران پر حملہ کرنا چہ معنیٰ دارد؟؟؟
تاریخ ہمیں عراق و لیبیا کے ساتھ امریکہ کے ظلم وبربریت بھی بتاتی ہے کہ کس طرح صدام حسین اور معمر قذافی کو انہیں جھوٹے الزام میں تختۂ دار پر لٹکایا گیا اور دوسرے کو قتل کروایا گیا مگر دنیا آج تک ان الزام کو ثابت کرنے سے قاصر ہے بلکہ یہ بات ثابت ہو گئ ہے کہ ان پر حملہ کرنا امریکہ اور اس کی اتحادی ممالک کی بہت بڑی غلطی تھی ، جس غلطی کا خمیازہ لاکھوں معصوموں کو بھگتنا پڑا ۔ وہی کھیل اب امریکہ اور اسرائیل ایران میں کھیلنے کی کوشش کررہے ہیں جس کو ایران سمجھ چکا ہے اور اس نے اپنا موقف بالکل صاف اور واضح کردیا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پر امن مقصد کے لیے ہے جبکہ اسرائیل اس کو اپنی سلامتی کے لیے اور اپنے وجود پر خطرہ بتاتا ہے تو امریکہ ایک قدم آگے بڑھ کر پوری دنیا کی سالمیت کے لیے خطرہ بتارہا ہے۔
اسرائیل دراصل امریکہ کی مدد سے پورے مشرق وسطی پراپنی حکمرانی اور بالادستی قائم کرنا چاہتا ہے اور ایک حد تک وہ اس میں کامیاب بھی ہے ، خلیج کے تمام ممالک اس کے زیر نگیں ہیں ، اس کے سامنے سجدہ ریز ہیں سوائے معدودے کہ جن میں سر فہرست بلکہ جن کا بادشاہ ایران ہے جو نہ صرف اسرائیل بلکہ امریکہ کے بھی دانت کھٹے کیے ہوئے ہے۔
ابھی ایران اور امریکہ گفت و شنید کے میز پر تھے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران پر بھیڑیوں کی طرح بزدلانہ حملہ کردیا اور ان کے تقریبا 40 بڑے لیڈران کو بشمول سپریم لیڈر آیت اللہ خمینی رحمہم اللہ کو شہید کردیا اور ساتھ ہی ساتھ پرائمری اسکول پر بھی بم برسایا جن میں تقریبا 180 معصوم پھول جاں بحق ہوگئے ، یہ ان کے ایران کو لے کر دہشت اور بوکھلاہٹ کو بتاتا ہے کہ کس طرح ایران سے اسرائیل اور امریکہ خائف ہیں۔ ان تمام کے باوجود ایران کا جنگ میں مرد غیور کی طرح ڈٹے رہنا ان تمام ممالک کو جن کا امریکہ سے کسی بھی اعتبار سے تعلقات ہیں یا اس جنگ میں امریکہ کے ساتھ شریک ہیں نشانہ بنانا اور بیک وقت کئ ممالک کے ان علاقوں پرجہاں امریکہ کے فوجی اڈے ہیں یا امریکہ نے ایئر بیس لے رکھا ہے اس پر میزائل اور ڈرون سے حملہ کرنا اس کی دلیری ، شجاعت ، ہمت و حوصلہ کو بتاتا ہے اور حضرت علی کی وراث ہونے کی مثال پیش کرتا ہے۔ ایران نے اپنا موقف بالکل واضح کر دیا ہے کہ اب امریکہ سے گفت و شنید کا وقت ختم ہو چکا ہے اب امریکہ سے کسی طرح کی بات چیت نہیں ہوگی اور نو منتخب سپریم لیڈر مجتبی خامنئی نے فتوی جاری کیا ہے کہ خون کا بدلہ خون اور مقام مقدس میں علم سیاہ (جو حزن و غم )اورعلم سرخ (جو انتقام کی علامت ہے) لگا دیے ہیں۔
اس جنگ میں یہ بات بالکل واضح ہے کہ جنگ حکومت کی تبدیلی کی نہیں بلکہ یہ اسلام اور کفر کی جنگ ہے۔ ایک طرف ایک اکیلا ایران جو پورے مسلمانوں کی طرف سے ترجمان اسلام کی حیثیت سے نام نہاد سپر پاور امریکہ اور اسرائیل سے دست و گریباں ہیں اور بنام خدا اپنی پوری طاقت اسلام کے سربلندی کے لیے جھونک رہا ہے۔ یہ جنگ کہاں تلک جائے گی ابھی کسی کو نہیں معلوم ، لیکن یہ بات یقین سے کہی جاسکتی ہے امریکہ اور اسرائیل کو اتنا آسان نہیں ہوگا ایران کے ساتھ جنگ جاری رکھنا۔ اس کا اثر نہ صرف مشرق وسطیٰ پر بلکہ پوری دنیا پر پڑ رہی ہے۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں