کشمیر اور  پٹرول پمپ کی دوڑ 

مدثر رشید

وادی میں جب بھی ہڑتال، بند یا کسی غیر یقینی صورتِ حال کی خبر گردش کرتی ہے تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعلان ہو گیا ہو کہ اب سب کچھ ختم ہونے والا ہے، اور لوگ سب سے پہلے پٹرول پمپس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، کین، بوتلیں۔ ہر طرف بے چینی اور جلد بازی۔ ایسا طرزِ عمل شاید ہی کہیں اور اس شدت کے ساتھ دکھائی دیتا ہو۔
یہ صرف ایندھن خریدنے کا معاملہ نہیں، بلکہ خوف کی نفسیات کا عکس ہے۔ افواہیں، اندیشے اور غیر یقینی کیفیت مل کر ایک ایسی فضا بنا دیتے ہیں جہاں ہر شخص اپنی فکر میں دوسروں کو بھول جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جو قلت حقیقت میں نہیں ہوتی، وہ ہمارے رویّوں سے پیدا ہو جاتی ہے۔
اس ہجوم کا سب سے زیادہ نقصان اُن لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہوتے ہیں۔ مریض کو ہسپتال لے جانے والا، ایمرجنسی خدمات سے وابستہ افراد یا روزگار کے لیے نکلنے والا مزدور، سب اس بے ہنگم دوڑ میں پس جاتے ہیں۔ معاشرہ اسی وقت کمزور ہوتا ہے جب ذاتی خوف اجتماعی ذمہ داری پر غالب آ جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے آزمائشوں سے کچھ سیکھا؟ کیا ہر غیر یقینی خبر پر گھبراہٹ ہی ہمارا مقدر رہے گی؟ اگر ہر فرد اپنی ضرورت تک محدود رہے اور یہ سوچے کہ اس کا غیر ضروری ذخیرہ کسی اور کی بنیادی ضرورت روک سکتا ہے، تو شاید یہ منظر بدل جائے۔
ایسے حالات میں سب سے اہم چیز اعتماد ہے۔ ہمیں انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر بھروسہ رکھنا ہوگا کہ وہ رسد اور نظام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بروقت اور واضح اطلاعات دی جائیں اور عوام تحمل کا مظاہرہ کریں تو نہ افواہوں کو جگہ ملے گی اور نہ ہی مصنوعی بحران پیدا ہوگا
اسلام بھی ہمیں اعتدال، صبر اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن ہمیں اسراف سے روکتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے مصیبت کے وقت صبر و تحمل اور باہمی ہمدردی کی تلقین فرمائی ہے۔ مشکل گھڑی میں گھبراہٹ نہیں بلکہ یقین اور نظم کام آتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوف کے بجائے اعتماد کو فروغ دیں، افواہوں کے بجائے حقیقت کو سمجھیں، اور خود غرضی کے بجائے ایثار کو اپنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک ذمہ دار اور باشعور معاشرے کی پہچان بنتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

تازہ ترین خبریں

مہاراشٹر کے سولاپور میں مسافروں سے بھری گاڑی کنویں میں جا گری، 14 عقیدت مندوں کی موت

سولاپور (مہاراشٹر): سولاپور ضلع کے مالشیرس تعلقہ میں اتوار کو...

موسم کے متعلق جانکاری

14 جون۔  چند حصوں میں دیر سے دوپہر/شام تک...

جموں سرینگر قومی شاہراہ پر سڑک حادثے میں ہریانہ کے تین افراد ہلاک

سرینگر۔ جموں کے نگروٹا علاقے میں اتوار کی اولین ساعتوں...

مجبور مسکراہٹ

ماجد مجید کشمیر یونیورسٹی حسد ایک ایسی بیماری ہے کہ جب...

استاد کا پیشہ ایک قومی ذمہ داری ہے

محمد شبیر کھٹانہ تعلیم ہر بچے کا بنیادی اور آئینی...

کشمیر اور  پٹرول پمپ کی دوڑ 

مدثر رشید

وادی میں جب بھی ہڑتال، بند یا کسی غیر یقینی صورتِ حال کی خبر گردش کرتی ہے تو ایک عجیب منظر دیکھنے کو ملتا ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے اعلان ہو گیا ہو کہ اب سب کچھ ختم ہونے والا ہے، اور لوگ سب سے پہلے پٹرول پمپس کی طرف دوڑ پڑتے ہیں۔ گاڑیاں، موٹر سائیکلیں، کین، بوتلیں۔ ہر طرف بے چینی اور جلد بازی۔ ایسا طرزِ عمل شاید ہی کہیں اور اس شدت کے ساتھ دکھائی دیتا ہو۔
یہ صرف ایندھن خریدنے کا معاملہ نہیں، بلکہ خوف کی نفسیات کا عکس ہے۔ افواہیں، اندیشے اور غیر یقینی کیفیت مل کر ایک ایسی فضا بنا دیتے ہیں جہاں ہر شخص اپنی فکر میں دوسروں کو بھول جاتا ہے۔ نتیجہ یہ کہ جو قلت حقیقت میں نہیں ہوتی، وہ ہمارے رویّوں سے پیدا ہو جاتی ہے۔
اس ہجوم کا سب سے زیادہ نقصان اُن لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے جو واقعی ضرورت مند ہوتے ہیں۔ مریض کو ہسپتال لے جانے والا، ایمرجنسی خدمات سے وابستہ افراد یا روزگار کے لیے نکلنے والا مزدور، سب اس بے ہنگم دوڑ میں پس جاتے ہیں۔ معاشرہ اسی وقت کمزور ہوتا ہے جب ذاتی خوف اجتماعی ذمہ داری پر غالب آ جائے۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم نے آزمائشوں سے کچھ سیکھا؟ کیا ہر غیر یقینی خبر پر گھبراہٹ ہی ہمارا مقدر رہے گی؟ اگر ہر فرد اپنی ضرورت تک محدود رہے اور یہ سوچے کہ اس کا غیر ضروری ذخیرہ کسی اور کی بنیادی ضرورت روک سکتا ہے، تو شاید یہ منظر بدل جائے۔
ایسے حالات میں سب سے اہم چیز اعتماد ہے۔ ہمیں انتظامیہ اور متعلقہ اداروں پر بھروسہ رکھنا ہوگا کہ وہ رسد اور نظام کو برقرار رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ اگر بروقت اور واضح اطلاعات دی جائیں اور عوام تحمل کا مظاہرہ کریں تو نہ افواہوں کو جگہ ملے گی اور نہ ہی مصنوعی بحران پیدا ہوگا
اسلام بھی ہمیں اعتدال، صبر اور دوسروں کے حق کا خیال رکھنے کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن ہمیں اسراف سے روکتا ہے اور رسولِ اکرم ﷺ نے مصیبت کے وقت صبر و تحمل اور باہمی ہمدردی کی تلقین فرمائی ہے۔ مشکل گھڑی میں گھبراہٹ نہیں بلکہ یقین اور نظم کام آتا ہے۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خوف کے بجائے اعتماد کو فروغ دیں، افواہوں کے بجائے حقیقت کو سمجھیں، اور خود غرضی کے بجائے ایثار کو اپنائیں۔ یہی وہ راستہ ہے جو ایک ذمہ دار اور باشعور معاشرے کی پہچان بنتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں