TET اصلاحات، مزاحمت اور طلبہ کا مستقبل

وزیر تعلیم سکینہ ایتو کا یہ بیان کہ جموں کشمیر ملک کا آخری خطہ ہوگا جہاں ٹیچر ایلیجبلیٹی ٹیسٹ (TET) کے رہنما اصول نافذ کیے جائیں گے، خطے کے تعلیمی نظام کے لئے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SED) کی جانب سے باضابطہ حکم جاری ہونے کے بعد یہ معاملہ بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ اگرچہ حکومت نے دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا طلبہ کے مستقبل کی قیمت پر مزید تاخیر کی جا سکتی ہے؟تاہم بعض اساتذہ تنظیموں کی جانب سے TET کی مکمل مخالفت تشویش کا باعث ہے۔ اگر کوئی استاد اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت پر یقین رکھتا ہے تو ایک معیاری امتحان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ احتساب سے فرار دراصل نااہلی کا تاثر پیدا کرتا ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
TETکے نفاذ کا مقصد اساتذہ کے معیار کے لئے قومی سطح پر ایک پیمانہ قائم کرنا، ٹیچر ایجوکیشن اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور حکومت کی جانب سے تعلیمی معیار پر خصوصی توجہ کو واضح کرنا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں یہ امتحان تقرری کے لئے لازمی شرط بن چکا ہے۔ ایسے میں جموں و کشمیر میں اس کا تاخیر سے نفاذ تعلیمی برابری اور مسابقتی معیار کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹی ای ٹی محض ایک امتحان نہیں بلکہ معیار کی جانچ کا نظام ہے۔ مضبوط تعلیمی نظام اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب اساتذہ کی تقرری شفاف، میرٹ پر مبنی اور اہلیت کے مطابق ہو۔کشمیر جہاں نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے، وہاں کمزور بنیادیں پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔ طلبہ کے مستقبل کو کسی بھی دباؤ یا وقتی مفادات کی نذر کرنا ایک غیر صحت مند رجحان ہوگا۔
دوسری جانب وزیر تعلیم کی جانب سے تجربہ کار اساتذہ کے احترام اور ان کے تحفظات کو سننے کی بات خوش آئند ہے۔ مرحلہ وار نفاذ، تربیتی پروگرامز یا مناسب رعایت جیسے اقدامات کے ذریعے اصلاحات اور انصاف میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ پالیسی سازی میں سختی کے ساتھ انسانیت بھی ضروری ہے۔
یہ معاملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں اساتذہ کی تربیت کے اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ایڈ اور ڈی ایڈ پروگرامز کی بہتری، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور جدید تدریسی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ اصلاحات صرف امتحان تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ پورے نظام کی بہتری کا ذریعہ بننی چاہئیں۔
آخرکار یہ کشمکش حکومت اور اساتذہ کے درمیان نہیں بلکہ طلبہ کے حقِ تعلیم کے بارے میں ہے۔ اگر مقصد ایک مضبوط اور باوقار تعلیمی نظام کی تشکیل ہے تو معیار بلند کرنا ناگزیر ہے۔ وقتی دباؤ کے تحت تاخیر شاید کچھ حلقوں کو مطمئن کر دے، مگر طویل المدت بنیادوں پر یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جموں و کشمیر ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ انتخاب یہ ہے کہ یا تو ہم روایتی کمزوریوں کو برقرار رکھیں یا احتساب اور معیار کو اپناتے ہوئے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ طلبہ کا مفاد ہر حال میں اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

TET اصلاحات، مزاحمت اور طلبہ کا مستقبل

وزیر تعلیم سکینہ ایتو کا یہ بیان کہ جموں کشمیر ملک کا آخری خطہ ہوگا جہاں ٹیچر ایلیجبلیٹی ٹیسٹ (TET) کے رہنما اصول نافذ کیے جائیں گے، خطے کے تعلیمی نظام کے لئے ایک اہم موڑ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اسکول ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ (SED) کی جانب سے باضابطہ حکم جاری ہونے کے بعد یہ معاملہ بحث کا مرکز بن چکا ہے۔ اگرچہ حکومت نے دہائیوں سے خدمات انجام دینے والے اساتذہ کے تحفظات کو مدنظر رکھنے کی یقین دہانی کرائی ہے، مگر اصل سوال یہ ہے کہ کیا طلبہ کے مستقبل کی قیمت پر مزید تاخیر کی جا سکتی ہے؟تاہم بعض اساتذہ تنظیموں کی جانب سے TET کی مکمل مخالفت تشویش کا باعث ہے۔ اگر کوئی استاد اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت پر یقین رکھتا ہے تو ایک معیاری امتحان سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہونی چاہیے۔ احتساب سے فرار دراصل نااہلی کا تاثر پیدا کرتا ہے اور عوامی اعتماد کو مجروح کرتا ہے۔
TETکے نفاذ کا مقصد اساتذہ کے معیار کے لئے قومی سطح پر ایک پیمانہ قائم کرنا، ٹیچر ایجوکیشن اداروں کی کارکردگی بہتر بنانا اور حکومت کی جانب سے تعلیمی معیار پر خصوصی توجہ کو واضح کرنا ہے۔ ملک کے دیگر حصوں میں یہ امتحان تقرری کے لئے لازمی شرط بن چکا ہے۔ ایسے میں جموں و کشمیر میں اس کا تاخیر سے نفاذ تعلیمی برابری اور مسابقتی معیار کے حوالے سے سوالات کھڑے کرتا ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ٹی ای ٹی محض ایک امتحان نہیں بلکہ معیار کی جانچ کا نظام ہے۔ مضبوط تعلیمی نظام اسی وقت تشکیل پاتا ہے جب اساتذہ کی تقرری شفاف، میرٹ پر مبنی اور اہلیت کے مطابق ہو۔کشمیر جہاں نوجوانوں کے بہتر مستقبل اور روزگار کے مواقع کا انحصار معیاری تعلیم پر ہے، وہاں کمزور بنیادیں پورے معاشرے کو متاثر کرتی ہیں۔ طلبہ کے مستقبل کو کسی بھی دباؤ یا وقتی مفادات کی نذر کرنا ایک غیر صحت مند رجحان ہوگا۔
دوسری جانب وزیر تعلیم کی جانب سے تجربہ کار اساتذہ کے احترام اور ان کے تحفظات کو سننے کی بات خوش آئند ہے۔ مرحلہ وار نفاذ، تربیتی پروگرامز یا مناسب رعایت جیسے اقدامات کے ذریعے اصلاحات اور انصاف میں توازن قائم کیا جا سکتا ہے۔ پالیسی سازی میں سختی کے ساتھ انسانیت بھی ضروری ہے۔
یہ معاملہ اس بات کی بھی نشاندہی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں اساتذہ کی تربیت کے اداروں کو جدید تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ ایڈ اور ڈی ایڈ پروگرامز کی بہتری، مسلسل پیشہ ورانہ تربیت اور جدید تدریسی طریقوں کو اپنانا ناگزیر ہے۔ اصلاحات صرف امتحان تک محدود نہیں ہونی چاہئیں بلکہ پورے نظام کی بہتری کا ذریعہ بننی چاہئیں۔
آخرکار یہ کشمکش حکومت اور اساتذہ کے درمیان نہیں بلکہ طلبہ کے حقِ تعلیم کے بارے میں ہے۔ اگر مقصد ایک مضبوط اور باوقار تعلیمی نظام کی تشکیل ہے تو معیار بلند کرنا ناگزیر ہے۔ وقتی دباؤ کے تحت تاخیر شاید کچھ حلقوں کو مطمئن کر دے، مگر طویل المدت بنیادوں پر یہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔
جموں و کشمیر ایک اہم دوراہے پر کھڑا ہے۔ انتخاب یہ ہے کہ یا تو ہم روایتی کمزوریوں کو برقرار رکھیں یا احتساب اور معیار کو اپناتے ہوئے مستقبل کو محفوظ بنائیں۔ طلبہ کا مفاد ہر حال میں اولین ترجیح ہونا چاہیے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں