بھارت کیلئے سفارتی توازن کی آزمائش

وزیر اعظم نریندر مودی کا دورۂ اسرائیل 26 فروری کو اختتام پذیر ہوا اور یہ دورہ ایک ایسے وقت میں انجام پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کی سیاست غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ نو برس قبل جولائی 2017 میں مودی کا پہلا تاریخی دورہ، جو آزادی کے بعد کسی بھی بھارتی وزیرِ اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا، دوطرفہ تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد رکھ گیا تھا۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجم نیتین یاہوکے ساتھ مل کر انہوں نے تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ آج یہ رشتہ محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
تازہ دورے کا مقصد دفاعی، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا اور تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی، زراعت، آبی انتظام اور سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایک اہم شراکت دار ہے، جبکہ بھارت ایک بڑی منڈی اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر اسرائیل کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بظاہر مشترکہ اعلامیے میں تعاون کے نئے پہلوؤں پر زور دیا گیا ہوگا، تاہم اس کے پس منظر میں اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتِ حال بھی کم اہم نہیں۔
اکتوبر 2026 میں اسرائیل میں عام انتخابات متوقع ہیں اور ملک اندرونی تقسیم، غزہ اور مغربی کنارے کی صورتِ حال، اور عالمی دباؤ کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں خطے میں ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے عناصر کے تناظر میں ایک علاقائی صف بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔بھارت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اس کے تاریخی اور تزویراتی روابط قائم ہیں۔ خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ بھی نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت کو فروغ دیا ہے۔ مزید برآں، بھارت فلسطینی کاز کی اصولی حمایت کرتا آیا ہے اور مسئلے کے پرامن، مذاکراتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔
یہی وہ نازک توازن ہے جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ایک جانب اسرائیل کے ساتھ دفاعی و اقتصادی تعاون کو مستحکم رکھنا ہے، تو دوسری جانب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ جیسے منصوبوں کو جاری رکھنا، عرب دنیا سے تعلقات کو گہرا کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
بھارت کو خطے کی شیعہ-سنی رقابت کا فریق بننے سے گریز کرنا ہوگا، کیونکہ یہ مسابقت اس خطے کی مخصوص پیچیدگی ہے اور کسی بھی یک طرفہ جھکاؤ کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مودی کا حالیہ دورہ بلاشبہ سفارتی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اصل آزمائش اس توازن کو برقرار رکھنے میں ہے جو بھارت کو ایک ذمہ دار اور خود مختار عالمی کردار کے طور پر مستحکم کرے۔ اگر نئی دہلی دانش مندی سے یہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ بھارت کی وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کے لئے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

بھارت کیلئے سفارتی توازن کی آزمائش

وزیر اعظم نریندر مودی کا دورۂ اسرائیل 26 فروری کو اختتام پذیر ہوا اور یہ دورہ ایک ایسے وقت میں انجام پایا ہے جب مشرقِ وسطیٰ اور مغربی ایشیا کی سیاست غیر معمولی تبدیلیوں سے گزر رہی ہے۔ نو برس قبل جولائی 2017 میں مودی کا پہلا تاریخی دورہ، جو آزادی کے بعد کسی بھی بھارتی وزیرِ اعظم کا اسرائیل کا پہلا دورہ تھا، دوطرفہ تعلقات کی ایک مضبوط بنیاد رکھ گیا تھا۔ اس وقت کے اسرائیلی وزیرِ اعظم بینجم نیتین یاہوکے ساتھ مل کر انہوں نے تعلقات کو وسعت دینے کے عزم کا اظہار کیا تھا۔ آج یہ رشتہ محض سفارتی روابط تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع اسٹریٹجک شراکت داری کی صورت اختیار کر چکا ہے۔
تازہ دورے کا مقصد دفاعی، تکنیکی اور اقتصادی تعاون کو مزید وسعت دینا اور تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانا ہے۔ اسرائیل دفاعی ٹیکنالوجی، زراعت، آبی انتظام اور سائبر سکیورٹی کے میدان میں ایک اہم شراکت دار ہے، جبکہ بھارت ایک بڑی منڈی اور ابھرتی ہوئی عالمی طاقت کے طور پر اسرائیل کے لئے غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ بظاہر مشترکہ اعلامیے میں تعاون کے نئے پہلوؤں پر زور دیا گیا ہوگا، تاہم اس کے پس منظر میں اسرائیل کی داخلی سیاسی صورتِ حال بھی کم اہم نہیں۔
اکتوبر 2026 میں اسرائیل میں عام انتخابات متوقع ہیں اور ملک اندرونی تقسیم، غزہ اور مغربی کنارے کی صورتِ حال، اور عالمی دباؤ کے باعث ایک نازک مرحلے سے گزر رہا ہے۔ ایسے میں خطے میں ایران، حماس، حزب اللہ اور حوثیوں جیسے عناصر کے تناظر میں ایک علاقائی صف بندی کی کوششیں بھی جاری ہیں۔بھارت کی خصوصیت یہ ہے کہ اس کے اسرائیل کے ساتھ مضبوط تعلقات ہیں تو دوسری جانب ایران کے ساتھ بھی اس کے تاریخی اور تزویراتی روابط قائم ہیں۔ خلیجی اور عرب ممالک کے ساتھ بھی نئی دہلی نے حالیہ برسوں میں اقتصادی اور اسٹریٹجک شراکت کو فروغ دیا ہے۔ مزید برآں، بھارت فلسطینی کاز کی اصولی حمایت کرتا آیا ہے اور مسئلے کے پرامن، مذاکراتی حل کی وکالت کرتا رہا ہے۔
یہی وہ نازک توازن ہے جسے وزیرِ اعظم نریندر مودی کو برقرار رکھنا ہوگا۔ ایک جانب اسرائیل کے ساتھ دفاعی و اقتصادی تعاون کو مستحکم رکھنا ہے، تو دوسری جانب ایران میں چاہ بہار بندرگاہ جیسے منصوبوں کو جاری رکھنا، عرب دنیا سے تعلقات کو گہرا کرنا اور مشرقِ وسطیٰ میں کام کرنے والے لاکھوں بھارتی شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنانا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
بھارت کو خطے کی شیعہ-سنی رقابت کا فریق بننے سے گریز کرنا ہوگا، کیونکہ یہ مسابقت اس خطے کی مخصوص پیچیدگی ہے اور کسی بھی یک طرفہ جھکاؤ کے دور رس اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ مودی کا حالیہ دورہ بلاشبہ سفارتی اہمیت کا حامل ہے، لیکن اصل آزمائش اس توازن کو برقرار رکھنے میں ہے جو بھارت کو ایک ذمہ دار اور خود مختار عالمی کردار کے طور پر مستحکم کرے۔ اگر نئی دہلی دانش مندی سے یہ توازن قائم رکھنے میں کامیاب رہتی ہے تو یہ دورہ نہ صرف دوطرفہ تعلقات بلکہ بھارت کی وسیع تر علاقائی حکمتِ عملی کے لئے بھی سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں