جنگ نیوز ڈیسک
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کے روز جموں و کشمیر کے لیے مالی سال27-2026 کا 113767 کروڑ روپے کا بجٹ اسمبلی میں پیش کیا۔ یہ ان کا یونین ٹیریٹری کا دوسرا بجٹ ہے۔
بجٹ کے مطابق 80640 کروڑ روپے ریونیو اخراجات اور 33127 کروڑ روپے سرمایہ جاتی اخراجات کے لیے مختص کیے گئے ہیں۔ ریونیو وصولیاں 90018 کروڑ اور سرمایہ جاتی وصولیاں 23749 کروڑ روپے متوقع ہیں، جبکہ جموں و کشمیر کی اپنی آمدنی 31800 کروڑ روپے بتائی گئی ہے۔ مرکز سے 42752 کروڑ روپے امداد اور 13400 کروڑ روپے مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے تحت ملیں گے۔ مالی خسارہ69.3فیصد اور جی ڈی پی 27-2026کے لیے 315822 کروڑ روپے متوقع ہے۔
بجٹ کے اہم اعلانات میں تمام انتودیہ انا یوجنا خاندانوں کو سالانہ چھ مفت ایل پی جی سلنڈر دینے کا فیصلہ شامل ہے۔ غریب ترین خاندانوں کے طلبہ کے لیے جماعت 9 سے گریجویشن تک سرکاری تعلیمی اداروں میں فیس مکمل معاف کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔ 6000 یتیم بچوں کے لیے ماہانہ 4000 روپے کی اسپانسرشپ اسکیم بھی متعارف کرائی گئی۔
صحت کے شعبے میں سرحدی اضلاع کے لیے بلٹ پروف ایمبولینسز، اُڑی اور پونچھ میں ایمرجنسی و حادثاتی اسپتال، راجوری اور بارہمولہ کے گورنمنٹ میڈیکل کالجوں میں کیتھ لیبز کے قیام اور تمام جی ایم سی میں ایمرجنسی میڈیسن شعبے قائم کرنے کا اعلان کیا گیا۔ حکومت نے کینسر کنٹرول اسٹریٹجی، معذور افراد کے لیے مفت سرکاری ٹرانسپورٹ میں توسیع اور دور دراز علاقوں میں تعینات ملازمین کے لیے مراعاتی اسکیم پر بھی غور کا عندیہ دیا۔


