سری نگر کے نوشہرہ علاقے میں 65 سالہ خاتون کا گلا ریت کر قتل کیا جانا ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے پورے کشمیرمیں ضمیر سے لبریز لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس قتل میں گھریلو ملازم کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ایک عمر رسیدہ خاتون کا اپنے ہی گھر میں اس طرح بے رحمی سے قتل ہونا ہمارے سماج کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیر میں اس نوعیت کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے کئی سانحات پیش آ چکے ہیں جہاں ضعیف اور بیمار افراد کو نامعلوم گھریلو ملازموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اکثر یہ ملازم غریب پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور جب وہ یہاں نسبتاً آسودہ اور پُر تعیش طرزِ زندگی دیکھتے ہیں تو بعض اوقات لالچ اور مجرمانہ سوچ ان پر غالب آ جاتی ہے، جس کا انجام لوٹ مار اور کبھی کبھی قتل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر گھریلو ملازم کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ تو درست ہے اور نہ ہی منصفانہ۔ غربت جرم کی مترادف نہیں۔ بے شمار گھریلو ملازم ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ ملازم کی اصل یا پس منظر نہیں بلکہ بغیر تصدیق، بغیر نگرانی اور اندھے اعتماد کے تحت کسی اجنبی کے ہاتھوں بزرگوں کی زندگی سونپ دینا ہے۔
یہ واقعہ ہمارے خاندانی اور سماجی ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی دراڑ کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کے کمزور ہونے اور مصروف زندگی کے باعث بزرگ اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ جذباتی تنہائی بھی ان کی زندگی کو مزید غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ ایسے میں اگر گھریلو ملازم کی کوئی جانچ پڑتال نہ ہو تو خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سماجی غفلت بھی کسی ہتھیار سے کم مہلک نہیں۔ مقتول خاتون کو انصاف دلانا ناگزیر ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہونے دیں۔ یہی ایک مہذب اور ذمہ دار سماج کی پہچان ہے۔
نگہداشت میں درندگی،ایک انتباہ
نگہداشت میں درندگی،ایک انتباہ
سری نگر کے نوشہرہ علاقے میں 65 سالہ خاتون کا گلا ریت کر قتل کیا جانا ایک ایسا دل دہلا دینے والا واقعہ ہے جس نے پورے کشمیرمیں ضمیر سے لبریز لوگوں کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔اطلاعات کے مطابق اس قتل میں گھریلو ملازم کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ ایک عمر رسیدہ خاتون کا اپنے ہی گھر میں اس طرح بے رحمی سے قتل ہونا ہمارے سماج کے لئے لمحۂ فکریہ ہے۔
افسوسناک امر یہ ہے کہ کشمیر میں اس نوعیت کے واقعات نئے نہیں ہیں۔ ماضی میں بھی ایسے کئی سانحات پیش آ چکے ہیں جہاں ضعیف اور بیمار افراد کو نامعلوم گھریلو ملازموں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا۔ اکثر یہ ملازم غریب پس منظر سے تعلق رکھتے ہیں اور جب وہ یہاں نسبتاً آسودہ اور پُر تعیش طرزِ زندگی دیکھتے ہیں تو بعض اوقات لالچ اور مجرمانہ سوچ ان پر غالب آ جاتی ہے، جس کا انجام لوٹ مار اور کبھی کبھی قتل کی صورت میں سامنے آتا ہے۔
تاہم یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ ہر گھریلو ملازم کو شک کی نگاہ سے دیکھنا نہ تو درست ہے اور نہ ہی منصفانہ۔ غربت جرم کی مترادف نہیں۔ بے شمار گھریلو ملازم ایمانداری اور دیانت داری کے ساتھ اپنی خدمات انجام دیتے ہیں۔ اصل مسئلہ ملازم کی اصل یا پس منظر نہیں بلکہ بغیر تصدیق، بغیر نگرانی اور اندھے اعتماد کے تحت کسی اجنبی کے ہاتھوں بزرگوں کی زندگی سونپ دینا ہے۔
یہ واقعہ ہمارے خاندانی اور سماجی ڈھانچے میں بڑھتی ہوئی دراڑ کو بھی بے نقاب کرتا ہے۔ جوائنٹ فیملی سسٹم کے کمزور ہونے اور مصروف زندگی کے باعث بزرگ اکثر تنہائی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ جسمانی کمزوری کے ساتھ جذباتی تنہائی بھی ان کی زندگی کو مزید غیر محفوظ بنا دیتی ہے۔ ایسے میں اگر گھریلو ملازم کی کوئی جانچ پڑتال نہ ہو تو خطرات کئی گنا بڑھ جاتے ہیں۔
یہ سانحہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ سماجی غفلت بھی کسی ہتھیار سے کم مہلک نہیں۔ مقتول خاتون کو انصاف دلانا ناگزیر ہے، لیکن اس سے بھی زیادہ ضروری یہ ہے کہ ہم ایسے حالات دوبارہ پیدا نہ ہونے دیں۔ یہی ایک مہذب اور ذمہ دار سماج کی پہچان ہے۔


