بورڈ آف پیس کے قیام اور ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی سفارتی سرگرمی نے ایک بار پھر غزہ کو عالمی سیاست کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے۔فلسطین جو دہائیوں سے قبضے، محاصرے اور مسلسل جنگوں کا شکار رہا ہے، وہاں امن کی معمولی سی امید بھی محتاط توقعات کو جنم دیتی ہے۔
اگر یہ اقدام واقعی سنجیدہ ہے تو اسے علامتی اعلانات سے آگے بڑھنا ہوگا۔ غزہ کو کسی نئے سفارتی تجربے یا انتخابی سیاست کے مہرے کی ضرورت نہیں۔ اسے انصاف، تعمیر نو اور انسانی وقار کی حقیقی ضمانت درکار ہے۔ غزہ کی تباہی صرف عمارتوں کی تباہی نہیں بلکہ عالمی ضمیر کی شکست کا عکس بھی ہے، جو برسوں کی بے حسی اور دوہرے معیار کا نتیجہ ہے۔
ٹرمپ کے کردار پر گہری نظر رکھی جائے گی۔ ان کی سابقہ پالیسیاں، خصوصاً وہ فیصلے جنہوں نے اسرائیل کو بغیر جواب دہی کے کھلی چھوٹ دی، فلسطینی عوام کے اعتماد کو شدید نقصان پہنچا چکے ہیں۔ اگر وہ واقعی غزہ میں امن اور خوشحالی چاہتے ہیں تو اصل امتحان یہ ہوگا کہ وہ اسرائیل کے ساتھ معاملات میں کس حد تک اصولی موقف اختیار کرتے ہیں۔ محاصرہ، اجتماعی سزا اور بلا روک ٹوک عسکری کارروائیاں امن کے ساتھ ہم آہنگ نہیں ہو سکتیں۔ غزہ کی عظمت کی بحالی اس وقت تک ممکن نہیں جب تک تباہی کی بنیادی وجوہات کو تسلیم نہ کیا جائے۔
اسی طرح بورڈ آف پیس میں شامل دیگر عالمی رہنماؤں کا کردار بھی فیصلہ کن ہوگا۔ اگر وہ محض خاموش تماشائی یا سیاسی کٹھ پتلیاں بن کر رہ گئے تو یہ اقدام آغاز سے ہی اپنی ساکھ کھو دے گا۔ عالمی قیادت کا تقاضا اخلاقی جرات ہے، طاقتوروں کے سامنے سچ کہنا، نہ کہ اتحادوں کی خاطر اصول قربان کرنا۔ دنیا کو ایسے فورمز کی ضرورت نہیں جو ناانصافی کو برقرار رکھتے ہوئے تنازعات کا انتظام کریں۔
حقیقی امن مظلوموں کی قربانی پر طے نہیں ہوتا۔ یہ حقوق کی بحالی، جواب دہی کے قیام اور ایک زخمی قوم کو آزادی سے سانس لینے کا حق دینے سے وجود میں آتا ہے۔ غزہ کے مستقبل کا فیصلہ غزہ کی آواز کے بغیر نہیں ہو سکتا۔ جو بورڈ اس حقیقت کو نظر انداز کرے گا وہ وعدہ خلافیوں کی طویل فہرست میں ایک اور اضافہ ہوگا۔


