قومیں اپنی شناخت تماشے سے نہیں بلکہ فکر، علم اور کردار سے قائم رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج مسلم معاشرے کے بعض حلقوں میں ایک ایسا رجحان فروغ پا رہا ہے جہاں سنجیدہ فکری زوال کو عجیب و غریب دعووں سے ڈھانپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی کسی پھل پر اللہ کا نام دکھانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور کبھی معمولی اتفاقات کو ایمان کی دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نہ عقیدے کی خدمت ہے اور نہ صحافت کی۔ بلکہ یہ مذہب کو تماشہ اور صحافت کو مضحکہ خیز سرکس میں بدل دینے کے مترادف ہے۔
ایمان کسی تربوز، پتھر یا شے کی سطح پر بننے والے اتفاقی نقش کا محتاج نہیں۔ ایسا کرنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم نے فکر، دلیل اور عمل کی راہ چھوڑ دی ہے اور اب سہارے کے لئے سطحی کرشموں کی تلاش میں ہیں۔ یہ رویہ نہ دل کو مضبوط کرتا ہے اور نہ ذہن کو روشن۔ الٹا یہ اجتماعی شعور کو کمزور اور دنیا میں ہماری ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔
اسلام کا سنہری دور ان ظاہری کرشموں سے نہیں بنا تھا۔ وہ دور علم، تحقیق، سوال، اجتہاد اور اخلاقی جرات کا نتیجہ تھا۔ بغداد کی درسگاہیں ہوں یا اندلس کے علمی مراکز، مسلمان اس لئے آگے تھے کہ وہ سوچتے تھے، سوال اٹھاتے تھے اور علم کو عبادت سمجھتے تھے۔ انہوں نے طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور قانون میں دنیا کی رہنمائی کی۔ وہاں ایمان دلیل سے جڑا ہوا تھا، تماشے سے نہیں۔
آج اصل المیہ بیرونی تنقید نہیں بلکہ اندرونی خود فریبی ہے۔ جب مسلم میڈیا اور سوشل پلیٹ فارم اس طرح کی خبروں کو اچھالتے ہیں تو وہ نادانستہ طور پر اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ مسلمان فکری سنجیدگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ صحافت کا کام طاقت سے سوال کرنا، سماجی ناانصافی کو بے نقاب کرنا اور عوام کی فکری تربیت کرنا ہے، نہ کہ ایسی چیزوں کو پھیلانا جو ہنسی اور تحقیر کا سبب بنیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ذہن کی سمت درست کی جائے۔ ذہنوں کی مرمت کرشموں سے نہیں بلکہ علم، خود احتسابی اور کردار سے ہوتی ہے۔ ایمان اگر زندہ ہے تو وہ محنت، دیانت، عدل اور علم کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ وہ ایسے معالج، مفکر، مصنف اور مصلح پیدا کرے گا جو معاشرے کو آگے لے جائیں، نہ کہ ایسی وائرل کہانیاں جو پوری قوم کو شرمندگی میں مبتلا کریں۔
قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور فہم کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اشیا کی سطح پر نشانات ڈھونڈنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ انسان کے اندر عقل اور ذمہ داری کو بیدار کرتا ہے۔ جب تک مسلم بیانیہ تماشے سے نکل کر فکر اور مقصد کی طرف نہیں لوٹے گا، نقصان ایمان کا نہیں بلکہ وقار اور اعتبار کا ہوگا۔
ززز
تربوز پر نام اور ذہنوں پر زنگ
تربوز پر نام اور ذہنوں پر زنگ
قومیں اپنی شناخت تماشے سے نہیں بلکہ فکر، علم اور کردار سے قائم رکھتی ہیں۔ بدقسمتی سے آج مسلم معاشرے کے بعض حلقوں میں ایک ایسا رجحان فروغ پا رہا ہے جہاں سنجیدہ فکری زوال کو عجیب و غریب دعووں سے ڈھانپنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ کبھی کسی پھل پر اللہ کا نام دکھانے کا دعویٰ کیا جاتا ہے اور کبھی معمولی اتفاقات کو ایمان کی دلیل بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ یہ نہ عقیدے کی خدمت ہے اور نہ صحافت کی۔ بلکہ یہ مذہب کو تماشہ اور صحافت کو مضحکہ خیز سرکس میں بدل دینے کے مترادف ہے۔
ایمان کسی تربوز، پتھر یا شے کی سطح پر بننے والے اتفاقی نقش کا محتاج نہیں۔ ایسا کرنا دراصل اس بات کا اعتراف ہے کہ ہم نے فکر، دلیل اور عمل کی راہ چھوڑ دی ہے اور اب سہارے کے لئے سطحی کرشموں کی تلاش میں ہیں۔ یہ رویہ نہ دل کو مضبوط کرتا ہے اور نہ ذہن کو روشن۔ الٹا یہ اجتماعی شعور کو کمزور اور دنیا میں ہماری ساکھ کو مجروح کرتا ہے۔
اسلام کا سنہری دور ان ظاہری کرشموں سے نہیں بنا تھا۔ وہ دور علم، تحقیق، سوال، اجتہاد اور اخلاقی جرات کا نتیجہ تھا۔ بغداد کی درسگاہیں ہوں یا اندلس کے علمی مراکز، مسلمان اس لئے آگے تھے کہ وہ سوچتے تھے، سوال اٹھاتے تھے اور علم کو عبادت سمجھتے تھے۔ انہوں نے طب، ریاضی، فلکیات، فلسفہ اور قانون میں دنیا کی رہنمائی کی۔ وہاں ایمان دلیل سے جڑا ہوا تھا، تماشے سے نہیں۔
آج اصل المیہ بیرونی تنقید نہیں بلکہ اندرونی خود فریبی ہے۔ جب مسلم میڈیا اور سوشل پلیٹ فارم اس طرح کی خبروں کو اچھالتے ہیں تو وہ نادانستہ طور پر اس تاثر کو مضبوط کرتے ہیں کہ مسلمان فکری سنجیدگی سے محروم ہو چکے ہیں۔ صحافت کا کام طاقت سے سوال کرنا، سماجی ناانصافی کو بے نقاب کرنا اور عوام کی فکری تربیت کرنا ہے، نہ کہ ایسی چیزوں کو پھیلانا جو ہنسی اور تحقیر کا سبب بنیں۔
وقت کا تقاضا ہے کہ مسلم ذہن کی سمت درست کی جائے۔ ذہنوں کی مرمت کرشموں سے نہیں بلکہ علم، خود احتسابی اور کردار سے ہوتی ہے۔ ایمان اگر زندہ ہے تو وہ محنت، دیانت، عدل اور علم کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ وہ ایسے معالج، مفکر، مصنف اور مصلح پیدا کرے گا جو معاشرے کو آگے لے جائیں، نہ کہ ایسی وائرل کہانیاں جو پوری قوم کو شرمندگی میں مبتلا کریں۔
قرآن بار بار غور و فکر، تدبر اور فہم کی دعوت دیتا ہے۔ وہ اشیا کی سطح پر نشانات ڈھونڈنے کا حکم نہیں دیتا بلکہ انسان کے اندر عقل اور ذمہ داری کو بیدار کرتا ہے۔ جب تک مسلم بیانیہ تماشے سے نکل کر فکر اور مقصد کی طرف نہیں لوٹے گا، نقصان ایمان کا نہیں بلکہ وقار اور اعتبار کا ہوگا۔
ززز


