جنگ سے گریز، طاقت کی نئی صورت

پچھلی نصف صدی تک مغربی ایشیا کی جنگیں ایک مانوس انداز میں چلتی رہیں: بحران بھڑکتے، بیرونی طاقتیں کود پڑتیں اور علاقائی ریاستیں کسی نہ کسی طرح محاذ آرائی کو ہوا دیتیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگیں دور رہ کر سنبھالی جا سکتی ہیں اور ان کے اثرات گھر تک نہیں پہنچیں گے۔ آج یہ مفروضہ ٹوٹ چکا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھی تو ایک غیر متوقع تبدیلی سامنے آئی۔ وہ عرب ریاستیں جو کبھی تنازعات کو بڑھاتی تھیں، اب انہیں تھامنے میں مصروف نظر آئیں۔ قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر نے واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر حملے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے سکیورٹی اور معاشی اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی ایران سے ہمدردی یا نظریاتی قربت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سخت زمینی حقائق کی پیداوار ہے۔ عراق، شام، یمن اور لیبیا کی جنگوں نے عرب دنیا کو سکھا دیا کہ تنازع آسانی سے شروع تو ہو جاتا ہے، مگر اس کے نتائج برسوں تک ریاستوں کے اندر عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ مہاجرین، ملیشیائیں، میزائل، ڈرون اور معاشی جھٹکے سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتے۔
آج عرب ریاستیں اندرونی کمزوریوں سے بھی باخبر ہیں۔ سرمایہ کاری، سیاحت، تجارت اور توانائی کی منڈیاں عدم استحکام پر فوری ردعمل دیتی ہیں۔ اس لیے جنگ اب اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی خطرہ بن چکی ہے۔
ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم اس خوف کو مزید بڑھاتا ہے۔ محدود جھڑپ بھی شپنگ اور توانائی کی قیمتوں کو ہلا سکتی ہے۔ 2019 میں سعودی تنصیبات پر حملوں نے واضح کر دیا کہ جدید جنگ میں کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اسی لیے اب ترجیح جنگ کی تیاری سے زیادہ، جنگ کو روکنے کی بن چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عرب سفارت کاری آج بلند بیانات کے بجائے خاموش دباؤ، بیک چینل رابطوں اور کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے۔ مفاد کا معیار بدل چکا ہے: نظریاتی فتح کے بجائے نقصان کی حد کو دیکھنا اصل حکمت عملی بن گئی ہے۔ طاقت اب تصادم کے لیے نہیں، بے ترتیبی کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ تبدیلی مکمل امن کی ضمانت نہیں۔ عرب ریاستیں اپنی سیکیورٹی پر سمجھوتہ بھی نہیں کر رہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنگ اب پہلا نہیں، آخری آپشن ہے۔ اس سوچ میں شاید جوش کم ہو، مگر تجربے کی تلخی شامل ہے۔
بھارت جیسے ممالک کے لیے یہ رجحان اہم ہے، جن کی توانائی، تجارت اور سمندری راستے خلیج کے استحکام سے جڑے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے تناظر میں بھی اس سے ایک مانوس سبق ملتا ہے: طاقت وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، پائیدار حل نہیں۔ تصادم اکثر مسائل بڑھاتا ہے، جبکہ ضبطِ نفس نقصان کو کم از کم سطح پر رکھ سکتا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگوں کو روکنے کی یہ خاموش کوشش شاید کوئی نعرہ نہ بنے، مگر آنے والے برسوں میں یہی محتاط حکمت عملی خطے کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

تازہ ترین خبریں

یوم یکجہتی پر وزیر اعظم کا خطاب:نکسلواد ختم، غربت میں نمایاں کمی،

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیر اعظم نریندر مودی نے ہفتے...

سرینگر میں ڈاکٹر عزیز حاجنی کی ادبی خدمات کو خراج عقیدت پیش

جنگ نیوز سرینگر/کشمیری زبان و ادب کی ممتاز شخصیت ڈاکٹر...

وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے صحافی ندھی رازدان سے شادی کرلی

جنگ نیوز سرینگر/جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ...

آشوتوش دکشت نے بھارتی فضائیہ کے سربراہ کے طور پر عہدہ سنبھالا

جنگ نیوز   ایئر چیف مارشل آشوتوش دکشت پی وی ایس...

غزل: اسلم ٹیٹاگڑھی

    اسلم ٹیٹاگڑھی غم کے ہنگام سے خود پریشاں ہوں میں...

جنگ سے گریز، طاقت کی نئی صورت

پچھلی نصف صدی تک مغربی ایشیا کی جنگیں ایک مانوس انداز میں چلتی رہیں: بحران بھڑکتے، بیرونی طاقتیں کود پڑتیں اور علاقائی ریاستیں کسی نہ کسی طرح محاذ آرائی کو ہوا دیتیں۔ یہ سمجھا جاتا تھا کہ جنگیں دور رہ کر سنبھالی جا سکتی ہیں اور ان کے اثرات گھر تک نہیں پہنچیں گے۔ آج یہ مفروضہ ٹوٹ چکا ہے۔
حالیہ ہفتوں میں ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بڑھی تو ایک غیر متوقع تبدیلی سامنے آئی۔ وہ عرب ریاستیں جو کبھی تنازعات کو بڑھاتی تھیں، اب انہیں تھامنے میں مصروف نظر آئیں۔ قطر، عمان، سعودی عرب اور مصر نے واشنگٹن پر زور دیا کہ ایران پر حملے سے گریز کیا جائے، کیونکہ اس کے سکیورٹی اور معاشی اثرات پورے خطے کو لپیٹ میں لے سکتے ہیں۔
یہ تبدیلی ایران سے ہمدردی یا نظریاتی قربت کا نتیجہ نہیں، بلکہ سخت زمینی حقائق کی پیداوار ہے۔ عراق، شام، یمن اور لیبیا کی جنگوں نے عرب دنیا کو سکھا دیا کہ تنازع آسانی سے شروع تو ہو جاتا ہے، مگر اس کے نتائج برسوں تک ریاستوں کے اندر عدم استحکام پیدا کرتے ہیں۔ مہاجرین، ملیشیائیں، میزائل، ڈرون اور معاشی جھٹکے سرحدوں کا لحاظ نہیں کرتے۔
آج عرب ریاستیں اندرونی کمزوریوں سے بھی باخبر ہیں۔ سرمایہ کاری، سیاحت، تجارت اور توانائی کی منڈیاں عدم استحکام پر فوری ردعمل دیتی ہیں۔ اس لیے جنگ اب اثر و رسوخ کا ذریعہ نہیں بلکہ معاشی خطرہ بن چکی ہے۔
ایران کے ساتھ ممکنہ تصادم اس خوف کو مزید بڑھاتا ہے۔ محدود جھڑپ بھی شپنگ اور توانائی کی قیمتوں کو ہلا سکتی ہے۔ 2019 میں سعودی تنصیبات پر حملوں نے واضح کر دیا کہ جدید جنگ میں کوئی بھی مکمل طور پر محفوظ نہیں۔ اسی لیے اب ترجیح جنگ کی تیاری سے زیادہ، جنگ کو روکنے کی بن چکی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ عرب سفارت کاری آج بلند بیانات کے بجائے خاموش دباؤ، بیک چینل رابطوں اور کشیدگی کم کرنے پر مرکوز ہے۔ مفاد کا معیار بدل چکا ہے: نظریاتی فتح کے بجائے نقصان کی حد کو دیکھنا اصل حکمت عملی بن گئی ہے۔ طاقت اب تصادم کے لیے نہیں، بے ترتیبی کو روکنے کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔
یہ تبدیلی مکمل امن کی ضمانت نہیں۔ عرب ریاستیں اپنی سیکیورٹی پر سمجھوتہ بھی نہیں کر رہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ جنگ اب پہلا نہیں، آخری آپشن ہے۔ اس سوچ میں شاید جوش کم ہو، مگر تجربے کی تلخی شامل ہے۔
بھارت جیسے ممالک کے لیے یہ رجحان اہم ہے، جن کی توانائی، تجارت اور سمندری راستے خلیج کے استحکام سے جڑے ہیں۔ اسی طرح کشمیر کے تناظر میں بھی اس سے ایک مانوس سبق ملتا ہے: طاقت وقتی خاموشی تو لا سکتی ہے، پائیدار حل نہیں۔ تصادم اکثر مسائل بڑھاتا ہے، جبکہ ضبطِ نفس نقصان کو کم از کم سطح پر رکھ سکتا ہے۔
مغربی ایشیا میں جنگوں کو روکنے کی یہ خاموش کوشش شاید کوئی نعرہ نہ بنے، مگر آنے والے برسوں میں یہی محتاط حکمت عملی خطے کی سب سے بڑی طاقت ثابت ہو سکتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں