جموں و کشمیر کی انتظامیہ عدالتی کٹہرے میں اس وقت کھڑی نظر آئی جب نیشنل گرین ٹریبونل کے سامنے یہ انکشاف ہوا کہ بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے جنگلاتی علاقوں میں80 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے، مگر لازمی ماحولیاتی معاوضہ جمع نہیں کرایا گیا۔ یہ اعتراف نہ صرف انتظامی غفلت کا عکاس ہے بلکہ اس ترقیاتی ماڈل پر بھی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے جس میں فطرت کی قیمت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔
راسخ رسول بٹ بنام یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر مقدمے کی سماعت کے دوران چیف سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائی گئی تعمیلی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ قریب ڈیڑھ سو منصوبوں کے تحت 82327 درختوں کی قربانی دی گئی، جبکہ 45 کروڑ روپے سے زائد کا ماحولیاتی معاوضہ تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذی نہیں بلکہ ایک پورے ماحولیاتی نظام کی شکست و ریخت کی داستان ہیں۔
جنگلات کسی بھی خطے کے لیے صرف لکڑی کا ذخیرہ نہیں ہوتے بلکہ وہ پانی کے تحفظ، موسمی توازن، زمینی کٹاؤ کی روک تھام اور حیاتیاتی تنوع کے ضامن ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے حساس اور پہاڑی خطے میں جنگلات کی کٹائی کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب قوانین واضح ہیں اور ماحولیاتی کلیئرنس کے تقاضے طے شدہ ہیں تو پھر اتنی بڑی سطح پر ان کی خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی؟
یہ معاملہ محض مالی بدعنوانی یا انتظامی تاخیر کا نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ کیا ترقی کا مطلب صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں ہیں یا اس میں آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا، محفوظ پانی اور سرسبز زمین بھی شامل ہے؟ اگر ماحولیاتی معاوضہ ایک رسمی شرط بن کر رہ جائے اور اس پر عمل درآمد نہ ہو تو پھر قوانین کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔
نیشنل گرین ٹریبونل کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ اب ماحولیات کے معاملے میں خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہتی۔ تاہم اصل ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف واجب الادا معاوضہ فوری طور پر جمع کرائے بلکہ آئندہ کسی بھی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا سنجیدہ اور شفاف جائزہ لے۔
جموں و کشمیر کو ترقی کی ضرورت ہے، مگر ایسی ترقی جو فطرت کے ساتھ تصادم کے بجائے ہم آہنگی پر مبنی ہو۔ بصورت دیگر درختوں کی یہ خاموش چیخیں آنے والے وقت میں سیلاب، لینڈ سلائیڈ اور موسمی بے یقینی کی صورت میں ہم سب کو سنائی دیں گی۔
ترقی یا ماحولیات کی بربادی؟
ترقی یا ماحولیات کی بربادی؟
جموں و کشمیر کی انتظامیہ عدالتی کٹہرے میں اس وقت کھڑی نظر آئی جب نیشنل گرین ٹریبونل کے سامنے یہ انکشاف ہوا کہ بنیادی ڈھانچے کے مختلف منصوبوں کے لیے جنگلاتی علاقوں میں80 ہزار سے زائد درخت کاٹے گئے، مگر لازمی ماحولیاتی معاوضہ جمع نہیں کرایا گیا۔ یہ اعتراف نہ صرف انتظامی غفلت کا عکاس ہے بلکہ اس ترقیاتی ماڈل پر بھی سنگین سوال کھڑے کرتا ہے جس میں فطرت کی قیمت کو ثانوی حیثیت دے دی گئی ہے۔
راسخ رسول بٹ بنام یونین ٹیریٹری جموں و کشمیر مقدمے کی سماعت کے دوران چیف سیکریٹری کی جانب سے جمع کرائی گئی تعمیلی رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ قریب ڈیڑھ سو منصوبوں کے تحت 82327 درختوں کی قربانی دی گئی، جبکہ 45 کروڑ روپے سے زائد کا ماحولیاتی معاوضہ تاحال ادا نہیں کیا گیا۔ یہ اعداد و شمار محض کاغذی نہیں بلکہ ایک پورے ماحولیاتی نظام کی شکست و ریخت کی داستان ہیں۔
جنگلات کسی بھی خطے کے لیے صرف لکڑی کا ذخیرہ نہیں ہوتے بلکہ وہ پانی کے تحفظ، موسمی توازن، زمینی کٹاؤ کی روک تھام اور حیاتیاتی تنوع کے ضامن ہوتے ہیں۔ جموں و کشمیر جیسے حساس اور پہاڑی خطے میں جنگلات کی کٹائی کے اثرات کہیں زیادہ تباہ کن ہو سکتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جب قوانین واضح ہیں اور ماحولیاتی کلیئرنس کے تقاضے طے شدہ ہیں تو پھر اتنی بڑی سطح پر ان کی خلاف ورزی کیسے ممکن ہوئی؟
یہ معاملہ محض مالی بدعنوانی یا انتظامی تاخیر کا نہیں بلکہ ریاستی ترجیحات کا آئینہ دار ہے۔ کیا ترقی کا مطلب صرف سڑکیں، پل اور عمارتیں ہیں یا اس میں آنے والی نسلوں کے لیے صاف ہوا، محفوظ پانی اور سرسبز زمین بھی شامل ہے؟ اگر ماحولیاتی معاوضہ ایک رسمی شرط بن کر رہ جائے اور اس پر عمل درآمد نہ ہو تو پھر قوانین کی حیثیت محض کاغذی رہ جاتی ہے۔
نیشنل گرین ٹریبونل کی مداخلت اس بات کا ثبوت ہے کہ عدلیہ اب ماحولیات کے معاملے میں خاموش تماشائی نہیں رہنا چاہتی۔ تاہم اصل ذمہ داری انتظامیہ پر عائد ہوتی ہے کہ وہ نہ صرف واجب الادا معاوضہ فوری طور پر جمع کرائے بلکہ آئندہ کسی بھی منصوبے سے قبل ماحولیاتی اثرات کا سنجیدہ اور شفاف جائزہ لے۔
جموں و کشمیر کو ترقی کی ضرورت ہے، مگر ایسی ترقی جو فطرت کے ساتھ تصادم کے بجائے ہم آہنگی پر مبنی ہو۔ بصورت دیگر درختوں کی یہ خاموش چیخیں آنے والے وقت میں سیلاب، لینڈ سلائیڈ اور موسمی بے یقینی کی صورت میں ہم سب کو سنائی دیں گی۔


