جب جموں و کشمیر بتدریج سیاسی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس کے مبینہ بٹوارے سے متعلق افواہوں کا دوبارہ سامنے آنا نہ صرف افسوسناک بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری اور جموں و کشمیر کے انچارج ترون چُگھ نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کو متحد رکھنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی جموں و کشمیر کی کسی بھی قسم کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ جب اس معاملے پر سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہوں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ افواہیں پھیلا کون رہا ہے؟
جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں بے بنیاد باتوں اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ محض لاپرواہی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد عوام میں بے چینی، خوف اور انتشار پیدا کرنا ہے۔ یہ افواہیں خطے کے لوگوں کے جذبات اور مستقبل سے جڑے خدشات کو ہوا دیتی ہیں، جو پہلے ہی طویل عرصے کی بے یقینی سے گزر چکے ہیں۔
افواہیں پھیلانے والے نہ جموں کے خیر خواہ ہیں، نہ کشمیر کے اور نہ ہی ملک کے۔ ایسے عناصر عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ ذمہ دار سیاست کا تقاضا ہے کہ حقائق کو صاف اور واضح انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف سیاسی قیادت پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر بھی عائد ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے اور انہیں پھیلانے سے گریز کریں۔
جموں و کشمیر کا اتحاد افواہوں یا قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بلکہ ایک سیاسی اور آئینی حقیقت ہے۔ آج اصل توجہ ترقی، امن، روزگار اور جمہوری عمل کے استحکام پر ہونی چاہیے، نہ کہ بے بنیاد خدشات پر۔
وقت آ گیا ہے کہ ایسی جھوٹی باتوں کو یکسر مسترد کیا جائے۔ ماضی میں جموں و کشمیر نے غلط معلومات کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب عوام سچ، استحکام اور ایک پُرامن مستقبل کے حق دار ہیں—افواہوں سے پاک مستقبل۔
حقیقت اور جموں و کشمیر کا اتحاد
حقیقت اور جموں و کشمیر کا اتحاد
جب جموں و کشمیر بتدریج سیاسی استحکام اور ترقی کی راہ پر گامزن ہے، اس کے مبینہ بٹوارے سے متعلق افواہوں کا دوبارہ سامنے آنا نہ صرف افسوسناک بلکہ تشویشناک بھی ہے۔ ہفتہ کے روز بھارتیہ جنتا پارٹی کے قومی جنرل سیکریٹری اور جموں و کشمیر کے انچارج ترون چُگھ نے واضح طور پر کہا کہ بی جے پی جموں و کشمیر کو متحد رکھنے کے لئے پوری طرح پرعزم ہے۔ قابلِ غور بات یہ ہے کہ اپوزیشن جماعت نیشنل کانفرنس نے بھی جموں و کشمیر کی کسی بھی قسم کی تقسیم کی مخالفت کی ہے۔ جب اس معاملے پر سیاسی جماعتیں ایک صفحے پر ہوں تو پھر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر یہ افواہیں پھیلا کون رہا ہے؟
جموں و کشمیر جیسے حساس خطے میں بے بنیاد باتوں اور جھوٹی خبروں کا پھیلاؤ محض لاپرواہی نہیں بلکہ ایک سوچی سمجھی کوشش معلوم ہوتی ہے، جس کا مقصد عوام میں بے چینی، خوف اور انتشار پیدا کرنا ہے۔ یہ افواہیں خطے کے لوگوں کے جذبات اور مستقبل سے جڑے خدشات کو ہوا دیتی ہیں، جو پہلے ہی طویل عرصے کی بے یقینی سے گزر چکے ہیں۔
افواہیں پھیلانے والے نہ جموں کے خیر خواہ ہیں، نہ کشمیر کے اور نہ ہی ملک کے۔ ایسے عناصر عدم استحکام سے فائدہ اٹھانا چاہتے ہیں اور سیاسی یا ذاتی مفادات کے لئے عوام کو گمراہ کرتے ہیں۔ ذمہ دار سیاست کا تقاضا ہے کہ حقائق کو صاف اور واضح انداز میں عوام کے سامنے رکھا جائے، تاکہ کسی بھی قسم کی غلط فہمی کی گنجائش باقی نہ رہے۔
تاہم اس ذمہ داری کا بوجھ صرف سیاسی قیادت پر نہیں بلکہ عام شہریوں پر بھی عائد ہوتا ہے۔ سوشل میڈیا کے اس دور میں کسی بھی غیر مصدقہ خبر کو آگے بڑھانا نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ عوام کو چاہیے کہ وہ افواہوں پر یقین کرنے اور انہیں پھیلانے سے گریز کریں۔
جموں و کشمیر کا اتحاد افواہوں یا قیاس آرائیوں کا موضوع نہیں بلکہ ایک سیاسی اور آئینی حقیقت ہے۔ آج اصل توجہ ترقی، امن، روزگار اور جمہوری عمل کے استحکام پر ہونی چاہیے، نہ کہ بے بنیاد خدشات پر۔
وقت آ گیا ہے کہ ایسی جھوٹی باتوں کو یکسر مسترد کیا جائے۔ ماضی میں جموں و کشمیر نے غلط معلومات کی بھاری قیمت چکائی ہے۔ اب عوام سچ، استحکام اور ایک پُرامن مستقبل کے حق دار ہیں—افواہوں سے پاک مستقبل۔


