عوامی مفاد کے نام پر سیاست!

محبوبہ مفتی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کو عدالت کی طرف سے سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کیا جانا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ کشمیر کی سیاسی روایت پر ایک سنجیدہ سوال بھی ہے۔عدالت نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ عوامی مفاد کی عرضی کسی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی اور نہ ہی عدلیہ کو سیاسی میدان میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشاہدہ نہایت اہم ہے کیونکہ یہ حقیقی عوامی مفاد اور سیاسی مفاد پر مبنی بیانیے کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔ جب یہ لکیر مٹ جاتی ہے تو نہ صرف مقدمہ بلکہ اداروں کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے۔
کشمیر میں سیاست طویل عرصے سے جذباتی ہتھیاروں پر انحصار کرتی آئی ہے۔ کبھی مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے، کبھی شناخت کو، کبھی ذات پات کو اور کبھی خاندانی نسبت، اشرافیہ یا خون کے رشتوں کو۔ ان تمام حربوں کا مقصد اثر و رسوخ بڑھانا، ووٹ بینک مضبوط کرنا یا مخصوص بیانیے کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جہاں اصل متاثرین پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور سیاسی طور پر موزوں چہرے نمایاں ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک تنبیہ ہونا چاہیے۔ مذہب، شناخت، ذات، یا خاندانی وراثت کے سہارے ہمدردی سمیٹنا اور ادارہ جاتی راستوں کو نظرانداز کرنا سماج کو کمزور کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف عدالتوں پر اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سنجیدہ اور مخلص جدوجہد کی قدر بھی گھٹ جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

تازہ ترین خبریں

دولت مشترکہ کھیلوں میںبھارت پر سونے کی برسات

جنگ نیوز دولت مشترکہ کھیلوں (CWG 2026) میں بھارت نے...

SKUAST-K میں جموں و کشمیر کا پہلا ایگری وولٹائکس منصوبہ

جنگ نیوز سرینگر/ SKUAST-K نے CSTEP کے اشتراک سے شالیمار...

ڈاکٹر فاروق عبداللہ کا سنجیدہ سوال ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ

جنگ نیوز سرینگر/نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے...

غزل

  محمد ایوب ترال بالا میں تھکا ہارا کہاں جاؤں میں درد کا...

عوامی مفاد کے نام پر سیاست!

محبوبہ مفتی کی جانب سے دائر کی گئی عرضی کو عدالت کی طرف سے سیاسی محرکات پر مبنی قرار دے کر مسترد کیا جانا محض ایک قانونی فیصلہ نہیں بلکہ کشمیر کی سیاسی روایت پر ایک سنجیدہ سوال بھی ہے۔عدالت نے دو ٹوک انداز میں واضح کیا کہ عوامی مفاد کی عرضی کسی سیاسی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کا ذریعہ نہیں بن سکتی اور نہ ہی عدلیہ کو سیاسی میدان میں تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ مشاہدہ نہایت اہم ہے کیونکہ یہ حقیقی عوامی مفاد اور سیاسی مفاد پر مبنی بیانیے کے درمیان ایک واضح لکیر کھینچتا ہے۔ جب یہ لکیر مٹ جاتی ہے تو نہ صرف مقدمہ بلکہ اداروں کی ساکھ بھی مجروح ہوتی ہے۔
کشمیر میں سیاست طویل عرصے سے جذباتی ہتھیاروں پر انحصار کرتی آئی ہے۔ کبھی مذہب کو استعمال کیا جاتا ہے، کبھی شناخت کو، کبھی ذات پات کو اور کبھی خاندانی نسبت، اشرافیہ یا خون کے رشتوں کو۔ ان تمام حربوں کا مقصد اثر و رسوخ بڑھانا، ووٹ بینک مضبوط کرنا یا مخصوص بیانیے کو تحفظ دینا ہوتا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان عام لوگوں کو اٹھانا پڑتا ہے، جہاں اصل متاثرین پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور سیاسی طور پر موزوں چہرے نمایاں ہو جاتے ہیں۔
یہ واقعہ کشمیر کی تمام سیاسی جماعتوں کے لیے ایک تنبیہ ہونا چاہیے۔ مذہب، شناخت، ذات، یا خاندانی وراثت کے سہارے ہمدردی سمیٹنا اور ادارہ جاتی راستوں کو نظرانداز کرنا سماج کو کمزور کرتا ہے۔ اس سے نہ صرف عدالتوں پر اعتماد مجروح ہوتا ہے بلکہ سنجیدہ اور مخلص جدوجہد کی قدر بھی گھٹ جاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں