صائمہ مقبول
ٹیکی پورہ لولاب کپواڑہ
گاؤں کے کچے راستوں پر شام کی سنہری چادر اتر رہی تھی۔ دھوپ کی آخری کرنیں پرانے برگد کے درخت کی شاخوں پر ٹھہری ہوئی تھیں، جیسے وقت خود تھک کر رک گیا ہو۔ فضا میں ایک گھنا سکوت چھایا ہوا تھا، وہی سکوت جو ناانصافی کے بعد پھیلتا ہے، جب سچ کے علمبردار ہار جاتے ہیں اور جھوٹ اپنی جڑیں گہری کر لیتا ہے۔
آصف عدالت سے باہر آیا۔ اس کے قدموں کے نیچے زمین جیسے لرز رہی تھی اور اس کے ہاتھ میں وہی پرانی فائل تھی جس میں زرد صفحات، گواہوں کے دستخط، اور انسانی ضمیر کی سچائی موجود تھی، مگر سب بے اثر ہو چکا تھا کیونکہ فیصلہ جنید کے حق میں ہو چکا تھا۔
جب آصف گھر کے مین گیٹ سے اندر داخل ہوا تو لان میں اس کی بہن فاطمہ کپڑے سکھا رہی تھی۔ لرزتی ہوئی آواز میں اس نے پوچھا، “بھائی، فیصلہ کیا ہوا؟” آصف نے ایک طویل سانس لی اور دھیرے سے کہا، "فیصلہ جیت کا نہیں، پہنچ کا ہوا ہے، فاطمہ۔” پھر وہ آگے بڑھ گیا اور اس کے قدموں سے اڑتی گرد ایک خاموش احتجاج کی صدا بن کر ماحول میں گھل گئی۔
رقیہ کچن کے دروازے پر کھڑی تھی۔ اس کی آنکھوں میں بے یقینی اور چہرے پر خاموش آنسو تھے۔ آصف نے ہلکی مسکان کے ساتھ کہا، "انصاف ہوا، مگر ہمارے حصے میں نہیں۔” اس نے فائل الماری میں پھینک دی اور صحن کے گوشے میں بیٹھ گیا، جہاں اس کے والدین اکثر مغرب کے بعد دعائیں مانگا کرتے تھے۔ رقیہ خاموشی سے اس کے قریب آئی اور کہا، "تمہارے لہجے میں ہار نہیں، تھکن ہے آصف، تھکن وقت کی ہے، قسمت کی نہیں۔”
آصف نے آسمان کی طرف دیکھا، جہاں چاند ادھورا تھا، جیسے اس کی قسمت کا آئینہ ہو۔ "ایسا کیوں ہے، رقیہ؟ بے پہنچ لوگوں کی کوئی نہیں سنتا اور جن کے دروازے اونچے ہیں، سب کچھ ان کے حق میں ہوتا ہے۔ سچ بولنے والے آج بھی فٹ پاتھ پر کھڑے ہیں۔”
دوسری جانب جنید کی حویلی میں جشن تھا۔ فانوس روشن، قہقہے بلند، لوگ فخریہ انداز میں کہہ رہے تھے، "حق دار کو حق ملا!” مگر جنید کی آنکھوں میں نیند نہیں تھی، کیونکہ ظلم کے بعد ملنے والی جیت بھی ایک بوجھ بن چکی تھی، جس کا وزن ضمیر کی سطح سے کہیں زیادہ تھا۔
آصف کی جھونپڑی میں چراغ مدھم جل رہا تھا۔ فاطمہ چپ چاپ قرآن کے اوراق پلٹ رہی تھی اور رقیہ تسبیح کے دانوں میں صبر کے ورد میں مشغول تھی۔ فاطمہ نے دھیرے سے کہا، "اللہ دیکھ رہا ہے نا؟” آصف نے سر اٹھا کر جواب دیا، "ہاں، فاطمہ، اللہ دیکھتا ہے… بس اس کے فیصلوں کا وقت انسانوں سے کچھ سست ہوتا ہے۔”
چاندنی زمین پر جیسے روتی ہوئی برس رہی تھی۔ رقیہ نے آصف کی طرف دیکھا، اس کے چہرے پر تھکن تھی مگر آنکھوں میں قرار تھا۔ "شاید یہی اصل جیت ہے، جب انسان ظلم کے بعد بھی خاموشی سے صبر کرے۔” آصف نے مسکرا کر کہا، "خاموشی سب سے بڑا احتجاج ہے، رقیہ۔ ظالم شور سے جیتتے ہیں، مگر مظلوم خاموشی سے امر ہو جاتے ہیں۔”
رات گہری ہو گئی، گاؤں سو گیا، مگر برگد کے پرانے درخت کے نیچے آصف کی آنکھوں سے بہتا ہوا ایک آنسو زمین میں جذب ہو گیا۔ اسی لمحے کہیں اوپر عرش پر انصاف کا پہلا ورق پلٹا۔


