انشائیہ: عشق سے کون ہے بشر خالی

 

عبد الرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

عشق وہ بے لوث اور پر خلوص جذبہ ہے جو ابھی تک انسان کے دل میں موجود ہے ،یہ فطرت کی پکار اور روح کی وہ کشش ہے جو دل کو دل سے اور روح کو روح سے جوڑ دیتا ہے ،یہ ایک وسیع جذبہ ہے جو زمان و مکان سے ماورا اور جس کی سرحدیں لامحدود ہیں ،عشق اور موت میں بڑی مماثلت ہے کس کو کب اور کہاں آپکڑیں ،کسی کو پتہ نہیں چلتا ،دونوں دستک دے بغیر ہی آٹپکتے ہیں ،ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک آدمی کو ایک ہی بار مار دیتا ہے اور دوسرا نہ مرنے دیتا ہے اور نہ جیئے ،ان کی نظر میں رنگ ونسل ذات پات ،اونج نیچ اور جنس وعمر کی کوئی اہمیت نہیں ،بقول غالب ،۔ "عشق پر زور نہیں یہ وہ آتش ہے غالب۔ کہ لگایے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے” یہ ایک ایسی آگ ہے جسکی تپش سے کار خانۂ حیات رواں دواں ہے عشق کی حکمرانی ہر زمانے میں رہی ہے ،نامی گرامی شہنشاہوں اور جلیل القدر پیغمبروں سے لے کر گم نامی کی دنیا میں رہنے والے محمولی انسانوں تک کون ہے جو عشق کے داؤ پیچ سے بچ نکلا ؟عشق کا سفر نہایت کٹھن اور پر خطر ہے ،قدم قدم پر مایوسی ،ناکامی،نامرادی اور زمانے بھر کی رسوائی ،آدمی ان خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی سھد بھد کھو جایے ،راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد کر کے صحراؤں اور ریگستانوں میں گھومتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے کی تگ ودو کرتا رہے ،تب جا کے ہیر رانجھا ،سونی مہیوال یا لیلا مجنون کہلاتے ہیں-
کہا جاتا ہے کہ عشق اندھا ہوتا ہے ،اصل میں عشق اندھا نہیں دور بین ہوتا ہے ،یہ پس منظر میں جھانک کر خوبصورت دلربا کے ساتھ ساتھ اونچی ذات ،اعلی عہدہ اور بڑا بنگلہ بھی دیکھ لیتا ہے ،یہ عشق ہی تو ہے جو سیاست دان کو بار بار کی ہار اور رسوائی کے باوجود سرکاری کرسی تک پہنچنے کے لئے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے پر اکساتا ہے اور کبھی کبھار اس میں جان بھی چلی جاتی ہے ،عشق آدمی کو امر کرتا ہے ،فرہاد کو دیکھو ،پھتر توڑ نے والا گم نام انسان ،جسکی کوئی پہچان نہ تھی ،بھوک اور پیاس سے نڈھال ،میڈم شیرین کے لئے پہاڑوں کو چیر کر جوے شیر لانے کی کوشش کرتے کرتے امر ہوگیا ،یاد رہے آج بھی ہزاروں فرہاد اپنی شیریں کو پانے کے لیے جان کی بازی لگایے ہوئے ہیں ،یقین نہ آئے تو جا کر کسی rehabilitation centre میں دیکھو ،میڈم شیریں تب بھی اپنی ہم جولیوں کے ساتھ مستی کر رہی تھی اور آج بھی نیٹ کلبوں میں موج منا رہی ہے ا،یہ عشق ہی تو ہے جو صوفی حضرات کو نرم و گرم بستروں کے بجائے ویران غاروں اور خاموش قبرستانوں میں راتیں گزارنے پر اور یاد الٰہی میں مشغول کرتا ہے ،سب کچھ نچھاور کر کے ساری عمر محبوب حقیقی کی ایک جھلک پانے کے لیے تڑپتے رہتے ہیں اور دنیا سے یہی امید لے کر رخصت ہو تے ہیں کہ زندہ رہ کر نہ سہی مرنے کے بعد ضرور وصال یار ہو گا ،۔ عشق اور عقل کا آپس میں گہرا تعلق ہے ،جہاں انسان کے حواس پہنچ کر عاجز ہوتے ہیں وہاں عقل کام دیتی ہے اور جس میدان میں عقل ٹھوکریں کھا کر ہار جاتی ہے وہاں عشق اس کی دستگیری کرتا ہے۔ ،۔ "بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق "۔ عشق اور حسن ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں ،جہاں حسن جلوہ افروز ہوتا ہے وہیں عشق کا ٹھکانہ ،یہ عشق ہی تو ہے جو حسن کو خواب غفلت سے جگاتا ہے ،ایک بار حسن جاگ اٹھا تو ہر طرف آگ لگ جاتی ہے ،شاعر لوگوں کو دیکھو ،شعر و شاعری کی پوری چادر حسن و عشق کے تانے بانے سے تیار کر کے اسے اوڑھ کر فرش سے اٹھ کر عرش تک پہونچ جاتےہیں ہاں یہ سہی ہے کہ چند بےذوق افراد نے لفظ عشق کو اسقدر بدنام کیا کہ اب اس کا نام لینا بھی گنا سمجھا جاتا ہے شاعر لوگ جس کے پیچھے پڑے اسکا محل وقوع ہی بدل دیا پھولوں کی تعریفیں کر تے کرتے باغ ہی اجاڑ دیے اور رہی بات حسن کی ،اس کو اسقدر گسا پیٹا کہ حسین لوگوں کو دنیا والوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا اب ڈھونڈ نے پر بھی کہیں original حسن نہیں ملتا ‘. "عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو”۔ یہ ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو انسان کے اندر قربانی ،ایثار اور وفاداری کے صفات پیدا کرتا ہے-
دیکھا جائے تو اس زندگی میں رکھا ہی کیا ہے جس کے لئے آدھی جیے کھانے کے لئے لوگوں کے طعنے ،پینے کے لئے غم وغصہ اور دیکھنے کے لئے نئی نسل کی بے راہ روی ،یہ عش ہی تو ہے جو ان حالات میں بھی زندہ رہنے کی امید پیدا کرتا ہے ،ایک دفعہ وکٹر ہیوگو سے کسی شخص نے پوچھا ،”عشق کی تعریف”انہوں نے کہا "اگر دنیا میں عشق کرنے والا باقی نہ رہا تو سورج اپنی تمازت کھو بیٹھے گا”موسموں کا اسقدر تغیر و تبدل دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید عشق کرنے والوں نے اس سے منہ موڑ لیا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں سورج کی گرمی کے ساتھ ساتھ اس کی روشنی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ؟
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

تازہ ترین خبریں

امرت پیڑھی: ترقی یافتہ بھارت کی معمار نسل

بھارت اپنی تاریخ کے ایک اہم دوراہے پر کھڑا...

سرینگر میں نامعلوم  لاش برآمد 

سری نگر: سری نگر کے نورباغ کے پالپورہ کے آریبل...

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

انشائیہ: عشق سے کون ہے بشر خالی

 

عبد الرشید خان
چھانہ پورہ سرینگر

عشق وہ بے لوث اور پر خلوص جذبہ ہے جو ابھی تک انسان کے دل میں موجود ہے ،یہ فطرت کی پکار اور روح کی وہ کشش ہے جو دل کو دل سے اور روح کو روح سے جوڑ دیتا ہے ،یہ ایک وسیع جذبہ ہے جو زمان و مکان سے ماورا اور جس کی سرحدیں لامحدود ہیں ،عشق اور موت میں بڑی مماثلت ہے کس کو کب اور کہاں آپکڑیں ،کسی کو پتہ نہیں چلتا ،دونوں دستک دے بغیر ہی آٹپکتے ہیں ،ہاں یہ ضرور ہے کہ ایک آدمی کو ایک ہی بار مار دیتا ہے اور دوسرا نہ مرنے دیتا ہے اور نہ جیئے ،ان کی نظر میں رنگ ونسل ذات پات ،اونج نیچ اور جنس وعمر کی کوئی اہمیت نہیں ،بقول غالب ،۔ "عشق پر زور نہیں یہ وہ آتش ہے غالب۔ کہ لگایے نہ لگے اور بجھائے نہ بنے” یہ ایک ایسی آگ ہے جسکی تپش سے کار خانۂ حیات رواں دواں ہے عشق کی حکمرانی ہر زمانے میں رہی ہے ،نامی گرامی شہنشاہوں اور جلیل القدر پیغمبروں سے لے کر گم نامی کی دنیا میں رہنے والے محمولی انسانوں تک کون ہے جو عشق کے داؤ پیچ سے بچ نکلا ؟عشق کا سفر نہایت کٹھن اور پر خطر ہے ،قدم قدم پر مایوسی ،ناکامی،نامرادی اور زمانے بھر کی رسوائی ،آدمی ان خطرات کا سامنا کرتے ہوئے اپنی سھد بھد کھو جایے ،راتوں کی نیند اور دن کا سکون برباد کر کے صحراؤں اور ریگستانوں میں گھومتے ہوئے اپنی منزل تک پہنچنے کی تگ ودو کرتا رہے ،تب جا کے ہیر رانجھا ،سونی مہیوال یا لیلا مجنون کہلاتے ہیں-
کہا جاتا ہے کہ عشق اندھا ہوتا ہے ،اصل میں عشق اندھا نہیں دور بین ہوتا ہے ،یہ پس منظر میں جھانک کر خوبصورت دلربا کے ساتھ ساتھ اونچی ذات ،اعلی عہدہ اور بڑا بنگلہ بھی دیکھ لیتا ہے ،یہ عشق ہی تو ہے جو سیاست دان کو بار بار کی ہار اور رسوائی کے باوجود سرکاری کرسی تک پہنچنے کے لئے راستے میں آنے والی تمام رکاوٹوں کو دور کرنے پر اکساتا ہے اور کبھی کبھار اس میں جان بھی چلی جاتی ہے ،عشق آدمی کو امر کرتا ہے ،فرہاد کو دیکھو ،پھتر توڑ نے والا گم نام انسان ،جسکی کوئی پہچان نہ تھی ،بھوک اور پیاس سے نڈھال ،میڈم شیرین کے لئے پہاڑوں کو چیر کر جوے شیر لانے کی کوشش کرتے کرتے امر ہوگیا ،یاد رہے آج بھی ہزاروں فرہاد اپنی شیریں کو پانے کے لیے جان کی بازی لگایے ہوئے ہیں ،یقین نہ آئے تو جا کر کسی rehabilitation centre میں دیکھو ،میڈم شیریں تب بھی اپنی ہم جولیوں کے ساتھ مستی کر رہی تھی اور آج بھی نیٹ کلبوں میں موج منا رہی ہے ا،یہ عشق ہی تو ہے جو صوفی حضرات کو نرم و گرم بستروں کے بجائے ویران غاروں اور خاموش قبرستانوں میں راتیں گزارنے پر اور یاد الٰہی میں مشغول کرتا ہے ،سب کچھ نچھاور کر کے ساری عمر محبوب حقیقی کی ایک جھلک پانے کے لیے تڑپتے رہتے ہیں اور دنیا سے یہی امید لے کر رخصت ہو تے ہیں کہ زندہ رہ کر نہ سہی مرنے کے بعد ضرور وصال یار ہو گا ،۔ عشق اور عقل کا آپس میں گہرا تعلق ہے ،جہاں انسان کے حواس پہنچ کر عاجز ہوتے ہیں وہاں عقل کام دیتی ہے اور جس میدان میں عقل ٹھوکریں کھا کر ہار جاتی ہے وہاں عشق اس کی دستگیری کرتا ہے۔ ،۔ "بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق "۔ عشق اور حسن ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں ،جہاں حسن جلوہ افروز ہوتا ہے وہیں عشق کا ٹھکانہ ،یہ عشق ہی تو ہے جو حسن کو خواب غفلت سے جگاتا ہے ،ایک بار حسن جاگ اٹھا تو ہر طرف آگ لگ جاتی ہے ،شاعر لوگوں کو دیکھو ،شعر و شاعری کی پوری چادر حسن و عشق کے تانے بانے سے تیار کر کے اسے اوڑھ کر فرش سے اٹھ کر عرش تک پہونچ جاتےہیں ہاں یہ سہی ہے کہ چند بےذوق افراد نے لفظ عشق کو اسقدر بدنام کیا کہ اب اس کا نام لینا بھی گنا سمجھا جاتا ہے شاعر لوگ جس کے پیچھے پڑے اسکا محل وقوع ہی بدل دیا پھولوں کی تعریفیں کر تے کرتے باغ ہی اجاڑ دیے اور رہی بات حسن کی ،اس کو اسقدر گسا پیٹا کہ حسین لوگوں کو دنیا والوں کی نظروں سے اوجھل کر دیا اب ڈھونڈ نے پر بھی کہیں original حسن نہیں ملتا ‘. "عشق ہی عشق ہے جہاں دیکھو”۔ یہ ایک ایسا لطیف جذبہ ہے جو انسان کے اندر قربانی ،ایثار اور وفاداری کے صفات پیدا کرتا ہے-
دیکھا جائے تو اس زندگی میں رکھا ہی کیا ہے جس کے لئے آدھی جیے کھانے کے لئے لوگوں کے طعنے ،پینے کے لئے غم وغصہ اور دیکھنے کے لئے نئی نسل کی بے راہ روی ،یہ عش ہی تو ہے جو ان حالات میں بھی زندہ رہنے کی امید پیدا کرتا ہے ،ایک دفعہ وکٹر ہیوگو سے کسی شخص نے پوچھا ،”عشق کی تعریف”انہوں نے کہا "اگر دنیا میں عشق کرنے والا باقی نہ رہا تو سورج اپنی تمازت کھو بیٹھے گا”موسموں کا اسقدر تغیر و تبدل دیکھ کر لگتا ہے کہ شاید عشق کرنے والوں نے اس سے منہ موڑ لیا ہے ،کہیں ایسا نہ ہو کہ ہمیں سورج کی گرمی کے ساتھ ساتھ اس کی روشنی سے بھی ہاتھ دھونا پڑے ؟
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

گزشتہ مضمون
اگلا مضمون