اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل نے ٹرمپ کا غزہ منصوبہ منظور کیا

جنگ نیوز ڈیسک

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے حق میں ووٹ دیا، جس میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ پیر کو ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ کے 20 نکاتی فریم ورک کو 13 ممالک، جن میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں، نے حمایت دی، جبکہ روس اور چین نے غیر حاضری اختیار کی۔
منصوبے کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ، تعمیرِ نو اور غزہ کی عارضی حکمرانی کے لیے پہلا جامع عالمی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے ابتدائی مرحلے پر رضامند ہو چکے تھے، جس کے بعد یہ منصوبہ اب ایک باقاعدہ بین الاقوامی مینڈیٹ بن گیا ہے۔
قرارداد کے تحت ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کی دعوت دی گئی ہے جو تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کی نگرانی کرے گا، جبکہ ایک بین الاقوامی فورس کو غزہ کی غیر عسکریت کے لیے اسلحہ ختم کرنے اور عسکری ڈھانچے تباہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق مناسب حالات بننے پر فلسطینی ریاست کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
حماس نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی حقوق پوری نہیں کرتی اور غزہ پر ’’بین الاقوامی سرپرستی‘‘ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ گروہ نے بین الاقوامی فورس کو مزاحمتی گروہوں کو غیر مؤثر بنانے کا اختیار دینے پر شدید تنقید کی۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سفارت کاری کی بڑی کامیابی کہا اور لکھا کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی منظوری اقوام متحدہ کی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں شمار ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ غزہ کی غیر عسکریت ’’آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے،‘‘ بہرحال یقینی بنائی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

تازہ ترین خبریں

اقوام متحدہ کے سیکورٹی کونسل نے ٹرمپ کا غزہ منصوبہ منظور کیا

جنگ نیوز ڈیسک

اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے غزہ امن منصوبے کے حق میں ووٹ دیا، جس میں بین الاقوامی افواج کی تعیناتی بھی شامل ہے۔ پیر کو ہونے والی ووٹنگ میں امریکہ کے 20 نکاتی فریم ورک کو 13 ممالک، جن میں برطانیہ اور فرانس بھی شامل ہیں، نے حمایت دی، جبکہ روس اور چین نے غیر حاضری اختیار کی۔
منصوبے کے مطابق جنگ بندی کے نفاذ، تعمیرِ نو اور غزہ کی عارضی حکمرانی کے لیے پہلا جامع عالمی روڈ میپ تیار کیا گیا ہے۔ گزشتہ ماہ اسرائیل اور حماس جنگ بندی اور یرغمالیوں کی رہائی کے ابتدائی مرحلے پر رضامند ہو چکے تھے، جس کے بعد یہ منصوبہ اب ایک باقاعدہ بین الاقوامی مینڈیٹ بن گیا ہے۔
قرارداد کے تحت ’’بورڈ آف پیس‘‘ کے قیام کی دعوت دی گئی ہے جو تعمیرِ نو اور معاشی استحکام کی نگرانی کرے گا، جبکہ ایک بین الاقوامی فورس کو غزہ کی غیر عسکریت کے لیے اسلحہ ختم کرنے اور عسکری ڈھانچے تباہ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے۔ دستاویز کے مطابق مناسب حالات بننے پر فلسطینی ریاست کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔
حماس نے قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ فلسطینی حقوق پوری نہیں کرتی اور غزہ پر ’’بین الاقوامی سرپرستی‘‘ مسلط کرنے کی کوشش ہے۔ گروہ نے بین الاقوامی فورس کو مزاحمتی گروہوں کو غیر مؤثر بنانے کا اختیار دینے پر شدید تنقید کی۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے اسے عالمی سفارت کاری کی بڑی کامیابی کہا اور لکھا کہ ’’بورڈ آف پیس‘‘ کی منظوری اقوام متحدہ کی تاریخ کے اہم ترین فیصلوں میں شمار ہوگی۔
دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے ایک بار پھر فلسطینی ریاست کے قیام کی مخالفت دہراتے ہوئے کہا کہ غزہ کی غیر عسکریت ’’آسان طریقے سے ہو یا مشکل طریقے سے،‘‘ بہرحال یقینی بنائی جائے گی۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں