سعودی ولی عہداور امریکی صدر کی ملاقات

جنگ نیوز ڈیسک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ولی عہد کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ ان کا یہ بیان 2021 کی اس امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قتل کی کارروائی ولی عہد کی منظوری سے انجام پائی۔
محمد بن سلمان نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے خاشقجی کی موت کی تحقیقات کے لیے تمام مناسب اقدامات کیے۔ انہوں نے اس قتل کو تکلیف دہ اور افسوسناک قرار دیا۔
یہ ان کا خاشقجی کے قتل کے بعد امریکہ کا پہلا دورہ تھا، جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو شدید متاثر کیا تھا۔ اوول آفس میں ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ آپ ایک ایسے شخص کا ذکر کر رہے ہیں جو بہت متنازع تھا اور بہت سے لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیزیں ہو جاتی ہیں، لیکن ولی عہد کو اس کا علم نہیں تھا اور مہمانوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہیے۔
ولی عہد نے بھی کہا کہ سعودی عرب نے واقعے کی تحقیق کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ جبکہ 2021 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں جاری رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ولی عہد نے استنبول میں خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اگرچہ درجنوں سعودی اہلکاروں پر پابندیاں لگائی گئیں، لیکن ولی عہد کو ان میں شامل نہیں کیا گیا۔
واشنگٹن میں منگل کی شب وہائٹ ہاؤس میں ایک پُروقار بلیک ٹائی ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کیا۔ اس تقریب نے امریکا سعودی تعلقات کے ایک نئے دور کی نشاندہی کی۔ ایلون مسک، کرسٹیانو رونالڈو، فیفا کے صدر جیانی انفانتینو اور مالیاتی و توانائی شعبے کی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر بات ہوئی اور ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کو “اہم نان نیٹو اتحادی” قرار دینے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل اوول آفس میں ٹرمپ اور ایم بی ایس نے اسرائیل فلسطین تنازع کے لیے ایک ریاستی اور دو ریاستی حل پر گفتگو کی۔ ٹرمپ کے مطابق ملاقات بہت فائدہ مند رہی۔
تقریب نے ایم بی ایس کی عالمی سطح پر شبیہ کی بحالی کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر اس وقت جب سعودی عرب امریکا میں انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ شام بھر اربوں ڈالر کے ممکنہ معاہدوں کی بازگشت رہی اور مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے اشارے ملے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

تازہ ترین خبریں

آسام کے جورہاٹ میں طیارہ گر کر تباہ، پانچ افراد ہلاک

ہندوستانی فضائیہ (IAF) کا AN-32 ٹرانسپورٹ طیارہ ہفتہ کی...

کشمیر کے اسکولوں میں محرم کے دوران 23-27 جون تک کوئی امتحان نہیں DSEK

سرینگر 13 جون۔  ڈائریکٹوریٹ آف سکول ایجوکیشن کشمیر (ڈی...

آئے موسم کے متعلق تازہ اپڈیٹ جانتے ہیں

فیضان پنجابی  وادی کے بیشتر علاقوں میں صبح سے ہی...

ایران بحران، کشمیر میں کم پیداوار سے زعفران کی قیمتوں میں تیزی

سرینگر: دنیا کے مہنگے ترین مصالحے زعفران کی قیمتوں میں...

زندگی ایک فلم ہے یا ذہن کی تخلیق؟

ڈاکٹر ریاض احمد زندگی ہمیں ایک مسلسل سفر کی طرح...

سعودی ولی عہداور امریکی صدر کی ملاقات

جنگ نیوز ڈیسک

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وہائٹ ہاؤس میں سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کرتے ہوئے کہا کہ 2018 میں صحافی جمال خاشقجی کے قتل کے بارے میں ولی عہد کو کچھ معلوم نہیں تھا۔ ان کا یہ بیان 2021 کی اس امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے برعکس ہے جس میں کہا گیا تھا کہ قتل کی کارروائی ولی عہد کی منظوری سے انجام پائی۔
محمد بن سلمان نے وہائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب نے خاشقجی کی موت کی تحقیقات کے لیے تمام مناسب اقدامات کیے۔ انہوں نے اس قتل کو تکلیف دہ اور افسوسناک قرار دیا۔
یہ ان کا خاشقجی کے قتل کے بعد امریکہ کا پہلا دورہ تھا، جس نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو شدید متاثر کیا تھا۔ اوول آفس میں ایک صحافی کے سوال پر ٹرمپ نے کہا کہ آپ ایک ایسے شخص کا ذکر کر رہے ہیں جو بہت متنازع تھا اور بہت سے لوگ اسے پسند نہیں کرتے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ چیزیں ہو جاتی ہیں، لیکن ولی عہد کو اس کا علم نہیں تھا اور مہمانوں کو شرمندہ نہیں کرنا چاہیے۔
ولی عہد نے بھی کہا کہ سعودی عرب نے واقعے کی تحقیق کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے۔ جبکہ 2021 میں صدر جو بائیڈن کے دور میں جاری رپورٹ میں یہ نتیجہ نکالا گیا کہ ولی عہد نے استنبول میں خاشقجی کو پکڑنے یا قتل کرنے کی منظوری دی تھی۔ اگرچہ درجنوں سعودی اہلکاروں پر پابندیاں لگائی گئیں، لیکن ولی عہد کو ان میں شامل نہیں کیا گیا۔
واشنگٹن میں منگل کی شب وہائٹ ہاؤس میں ایک پُروقار بلیک ٹائی ڈنر کا اہتمام کیا گیا جس میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان کا استقبال کیا۔ اس تقریب نے امریکا سعودی تعلقات کے ایک نئے دور کی نشاندہی کی۔ ایلون مسک، کرسٹیانو رونالڈو، فیفا کے صدر جیانی انفانتینو اور مالیاتی و توانائی شعبے کی کئی معروف شخصیات نے شرکت کی۔
تقریب میں بڑے سرمایہ کاری منصوبوں پر بات ہوئی اور ٹرمپ نے اپنے خطاب میں سعودی عرب کو “اہم نان نیٹو اتحادی” قرار دینے کا اعلان کیا۔
اس سے قبل اوول آفس میں ٹرمپ اور ایم بی ایس نے اسرائیل فلسطین تنازع کے لیے ایک ریاستی اور دو ریاستی حل پر گفتگو کی۔ ٹرمپ کے مطابق ملاقات بہت فائدہ مند رہی۔
تقریب نے ایم بی ایس کی عالمی سطح پر شبیہ کی بحالی کو مزید مضبوط کیا، خاص طور پر اس وقت جب سعودی عرب امریکا میں انفراسٹرکچر اور مصنوعی ذہانت کے بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔ شام بھر اربوں ڈالر کے ممکنہ معاہدوں کی بازگشت رہی اور مستقبل میں مزید اعلیٰ سطحی ملاقاتوں کے اشارے ملے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں