میٹھی وادی میں خاموش قاتل

آج جب ہم World Diabetes Day منا رہے ہیں، تو خیالِ فکر خودکار طور پر بنے ہوئے مُضامین سے آگے نکل کر اُن منزِلوں کی طرف موڑنا چاہیے جہاں ذیابیطس خاموش مگر بے رحم انداز میں قدم جما رہی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے تہذیبِ خوراک میں تبدیلیاں کی ہیں ناشتے میں فوری تیاریاں، بسکٹ، چپس، کولڈ ڈرنکس، اور شام میں کم جسمانی سرگرمی۔ دوسری طرف وہ پس منظر ہے جہاں دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات، اسکریننگ، تشخیص اور علاج تک رسائی ابھی مطلوب ہے۔ اور تیسری طرف وہ حقیقت ہے کہ خوبصورت قدرتی مناظر کے باوجود، ہمارا معاشرہ ذیابیطس کو کسی ’شہرانی بیماری‘ کی حد تک محدود کر رہا ہے، حالانکہ یہ دیہی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔
ذیابیطس صرف ذیابیطس نہیں رہی۔ اس نے ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، اور دیگر میٹابولک خرابیوں کے ہمراہ ایک جامع طبی چیلنج کا روپ دھار لیا ہے۔تصور کیجیے ایک نوجوان خانگی کاروباری مرد یا خاتون پارٹی شام کو گھر واپس آتی ہے، پانی کے کنویں کی بجائے کار سے گھر پہنچتی ہے، فوٹیج میں ‘تیزِ غذا’ کا انتخاب کرتی ہے، موبائل یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتی ہے، اور چند سال بعد اُسے معلوم ہوتا ہے کہ بلڈ شُگر کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ تصویر محض فرضی نہیں، بلکہ ہمارے علاقے کے بدلتے سماجی ڈھانچے کی عکاسی ہے۔
اگر ہم اس بیماری کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو صرف صحت کے مراکز پر انحصار کم، اور سماجی شعور اور تعلیمی مہمات کو زیادہ بنانا ہوگا۔ جب ہر مقامی مسجد، مدرسہ، کمیونٹی ہال، اسکول اپنے گردوپیش میں ذیابیطس کی علامات، خوراک کی اہمیت، جسمانی سرگرمی اور تشخیص کے عمل پر کھلی گفتگو کرے، تو تبدیلی ممکن ہوگی۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں، یہ سماجی مسئلہ ہے، ریاستی پالیسی کا مسئلہ ہے، اور تہذیبی مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے علاقے کی جغرافیائی اور سماجی خصوصیات کے تناظر میں ہمیں ایسے پروگرام بنانے ہوں گے جن میں دور دراز وادیوں تک اسکریننگ پہنچے، صحت کی سہولیات بڑھیں، اور نوجوان نسل کو ‘نشست زدہ طرزِ زندگی’ کے جال سے باہر نکالا جائے۔
آخر میں، آج کے دن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ذیابیطس کی رکاوٹ وہ پہاڑی دیوار نہیں جسے بس ٹوٹنے کا تصور رکھیں، بلکہ وہ ماحول ہے جسے ہم مل کر تشکیل دے سکتے ہیں صحت مند خوراک، متحرک زندگی، بیدار معاشرہ اور کشمیر کی خوبصورتی کو ایسے معاشی و سماجی توازن کے ساتھ آگے لے چلیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ‘ذیابیطس سے پاک’ زندگی کی امید کے ساتھ اپنی صبحیں جئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

محکمہ آیوش پلوامہ نے کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ ارشد ماگرے کی حوصلہ افزائی کی

جنگ نیوز ڈیسک  پلوامہ/تنہا ایاز /محکمہ آیوش پلوامہ کی جانب...

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

تازہ ترین خبریں

محکمہ آیوش پلوامہ نے کرکٹ اکیڈمی کے سربراہ ارشد ماگرے کی حوصلہ افزائی کی

جنگ نیوز ڈیسک  پلوامہ/تنہا ایاز /محکمہ آیوش پلوامہ کی جانب...

13 سالہ لڑکی کے ساتھ مبینہ جنسی زیادتی، معاملہ درج

سرینگر جنگ پولیس نے پوکسو (POCSO) ایکٹ کے تحت تحقیقات...

بادل پھٹنے سے متعدد مکانات زیرِ آب، سامان کو نقصان

  جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان کے پہلی پورہ علاقے...

اسکول کے اندر لینڈ سلائیڈنگ کے نتیجے میں 7 سالہ طالب علم جاں بحق

  ہندواڑہ، 1 اگست  حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ...

میٹھی وادی میں خاموش قاتل

آج جب ہم World Diabetes Day منا رہے ہیں، تو خیالِ فکر خودکار طور پر بنے ہوئے مُضامین سے آگے نکل کر اُن منزِلوں کی طرف موڑنا چاہیے جہاں ذیابیطس خاموش مگر بے رحم انداز میں قدم جما رہی ہے۔
ایک طرف وہ لوگ ہیں جنہوں نے تہذیبِ خوراک میں تبدیلیاں کی ہیں ناشتے میں فوری تیاریاں، بسکٹ، چپس، کولڈ ڈرنکس، اور شام میں کم جسمانی سرگرمی۔ دوسری طرف وہ پس منظر ہے جہاں دیہی علاقوں میں صحت کی سہولیات، اسکریننگ، تشخیص اور علاج تک رسائی ابھی مطلوب ہے۔ اور تیسری طرف وہ حقیقت ہے کہ خوبصورت قدرتی مناظر کے باوجود، ہمارا معاشرہ ذیابیطس کو کسی ’شہرانی بیماری‘ کی حد تک محدود کر رہا ہے، حالانکہ یہ دیہی علاقوں تک پھیل چکی ہے۔
ذیابیطس صرف ذیابیطس نہیں رہی۔ اس نے ہائی بلڈ پریشر، موٹاپا، اور دیگر میٹابولک خرابیوں کے ہمراہ ایک جامع طبی چیلنج کا روپ دھار لیا ہے۔تصور کیجیے ایک نوجوان خانگی کاروباری مرد یا خاتون پارٹی شام کو گھر واپس آتی ہے، پانی کے کنویں کی بجائے کار سے گھر پہنچتی ہے، فوٹیج میں ‘تیزِ غذا’ کا انتخاب کرتی ہے، موبائل یا ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتی ہے، اور چند سال بعد اُسے معلوم ہوتا ہے کہ بلڈ شُگر کنٹرول کرنا مشکل ہوگیا ہے۔ یہ تصویر محض فرضی نہیں، بلکہ ہمارے علاقے کے بدلتے سماجی ڈھانچے کی عکاسی ہے۔
اگر ہم اس بیماری کا مقابلہ کرنا چاہتے ہیں تو صرف صحت کے مراکز پر انحصار کم، اور سماجی شعور اور تعلیمی مہمات کو زیادہ بنانا ہوگا۔ جب ہر مقامی مسجد، مدرسہ، کمیونٹی ہال، اسکول اپنے گردوپیش میں ذیابیطس کی علامات، خوراک کی اہمیت، جسمانی سرگرمی اور تشخیص کے عمل پر کھلی گفتگو کرے، تو تبدیلی ممکن ہوگی۔
اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ یہ صرف فرد کا مسئلہ نہیں، یہ سماجی مسئلہ ہے، ریاستی پالیسی کا مسئلہ ہے، اور تہذیبی مسئلہ بھی ہے۔ ہمارے علاقے کی جغرافیائی اور سماجی خصوصیات کے تناظر میں ہمیں ایسے پروگرام بنانے ہوں گے جن میں دور دراز وادیوں تک اسکریننگ پہنچے، صحت کی سہولیات بڑھیں، اور نوجوان نسل کو ‘نشست زدہ طرزِ زندگی’ کے جال سے باہر نکالا جائے۔
آخر میں، آج کے دن ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ذیابیطس کی رکاوٹ وہ پہاڑی دیوار نہیں جسے بس ٹوٹنے کا تصور رکھیں، بلکہ وہ ماحول ہے جسے ہم مل کر تشکیل دے سکتے ہیں صحت مند خوراک، متحرک زندگی، بیدار معاشرہ اور کشمیر کی خوبصورتی کو ایسے معاشی و سماجی توازن کے ساتھ آگے لے چلیں کہ ہماری آنے والی نسلیں ‘ذیابیطس سے پاک’ زندگی کی امید کے ساتھ اپنی صبحیں جئیں۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں