اس دور میں جب ظلم کو حکمت اور بے حسی کو طاقت سمجھا جا رہا ہے، مہربانی کی بات کرنا ایک بغاوت جیسا عمل محسوس ہوتا ہے۔ ہر سال عالمی یومِ مہربانیWorld Kindness Day ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی اصل قوت دولت یا اختیار میں نہیں بلکہ احساس، رحم اور دردِ دل میں پوشیدہ ہے۔
مہربانی آج صرف نرمی یا ذاتی خوش اخلاقی کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی موقف ہے۔ یہ اس بے حسی کے خلاف اعلان ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر کو مفلوج کر چکی ہے۔ جب غزہ کے معصوم بچے ملبے تلے دب جاتے ہیں اور یوکرین کے بے گناہ شہری بمباری کی نذر ہو جاتے ہیں تو مہربانی خاموش نہیں رہ سکتی۔ ظلم کے خلاف بولنا، ظالم کو ظالم کہنا، اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بھی مہربانی ہے، کیونکہ سچائی خود ایک رحمت ہے۔
دنیا اس وقت دو بڑی اخلاقی ناکامیوں سے گزر رہی ہے۔ فلسطین میں اسرائیل نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، لیکن دنیا کے بیشتر طاقتور ممالک یا تو خاموش ہیں یا اس ظلم کے جواز تراشنے میں مصروف۔ اسی طرح روس نے یوکرین پر حملہ کر کے ظلم اور تباہی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور بے وطن کر دیا ہے۔ یہ سب دفاع کے نام پر نہیں بلکہ جارحیت کے نام پر ہو رہا ہے، اور اگر مہربانی کا کوئی حقیقی مفہوم ہے تو وہ ان جرائم کی مذمت میں پوشیدہ ہے۔ حقیقی مہربانی کمزوری نہیں بلکہ جرات ہے۔ یہ ان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جنہیں دنیا بھول چکی ہے۔ یہ اس وقت سچ بولنا ہے جب سچ بولنا نقصان دہ سمجھا جائے۔ یہ خاموش تماشائی بننے سے انکار ہے۔ اگر ہم ظلم پر خاموش رہیں تو ہم بھی اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
مہربانی کا آغاز چھوٹے چھوٹے اعمال سے ہوتا ہے، جیسے مسکراہٹ بانٹنا، کسی کی بات صبر سے سننا، یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا۔ مگر اجتماعی سطح پر یہی مہربانی انصاف کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ قوموں کے ضمیر کی علامت بن جاتی ہے، سفارت کاری کی بنیاد بنتی ہے، اور تہذیب کو انسانیت سے جوڑے رکھتی ہے۔ اگر مہربانی ختم ہو جائے تو ترقی بھی ظلم میں بدل جاتی ہے۔
عالمی یومِ مہربانیWorld Kindness Day پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم مہربانی کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں گے۔ ہم خاموشی کو امن اور بے حسی کو دانائی نہیں مانیں گے۔ ہماری مہربانی اتنی بیدار ہو کہ وہ ظلم کے مقابل ڈٹ سکے، اور اتنی مضبوط ہو کہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔ کیونکہ آخرکار دنیا کو صرف ظالموں کا ظلم نہیں بلکہ اُن لوگوں کی خاموشی بھی یاد رہتی ہے جو مہربان ہو سکتے تھے مگر ہوئے نہیں۔
سنگدل دنیا میں انسانیت کی پکار
سنگدل دنیا میں انسانیت کی پکار
اس دور میں جب ظلم کو حکمت اور بے حسی کو طاقت سمجھا جا رہا ہے، مہربانی کی بات کرنا ایک بغاوت جیسا عمل محسوس ہوتا ہے۔ ہر سال عالمی یومِ مہربانیWorld Kindness Day ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی اصل قوت دولت یا اختیار میں نہیں بلکہ احساس، رحم اور دردِ دل میں پوشیدہ ہے۔
مہربانی آج صرف نرمی یا ذاتی خوش اخلاقی کا نام نہیں بلکہ ایک اخلاقی موقف ہے۔ یہ اس بے حسی کے خلاف اعلان ہے جو ہمارے اجتماعی ضمیر کو مفلوج کر چکی ہے۔ جب غزہ کے معصوم بچے ملبے تلے دب جاتے ہیں اور یوکرین کے بے گناہ شہری بمباری کی نذر ہو جاتے ہیں تو مہربانی خاموش نہیں رہ سکتی۔ ظلم کے خلاف بولنا، ظالم کو ظالم کہنا، اور مظلوم کے ساتھ کھڑا ہونا بھی مہربانی ہے، کیونکہ سچائی خود ایک رحمت ہے۔
دنیا اس وقت دو بڑی اخلاقی ناکامیوں سے گزر رہی ہے۔ فلسطین میں اسرائیل نے انسانیت کی تمام حدیں پار کر دی ہیں۔ گھروں، اسپتالوں اور اسکولوں پر بم برسائے جا رہے ہیں۔ ہزاروں بے گناہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، لیکن دنیا کے بیشتر طاقتور ممالک یا تو خاموش ہیں یا اس ظلم کے جواز تراشنے میں مصروف۔ اسی طرح روس نے یوکرین پر حملہ کر کے ظلم اور تباہی کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، اس نے لاکھوں انسانوں کو بے گھر اور بے وطن کر دیا ہے۔ یہ سب دفاع کے نام پر نہیں بلکہ جارحیت کے نام پر ہو رہا ہے، اور اگر مہربانی کا کوئی حقیقی مفہوم ہے تو وہ ان جرائم کی مذمت میں پوشیدہ ہے۔ حقیقی مہربانی کمزوری نہیں بلکہ جرات ہے۔ یہ ان مظلوموں کے ساتھ کھڑا ہونا ہے جنہیں دنیا بھول چکی ہے۔ یہ اس وقت سچ بولنا ہے جب سچ بولنا نقصان دہ سمجھا جائے۔ یہ خاموش تماشائی بننے سے انکار ہے۔ اگر ہم ظلم پر خاموش رہیں تو ہم بھی اس کا حصہ بن جاتے ہیں۔
مہربانی کا آغاز چھوٹے چھوٹے اعمال سے ہوتا ہے، جیسے مسکراہٹ بانٹنا، کسی کی بات صبر سے سننا، یا کسی ضرورت مند کی مدد کرنا۔ مگر اجتماعی سطح پر یہی مہربانی انصاف کا روپ دھار لیتی ہے۔ یہ قوموں کے ضمیر کی علامت بن جاتی ہے، سفارت کاری کی بنیاد بنتی ہے، اور تہذیب کو انسانیت سے جوڑے رکھتی ہے۔ اگر مہربانی ختم ہو جائے تو ترقی بھی ظلم میں بدل جاتی ہے۔
عالمی یومِ مہربانیWorld Kindness Day پر ہمیں یہ عہد کرنا چاہیے کہ ہم مہربانی کو کمزوری نہیں بلکہ طاقت سمجھیں گے۔ ہم خاموشی کو امن اور بے حسی کو دانائی نہیں مانیں گے۔ ہماری مہربانی اتنی بیدار ہو کہ وہ ظلم کے مقابل ڈٹ سکے، اور اتنی مضبوط ہو کہ مظلوم کے ساتھ کھڑی ہو سکے۔ کیونکہ آخرکار دنیا کو صرف ظالموں کا ظلم نہیں بلکہ اُن لوگوں کی خاموشی بھی یاد رہتی ہے جو مہربان ہو سکتے تھے مگر ہوئے نہیں۔


