دنیا بھر میں ہر سال 12 نومبر کو "عالمی یومِ نمونیا” منایا جاتا ہے تاکہ اس خاموش قاتل بیماری کے خلاف شعور بیدار کیا جا سکے جو آج بھی لاکھوں جانیں نگل رہی ہے۔ عالمی ادارۂ صحت کے مطابق، نمونیا بچوں اور بزرگوں میں اموات کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے، اگرچہ اس کا علاج ممکن اور ویکسین دستیاب ہے۔ بھارت جیسے ممالک میں، جہاں آبادی کا ایک بڑا حصہ صحت کے بنیادی ڈھانچے سے پوری طرح مستفید نہیں ہو پاتا، وہاں نمونیا اب بھی ایک سنگین چیلنج بنا ہوا ہے۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق، بھارت میں ہر سال تقریباً تین کروڑ نمونیا یا تیز سانسی امراض (acute respiratory infections) کے نئے کیسز سامنے آتے ہیں، اور پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں ۱۷ فیصد نمونیا کے باعث ہوتی ہیں۔
جموں و کشمیر میں بھی یہ مسئلہ کم سنگین نہیں۔ اگرچہ وادی میں گزشتہ چند برسوں میں نمونیا کے کیسز میں معمولی کمی ریکارڈ کی گئی ہے جیسے کہکشمیر یونیورسٹیکے ایک تحقیقی جائزے کے مطابق، 2017 سے 2021 کے درمیان بچوں میں نمونیا کی شرح تقریباً4.1 فیصد کم ہوئی مگر مجموعی صورتحال اب بھی اطمینان بخش نہیں۔ ضلع اننت ناگ جیسے علاقوں میں، جہاں 2017 میں نمونیا کے کیسز 6 فیصد تک پہنچ چکے تھے، وہ اگرچہ اب گھٹ کر2.9فیصد تک آ گئے ہیں، لیکن رپورٹنگ کا معیار اور صحت کے اعداد و شمار کی شفافیت بدستور ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔
کشمیر کے جغرافیہ اور آب و ہوا کو مدنظر رکھا جائے تو نمونیا یہاں ایک قدرتی خطرے کی طرح موجود ہے۔ سخت سردیوں میں، جب درجہ حرارت نقطۂ انجماد سے نیچے چلا جاتا ہے، تو سانس سے متعلق بیماریاں تیزی سے پھیلتی ہیں۔ گھروں میں بند ماحول، ناکافی وینٹی لیشن، کمزور مدافعتی نظام، اور بعض اوقات ناقص تغذیہ، بچوں اور بزرگوں کو خاص طور پر متاثر کرتے ہیں۔ دور دراز پہاڑی علاقوں میں جہاں اسپتال اور ڈاکٹر تک رسائی محدود ہے، وہاں نمونیا کی بروقت تشخیص اور علاج تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ نتیجتاً، کئی بچے وہیں دم توڑ دیتے ہیں جہاں صرف ایک اینٹی بایوٹک یا آکسیجن سلنڈر زندگی بچا سکتا تھا۔
مسئلے کی جڑ صرف بیماری نہیں بلکہ ادراک کی کمی بھی ہے۔ عام لوگوں کو نمونیا کی ابتدائی علامات کا علم نہیں ہوتا۔ تیز سانس، سینے کی اندر کی طرف حرکت، یا بخار کو اکثر سردی کا معمولی اثر سمجھ لیا جاتا ہے۔ جب تک معاملہ بگڑتا ہے، بیماری جان لیوا مرحلے میں پہنچ چکی ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ، بچوں کو نمونیا سے بچانے والی ویکسین — جسے بھارت میں "پینوموکوکل ویکسین” کے نام سے جانا جاتا ہے — ابھی بھی ہر علاقے میں دستیاب یا مکمل طور پر استعمال نہیں ہو رہی۔
کشمیر میں نمونیا کے خلاف لڑائی کے لیے صرف اسپتالوں کی تعداد بڑھانا کافی نہیں۔ ہمیں اس مسئلے کو ایک جامع صحتیاتی، تعلیمی اور سماجی تناظر میں دیکھنا ہوگا۔ نمونیا صرف پھیپھڑوں کی بیماری نہیں بلکہ غربت، تغذیہ کی کمی، سرد موسم میں ناقص رہائش، اور شعور کی کمی کا مجموعہ ہے۔ حکومت اور سماجی اداروں کو اس سمت میں مربوط حکمتِ عملی اپنانے کی ضرورت ہے: دیہی علاقوں میں صحت کے مراکز کو فعال بنانا، ابتدائی علامات کی تربیت دینا، ماؤں کو ویکسینیشن کی اہمیت سمجھانا، اور سردیوں کے دوران بچوں کے لیے خصوصی نگہداشت پروگرام چلانا۔
اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جموں و کشمیر میں نمونیا کے کیسز میں کمی ضرور آئی ہے، مگر یہ کمی اس رفتار سے نہیں ہو رہی جس کی ضرورت ہے۔ سرد علاقوں میں سانس کی بیماریوں کی موسمی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے ایک مخصوص علاقائی پالیسی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ مزید یہ کہ، کشمیر میں صحت کے اعداد و شمار کی رپورٹنگ اور مانیٹرنگ کے نظام کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے تاکہ پالیسی فیصلے ٹھوس بنیادوں پر کیے جا سکیں۔


