قرآن کی قسم اور سیاست کا زوال

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر اخلاقی تماشہ بن چکی ہے، جہاں مقدس علامتوں کو بھی سیاسی مفادات کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ تنازعہ جس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما شامل ہیں، اس بات کا مظہر ہے کہ سیاست میں اخلاقی حدود کس قدر کمزور ہو چکی ہیں اور مذہب کو سیاسی مباحث میں کس بے دردی سے گھسیٹا جا رہا ہے۔
اتوار کو بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے عمر عبداللہ کو چیلنج دیا کہ وہ قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر یہ حلف لیں کہ ان کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے ایک تیز ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے X (ٹوئٹر) پر لکھا:”میں قرآنِ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے 2024 میں ریاستی درجہ کی بحالی یا کسی اور مقصد کےلئے بی جے پی سے اتحاد کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سنیل شرما کے برعکس، میں جھوٹ بول کر زندگی نہیں گزارتا۔”
یہ معاملہ تب اور دلچسپ ہو گیا جب پی ڈی پی کے رہنما وحیدپرا نے اس پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:”جناب عمر عبداللہ! اب 2014 کےلئے بھی قسم کھائیے کہ آپ نے بی جے پی سے اتحاد کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ سچ جو آپ کے دوست مرحوم دیویندر سنگھ رانا خود بتا چکے ہیں۔”
تاہم یہاں سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ وحید پرا کی اپنی جماعت، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP)، دو بار بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا چکی ہے پہلے 2015 میں اور پھر 2016 میں وہی اتحاد جس نےشاید آج کی سیاسی خلیج کو جنم دیا۔
یہ سارا واقعہ دراصل اس اخلاقی کھوکھلے پن کی علامت ہے جو کشمیر کی سیاست کا خاصہ بن چکا ہے۔ قرآنِ کریم جیسی مقدس کتاب کو سیاسی ثبوت کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ مذہبی تقدس کی توہین کے مترادف ہے۔ مذہب انسان کے ضمیر کی رہنمائی کےلئے ہے، نہ کہ سیاسی ساکھ کی تصدیق کےلئے۔
یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما عوامی تائید کےلئے مذہبی علامتوں کو ڈھال بنا رہے ہیں۔ قرآن پر قسم کھانا کوئی سیاسی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سچائی اپنی قوتِ استدلال کھو چکی ہے۔ جب سچ کو ثابت کرنے کےلئے قرآن کو گواہ بنانا پڑے، تو یہ مذہب کی نہیں بلکہ سیاست کی اخلاقی شکست ہوتی ہے۔جن رہنماؤں نے خود کبھی اقتدار کےلئے بی جے پی سے ہاتھ ملایا، آج وہی دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو کشمیر کی سیاست کو روز بروز بدنام کر رہا ہے۔سچائی اگر قسم کی محتاج ہو جائے تو یہ سیاست نہیں، تماشہ بن جاتی ہے اور بدقسمتی سے، یہی تماشہ آج ہماری سیاسی ثقافت کا اصل چہرہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

تازہ ترین خبریں

کشمیری پنڈتوں کی واپسی!

جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کی...

طویل عرصے تک بیٹھنا صحت کے لیے بڑا خطرہ

سرینگر، 13 جون انتباہ کہ طویل عرصے تک بیٹھنا صحت...

سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت، دو زخمی

شمالی کشمیر سڑک حادثے میں 75 سالہ خاتون کی موت،...

قرآن کی قسم اور سیاست کا زوال

جموں و کشمیر کی سیاست ایک بار پھر اخلاقی تماشہ بن چکی ہے، جہاں مقدس علامتوں کو بھی سیاسی مفادات کےلئے استعمال کیا جا رہا ہے۔ حالیہ تنازعہ جس میں وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما شامل ہیں، اس بات کا مظہر ہے کہ سیاست میں اخلاقی حدود کس قدر کمزور ہو چکی ہیں اور مذہب کو سیاسی مباحث میں کس بے دردی سے گھسیٹا جا رہا ہے۔
اتوار کو بی جے پی کے سینئر رہنما سنیل شرما نے عمر عبداللہ کو چیلنج دیا کہ وہ قرآنِ پاک پر ہاتھ رکھ کر یہ حلف لیں کہ ان کا بی جے پی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کے جواب میں عمر عبداللہ نے ایک تیز ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے X (ٹوئٹر) پر لکھا:”میں قرآنِ پاک کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ میں نے 2024 میں ریاستی درجہ کی بحالی یا کسی اور مقصد کےلئے بی جے پی سے اتحاد کی کوئی کوشش نہیں کی۔ سنیل شرما کے برعکس، میں جھوٹ بول کر زندگی نہیں گزارتا۔”
یہ معاملہ تب اور دلچسپ ہو گیا جب پی ڈی پی کے رہنما وحیدپرا نے اس پر طنزیہ تبصرہ کرتے ہوئے لکھا:”جناب عمر عبداللہ! اب 2014 کےلئے بھی قسم کھائیے کہ آپ نے بی جے پی سے اتحاد کی کبھی کوشش نہیں کی، وہ سچ جو آپ کے دوست مرحوم دیویندر سنگھ رانا خود بتا چکے ہیں۔”
تاہم یہاں سب سے بڑا تضاد یہی ہے کہ وحید پرا کی اپنی جماعت، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (PDP)، دو بار بی جے پی کے ساتھ حکومت بنا چکی ہے پہلے 2015 میں اور پھر 2016 میں وہی اتحاد جس نےشاید آج کی سیاسی خلیج کو جنم دیا۔
یہ سارا واقعہ دراصل اس اخلاقی کھوکھلے پن کی علامت ہے جو کشمیر کی سیاست کا خاصہ بن چکا ہے۔ قرآنِ کریم جیسی مقدس کتاب کو سیاسی ثبوت کے طور پر استعمال کرنا نہ صرف نامناسب ہے بلکہ مذہبی تقدس کی توہین کے مترادف ہے۔ مذہب انسان کے ضمیر کی رہنمائی کےلئے ہے، نہ کہ سیاسی ساکھ کی تصدیق کےلئے۔
یہ افسوسناک امر ہے کہ ہمارے سیاسی رہنما عوامی تائید کےلئے مذہبی علامتوں کو ڈھال بنا رہے ہیں۔ قرآن پر قسم کھانا کوئی سیاسی دلیل نہیں، بلکہ اس بات کا اعتراف ہے کہ سچائی اپنی قوتِ استدلال کھو چکی ہے۔ جب سچ کو ثابت کرنے کےلئے قرآن کو گواہ بنانا پڑے، تو یہ مذہب کی نہیں بلکہ سیاست کی اخلاقی شکست ہوتی ہے۔جن رہنماؤں نے خود کبھی اقتدار کےلئے بی جے پی سے ہاتھ ملایا، آج وہی دوسروں پر الزامات لگا رہے ہیں۔ یہ وہی دوغلا پن ہے جو کشمیر کی سیاست کو روز بروز بدنام کر رہا ہے۔سچائی اگر قسم کی محتاج ہو جائے تو یہ سیاست نہیں، تماشہ بن جاتی ہے اور بدقسمتی سے، یہی تماشہ آج ہماری سیاسی ثقافت کا اصل چہرہ ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں