ڈاکٹروں کی غفلت کب تک ؟

صورہ کے معروف طبی ادارے SKIMS میں نومولود احمد نعیم کی دل دہلا دینے والی موت نے ایک بار پھر ہمارے طبی نظام کے اندر چھپی ہوئی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ محض ایک خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ پوری سماج کے سامنے وہ تلخ سچ ہے جسے ہم ہر چند ماہ بعد بھول جاتے ہیں، جب تک کوئی نیا واقعہ سامنے نہ آ جائے۔ سوال یہ ہے: آخر کب تک غفلت اور لاپروائی ہماری جانیں لیتی رہے گی، اور کب تک ادارے صرف وضاحتی بیانات اور کمیٹیوں کے پیچھے چھپتے رہیں گے؟
اس المناک واقعے میں دو بڑے طبی اداروں نورا ہسپتال اورSKIMSپر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ والدین کے مطابق نورا ہسپتال میں بچے کی بنیادی جسمانی جانچ تک نہیں کی گئی۔ ایک ایسا نومولود جو واضح طور پر ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھا، اس کی نبض، سانس، آنکھوں اور جسمانی علامات کا جائزہ لیے بغیر دوائیں تجویز کر دینا نہ صرف غیر ذمہ داری ہے بلکہ پیشۂ طب کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف بھی ہے۔
رات کے اندھیرے میں جب بچے کی حالت بگڑ گئی اور والدین اسےSKIMS کی ایمرجنسی میں لے گئے، وہاں بھی مبینہ طور پر بے توجہی، تاخیر اور عملے کا غیر حساس رویہ سامنے آیا۔ والدہ کے مطابق بچے کو بار بار سوئیاں لگائی گئیں، خون نکالنے میں ناکامی کا ذمہ دار عملہ موسم کی سردی کو ٹھہراتا رہا اور ضروری فوری طبی ردعمل میں تاخیر ہوتی رہی۔ یہ سب کچھ ایک ماں کے سامنے ہوا، جس کے بازو میں بیٹا آخری سانسیں لے رہا تھا۔
اب جبکہSKIMS نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور متعلقہ ڈاکٹر کو اٹیچ کر دیا گیا ہے، یہ ضروری ہے کہ اس معاملے کو صرف ایک رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ اداروں کا کام صرف وضاحتیں دینا نہیں، بلکہ اپنے اندر ایسی تبدیلیاں لانا ہے جو انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد سچائی تک پہنچنا ہو، نہ کہ محض وقت گزارنا۔
اسی طرح نورا ہسپتال کو بھی اپنے عملے کے رویے، پروٹوکول کی خلاف ورزی اور بنیادی طبی احتیاطی تقاضوں کی عدم پیروی پر شفاف اور سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ دونوں اداروں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر ایک معصوم کی جان نہ بچ پائی تو اس میں کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں، کیوں ہوئیں، اور انہیں کیسے روکا جا سکتا تھا۔
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں طبی غفلت سے موت کی خبریں وقفے وقفے سے سامنے آتی ہیں، میڈیا پر شور اٹھتا ہے، جذبات بھڑکتے ہیں، چند دن بعد کمیٹیاں بنتی ہیں پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ جب تک کوئی نیا سانحہ نہ ہو، سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ یہی اجتماعی بے حسی دراصل سب سے بڑا المیہ ہے۔
ایک معصوم کی جان چلی گئی، لیکن اگر ہم واقعی اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھیں گے، تو یہ صرف ایک بچے کی موت نہیں ہوگی یہ ہماری اجتماعی انسانیت کا المیہ بن کر رہ جائے گا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم ہر نئے واقعے پر صرف افسوس کرتے رہیں گے، یا اس نظام میں حقیقی تبدیلی کی کوشش بھی کریں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، خطے میں کشیدگی کم ہونے کی توقع

واشنگٹن: امریکہ اور ایران نے ایک اہم جنگ بندی اور...

میں انسان ہوں یا کارڈوں کا پلندہ؟

  ڈاکٹر محفوظ عالم      مصنوعی ذہانت کے اس...

ماحولیات: شعور سے عمل تک کا سفر

  مہرالنساء قریشی ہندوارہ ، کشمیر اللہ تعالیٰ نے انسان کو...

18 جون سیر و تفریح کا بین الاقوامی دن

  عنایت ﷲ ننھے اب تک ہم ہندوستانی صرف انگریزی کیلنڈر...

دہشت گردی سے روابط رکھنےپر محکمہ بجلی کا ملازم برطرف

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر حکومت نے جنوبی کشمیر...

تازہ ترین خبریں

امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدہ طے، خطے میں کشیدگی کم ہونے کی توقع

واشنگٹن: امریکہ اور ایران نے ایک اہم جنگ بندی اور...

میں انسان ہوں یا کارڈوں کا پلندہ؟

  ڈاکٹر محفوظ عالم      مصنوعی ذہانت کے اس...

ماحولیات: شعور سے عمل تک کا سفر

  مہرالنساء قریشی ہندوارہ ، کشمیر اللہ تعالیٰ نے انسان کو...

18 جون سیر و تفریح کا بین الاقوامی دن

  عنایت ﷲ ننھے اب تک ہم ہندوستانی صرف انگریزی کیلنڈر...

دہشت گردی سے روابط رکھنےپر محکمہ بجلی کا ملازم برطرف

جنگ نیوز ڈیسک جموں و کشمیر حکومت نے جنوبی کشمیر...

ڈاکٹروں کی غفلت کب تک ؟

صورہ کے معروف طبی ادارے SKIMS میں نومولود احمد نعیم کی دل دہلا دینے والی موت نے ایک بار پھر ہمارے طبی نظام کے اندر چھپی ہوئی سنگین خامیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ یہ محض ایک خاندان کا سانحہ نہیں، بلکہ پوری سماج کے سامنے وہ تلخ سچ ہے جسے ہم ہر چند ماہ بعد بھول جاتے ہیں، جب تک کوئی نیا واقعہ سامنے نہ آ جائے۔ سوال یہ ہے: آخر کب تک غفلت اور لاپروائی ہماری جانیں لیتی رہے گی، اور کب تک ادارے صرف وضاحتی بیانات اور کمیٹیوں کے پیچھے چھپتے رہیں گے؟
اس المناک واقعے میں دو بڑے طبی اداروں نورا ہسپتال اورSKIMSپر سنگین سوالات اٹھتے ہیں۔ والدین کے مطابق نورا ہسپتال میں بچے کی بنیادی جسمانی جانچ تک نہیں کی گئی۔ ایک ایسا نومولود جو واضح طور پر ڈی ہائیڈریشن کا شکار تھا، اس کی نبض، سانس، آنکھوں اور جسمانی علامات کا جائزہ لیے بغیر دوائیں تجویز کر دینا نہ صرف غیر ذمہ داری ہے بلکہ پیشۂ طب کی بنیادی اخلاقیات کے خلاف بھی ہے۔
رات کے اندھیرے میں جب بچے کی حالت بگڑ گئی اور والدین اسےSKIMS کی ایمرجنسی میں لے گئے، وہاں بھی مبینہ طور پر بے توجہی، تاخیر اور عملے کا غیر حساس رویہ سامنے آیا۔ والدہ کے مطابق بچے کو بار بار سوئیاں لگائی گئیں، خون نکالنے میں ناکامی کا ذمہ دار عملہ موسم کی سردی کو ٹھہراتا رہا اور ضروری فوری طبی ردعمل میں تاخیر ہوتی رہی۔ یہ سب کچھ ایک ماں کے سامنے ہوا، جس کے بازو میں بیٹا آخری سانسیں لے رہا تھا۔
اب جبکہSKIMS نے ایک کمیٹی تشکیل دے دی ہے اور متعلقہ ڈاکٹر کو اٹیچ کر دیا گیا ہے، یہ ضروری ہے کہ اس معاملے کو صرف ایک رسمی کارروائی تک محدود نہ رکھا جائے۔ اداروں کا کام صرف وضاحتیں دینا نہیں، بلکہ اپنے اندر ایسی تبدیلیاں لانا ہے جو انسانی جانوں کی حفاظت کو یقینی بنائیں۔ تحقیقاتی کمیٹی کا مقصد سچائی تک پہنچنا ہو، نہ کہ محض وقت گزارنا۔
اسی طرح نورا ہسپتال کو بھی اپنے عملے کے رویے، پروٹوکول کی خلاف ورزی اور بنیادی طبی احتیاطی تقاضوں کی عدم پیروی پر شفاف اور سخت کارروائی کرنی چاہیے۔ دونوں اداروں کے لیے یہ لمحۂ فکریہ ہے کہ اگر ایک معصوم کی جان نہ بچ پائی تو اس میں کہاں کہاں غلطیاں ہوئیں، کیوں ہوئیں، اور انہیں کیسے روکا جا سکتا تھا۔
بدقسمتی سے ہم ایک ایسے معاشرے میں رہتے ہیں جہاں طبی غفلت سے موت کی خبریں وقفے وقفے سے سامنے آتی ہیں، میڈیا پر شور اٹھتا ہے، جذبات بھڑکتے ہیں، چند دن بعد کمیٹیاں بنتی ہیں پھر خاموشی چھا جاتی ہے۔ جب تک کوئی نیا سانحہ نہ ہو، سب کچھ معمول پر آ جاتا ہے۔ یہی اجتماعی بے حسی دراصل سب سے بڑا المیہ ہے۔
ایک معصوم کی جان چلی گئی، لیکن اگر ہم واقعی اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھیں گے، تو یہ صرف ایک بچے کی موت نہیں ہوگی یہ ہماری اجتماعی انسانیت کا المیہ بن کر رہ جائے گا۔ ہمیں فیصلہ کرنا ہے کہ کیا ہم ہر نئے واقعے پر صرف افسوس کرتے رہیں گے، یا اس نظام میں حقیقی تبدیلی کی کوشش بھی کریں گے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں