صحافت اور ٹیکنالوجی کا ٹکر؟

16 نومبر قومی یوم صحافت پر خاص

ہر سال 16 نومبر کو قومی یوم صحافت National Press Day پریس کونسل آف انڈیا کے قیام اور آزادی صحافت کے اُس عہد کی یاد دلاتا ہے جس نے سچائی اور شفافیت کو صحافتی بنیاد بنایا۔ مگر 2025 میں صحافت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ٹیکنالوجی اس کی اصل ساخت کو مسلسل چیلنج کر رہی ہے۔ آج میڈیا خبر سے بڑھ کر سماج کی اجتماعی سوچ کا آئینہ ہے، اور ٹیکنالوجی اس آئینے کو پہلے سے زیادہ لرزا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ہر نئی لہر نے میڈیا کو بدلا، مگر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خبر کو ایک مرکز سے نکال کر بے شمار سمتوں میں پھیلا دیا۔ اس ہجوم میں خبر اور رائے کی لکیر دھندلا گئی اور کئی جگہوں پر صحافت سرگرمی میں بدل گئی۔
اب مصنوعی ذہانے AIنے منظرنامہ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ لکھتا بھی ہے، ترتیب بھی دیتا ہے، اور تیزی ایسی ہے کہ انسان پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر الگورتھم Algorithmطے کرے کہ کیا معتبر ہے، تو سچائی کا معیار کس کے ہاتھ میں رہے گا؟
AI سہولت بڑھاتا ہے، مگر احساس، تناظر، جذبات اور انسانی تجربے کی گہرائی مشین نہیں سمجھ سکتی۔ الگورتھم ڈیٹا جوڑتا ہے، مگر ضمیر نہیں رکھتا، اور اگر خبر کا ضمیر کمپیوٹر کے سپرد ہو جائے، تو صحافت اپنی روح کھو دے گی۔
اسی لیے آج ایڈیٹرز کا انسانی کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ نیوز روم کو خیالات اور تناظر کا مرکز رہنا چاہیے، نہ کہ مصنوعی نثر کی فیکٹری۔
AI مواد تو بنا سکتا ہے، لیکن تصور، خوف، کشمکش، جرأت اور سچائی کا بوجھ انسان ہی محسوس کرتا ہے۔خطرہ یہ بھی ہے کہ جب بیانیے الگورتھم طے کریں گے تو وہی ڈیجیٹل تعصبات صحافت میں اتر آئیں گے جو سوشل میڈیا کو مسخ کرتے ہیں، اور یوں صحافت ایک اخلاقی مشن کے بجائے محض ڈیٹا پروسیسنگ بن کر رہ جائے گی۔
AI رفتار دیتا ہے، مگر سچائی انسان کی تحقیق اور ایمانداری سے جنم لیتی ہے۔نیشنل پریس ڈے یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی دشمن نہیں، مگر فیصلہ انسان کو کرنا ہے۔ AI ہمارے استعمال کے لیے ہے، ہمارا متبادل نہیں۔اگر صحافت کا کنٹرول مشینوں کو دے دیا گیا، تو خبر سچ نہیں بلکہ تاثر رہ جائے گی۔ذمہ داری صرف صحافیوں کی نہیں، قاری کی بھی ہے کہ سوال کرے، جانچے، اور جلدبازی سے بچے، کیونکہ آزادیٔ صحافت اداروں سے زیادہ اُن لوگوں کی سانس میں زندہ رہتی ہے جو سچ جاننا چاہتے ہیں۔
صحافت کی طاقت مشینوں میں نہیں، انسانوں میں ہے، اور سچ ہمیشہ انسان کی تلاش سے جنم لیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

ہندوستانی تارکینِ وطن قومی وقار ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی کا فرانس کے شہر نائس...

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

تازہ ترین خبریں

ہندوستانی تارکینِ وطن قومی وقار ہیں

وزیر اعظم نریندر مودی کا فرانس کے شہر نائس...

ایران کے وزیر خارجہ نے کہا

دبئی: ایران کے ایک سینئر سفارتی عہدیدار نے منگل کو...

بس ٹرک سے ٹکرا گئی۔ چھ ہلاک، چھبیس شدید زخمی

وڈودرا، گجرات گجرات کے وڈودرا ضلع میں بدھ کی صبح...

پہلگام کے آرو کے قریب سڑک حادثہ میں دو افراد ہلاک، چھ زخمی

سری نگر، 17 جون پہلگام کے قریب ارو وادی روڈ...

تالاب میں نہاتے ہوئے نوجوان کی ہوی موت

کپواڑہ، 17جون شمالی کشمیر کے کپواڑہ ضلع کے ہائیہامہ کے...

صحافت اور ٹیکنالوجی کا ٹکر؟

16 نومبر قومی یوم صحافت پر خاص

ہر سال 16 نومبر کو قومی یوم صحافت National Press Day پریس کونسل آف انڈیا کے قیام اور آزادی صحافت کے اُس عہد کی یاد دلاتا ہے جس نے سچائی اور شفافیت کو صحافتی بنیاد بنایا۔ مگر 2025 میں صحافت ایک ایسے دوراہے پر کھڑی ہے جہاں ٹیکنالوجی اس کی اصل ساخت کو مسلسل چیلنج کر رہی ہے۔ آج میڈیا خبر سے بڑھ کر سماج کی اجتماعی سوچ کا آئینہ ہے، اور ٹیکنالوجی اس آئینے کو پہلے سے زیادہ لرزا رہی ہے۔
ٹیکنالوجی کی ہر نئی لہر نے میڈیا کو بدلا، مگر انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا نے خبر کو ایک مرکز سے نکال کر بے شمار سمتوں میں پھیلا دیا۔ اس ہجوم میں خبر اور رائے کی لکیر دھندلا گئی اور کئی جگہوں پر صحافت سرگرمی میں بدل گئی۔
اب مصنوعی ذہانے AIنے منظرنامہ یکسر تبدیل کر دیا ہے۔ یہ لکھتا بھی ہے، ترتیب بھی دیتا ہے، اور تیزی ایسی ہے کہ انسان پیچھے رہ جاتا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اگر الگورتھم Algorithmطے کرے کہ کیا معتبر ہے، تو سچائی کا معیار کس کے ہاتھ میں رہے گا؟
AI سہولت بڑھاتا ہے، مگر احساس، تناظر، جذبات اور انسانی تجربے کی گہرائی مشین نہیں سمجھ سکتی۔ الگورتھم ڈیٹا جوڑتا ہے، مگر ضمیر نہیں رکھتا، اور اگر خبر کا ضمیر کمپیوٹر کے سپرد ہو جائے، تو صحافت اپنی روح کھو دے گی۔
اسی لیے آج ایڈیٹرز کا انسانی کردار پہلے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ نیوز روم کو خیالات اور تناظر کا مرکز رہنا چاہیے، نہ کہ مصنوعی نثر کی فیکٹری۔
AI مواد تو بنا سکتا ہے، لیکن تصور، خوف، کشمکش، جرأت اور سچائی کا بوجھ انسان ہی محسوس کرتا ہے۔خطرہ یہ بھی ہے کہ جب بیانیے الگورتھم طے کریں گے تو وہی ڈیجیٹل تعصبات صحافت میں اتر آئیں گے جو سوشل میڈیا کو مسخ کرتے ہیں، اور یوں صحافت ایک اخلاقی مشن کے بجائے محض ڈیٹا پروسیسنگ بن کر رہ جائے گی۔
AI رفتار دیتا ہے، مگر سچائی انسان کی تحقیق اور ایمانداری سے جنم لیتی ہے۔نیشنل پریس ڈے یاد دلاتا ہے کہ ٹیکنالوجی دشمن نہیں، مگر فیصلہ انسان کو کرنا ہے۔ AI ہمارے استعمال کے لیے ہے، ہمارا متبادل نہیں۔اگر صحافت کا کنٹرول مشینوں کو دے دیا گیا، تو خبر سچ نہیں بلکہ تاثر رہ جائے گی۔ذمہ داری صرف صحافیوں کی نہیں، قاری کی بھی ہے کہ سوال کرے، جانچے، اور جلدبازی سے بچے، کیونکہ آزادیٔ صحافت اداروں سے زیادہ اُن لوگوں کی سانس میں زندہ رہتی ہے جو سچ جاننا چاہتے ہیں۔
صحافت کی طاقت مشینوں میں نہیں، انسانوں میں ہے، اور سچ ہمیشہ انسان کی تلاش سے جنم لیتا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں