جنگ نیوز ڈیسک
وارانسی/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے مہاتما گاندھی کاشی ودیاپیٹھ میں ہندوستان سماچار گروپ کے زیر اہتمام ’’بھارتیہ بھاشا سمگم‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لسانی ہم آہنگی قومی یکجہتی، تیز تر سماجی و معاشی ترقی اور سماجی مساوات کی بنیاد ہے۔
انہوں نے کہا کہ زبانوں اور بولیوں کا تنوع تہذیبی ورثے کو محفوظ کرتا ہے اور عوام کو قوم سازی میں فعال کردار ادا کرنے کے قابل بناتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی 2020 مادری زبان کو ابتدائی تعلیم کا ذریعہ بنا کر کثیر لسانی معاشرے کو فروغ دیتی ہے۔
ایل جی سنہا نے ماہرینِ لسانیات، اسکالرز اور محققین سے اپیل کی کہ وہ قدیم علمی ورثے کو مادری زبانوں میں قابلِ رسائی بنائیں تاکہ نوجوان اپنی شاندار تہذیب کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مادری زبان بچوں کی تخلیقی صلاحیتوں کو نکھارتی ہے اور ایک مضبوط و وکست بھارت کی تعمیر میں معاون ہے۔
تقریب میںنیل کنٹھ تیواری (ایم ایل اے وارانسی ساوتھ)، شری اتل بھائی کوٹھاری (نیشنل سکریٹری، شکشا سنسکرتی اتھان نیاس)، شری اروند مردیکر (چیرمین، ہندوستان سماچار گروپ)، پروفیسر اجیت کمار چترویدی (وائس چانسلر، بنارس ہندو یونیورسٹی)، پروفیسر آنند کمار تیاگی (وائس چانسلر، مہاتما گاندھی کاشی ودیاپیٹھ)، ڈاکٹر پردیپ بابا مادھوگ (ڈائریکٹر، ہندوستان سماچار گروپ) اور دیگر معزز شخصیات موجود تھیں۔
موقع پر بھارتی زبانوں کے فروغ میں نمایاں خدمات پر ممتاز اسکالروں کو اعزازات سے بھی نوازا گیا۔


