جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر/جموں کشمیر میں عام آدمی پارٹی کےواحد اسمبلی رکن ڈوڈہ مہراج ملک کو پیر کے روز گرفتار کر کے سخت پبلک سیفٹی ایکٹ (پی ایس اے) کے تحت نظر بند کیا گیا، یہ جموں و کشمیر میں پہلا واقعہ ہے جب کسی موجودہ رکن اسمبلی کو اس قانون کے تحت حراست میں لیا گیا۔
ملک نے گزشتہ برس اسمبلی انتخابات میں بی جے پی امیدوار گجی سنگھ رانا کو 4538 ووٹوں سے شکست دی تھی اور ابتدا میں حکومت سازی کے دوران عمر عبداللہ کی حمایت کی تھی۔
ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ ڈوڈہ ہروِندر سنگھ کی جانب سے جاری حکم نامے کے مطابق، مہراج ملک کو پی ایس اے 1978 کے تحت اس بنیاد پر نظر بند کیا گیا کہ ان کی سرگرمیاں "عوامی نظم و نسق کے لیے نقصان دہ” قرار پائی گئیں۔ انتظامیہ کے مطابق، "ایسی سرگرمیوں کا جاری رہنا امن، نظم اور سکون کے لیے سنگین خطرہ تھا”، اس لیے حراست ضروری سمجھی گئی۔
اس گرفتاری پر مختلف سیاسی رہنماؤں نے سخت ردعمل ظاہر کیا۔
مزید کہا گیا کہ اسمبلی سیکریٹریٹ نے محض ضابطہ کار کے رول 260 کے تحت اپنی ذمہ داری نبھاتے ہوئے ارکان اسمبلی کو مہراج ملک کی گرفتاری/نظر بندی کی اطلاع دی۔
وضاحت میں یہ بھی بتایا گیا کہ رول 260 کے مطابق اسپیکر کو کسی رکن کی گرفتاری یا حراست سے متعلق اطلاع ایوان میں پڑھ کر سنانی ہوتی ہے (اگر ایوان اجلاس میں ہو) اور اجلاس نہ ہونے کی صورت میں اسے بلیٹن کے ذریعے اراکین کو آگاہ کیا جاتا ہے۔
وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کا ردعمل
مہراج ملک کو پی ایس اے کے تحت نظر بند کرنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ وہ عوامی سلامتی کے لیے خطرہ نہیں ہیں اور اس متنازعہ قانون کا استعمال کرتے ہوئے ان کی گرفتاری سراسر غلط ہے۔ اگر ایک غیر منتخب حکومت اس طرح منتخب نمائندے کے خلاف اپنے اختیارات استعمال کر سکتی ہے تو پھر کوئی کیسے توقع رکھ سکتا ہے کہ جموں و کشمیر کے عوام جمہوریت پر اعتماد قائم رکھیں گے؟
عام آدمی پارٹی کے بانی اروند کیجریوال کا بیان
پارٹی ترجمان مدثر حسن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ یہ غیر جمہوری اقدام عوامی جذبات کے خلاف ہے۔ انہوں نے انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر ایف آئی آر واپس لی جائے، مہراج ملک کو رہا کیا جائے اور عوامی مسائل اجاگر کرنے والے لیڈران کو ڈرانا دھمکانا بند کیا جائے۔


