ادب اور سستی شہرت:ایک جائزہ

فاضل شفیع بٹ

ادب کی بے لوث خدمت کرنا ایک قلم کار کا فرض عین ہے ۔ بے شمار ادیب صدیوں سے مختلف اصناف میں اپنے خون جگر کی سیاہی سے ادب کی آبیاری کرنے کا فریضہ انجام دیتے آرہے ہیں۔ پھر چاہے وہ شاعری ہو یا نثری ادب کی کوئی صنف ہو۔ دنیا بھر کی ہزاروں زبانوں میں ہزاروں لاکھوں عظیم المرتبت ادیب پیدا ہوئے اور انسانی شعور پر ایک نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ گئے۔ آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں زبانوں کے ہزارہا ادیب ادب کی مختلف اصناف میں امتیازی کام کر رہے ہیں۔ انسانی تہذیب و ارتقاء میں ادب سے وابستہ افراد ہر قوم کا سرمایہ ہیں اور انسانی شعور و اخلاقیات پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کی آمد سے ادب اور ادب اور ادبی کام کے ابلاغ کو ایک فوری اور کارآمد ذریعہ دایاب ہوا۔ اب کوئی بھی ادیب بڑی آسانی سے اپنی تخلیق سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتا ہے اور اپنے صارفین کو پلک جپکتے ہی اپنے کلام یا نثری تحریر سے روشناس کرتا ہے ۔حالانکہ دو دہائی قبل ایک قلم کار کو اپنی پہچان بنانے میں سالوں سال درکار ہوتے تھے لیکن اب تو قلم کو ہاتھ میں تھامتے ہی ایک قلم کار ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنانا شروع کرتا ہے خواہ وہ پہچان کیسی بھی ہوئے ادبی معیار کے تقاضے پوری کر رہی ہو یا محض تک بندی یا مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے بنائی گئی ہو۔

اگر صنف نازک کی بات کی جائے تو ان کو اپنی پہچان بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ان کے بے وزن کلام اور عجیب و غریب خرافات کو جب اخبارات اور رسائل میں جگہ ملتی ہے تو بڑے سے بڑے شاعر و ادیب اپنے مقدوں میں خود کو کوس رہے ہوں گے ۔خیر بات ادب کی ہو رہی تھی اور خاص طور پر نو آموز قلم کاروں کی جو اپنی شہرت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ خواہ ان کو وقت کے نامور ادیبوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تبصرے ہی کیوں نہ لکھنے ہوں اور ان تبصروں میں ان کی تعریفوں کے پل باندھنے ہی کیوں نہ ہو ۔آخر ایسے قلم کار کو شہرت چاہیے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے فن کا بڑی ہنر مندی سے استعمال کرتا ہے ۔

اب اسی شہرت کو بڑے آسان طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔۔جی ہاں صحیح سنا آپ نے۔۔۔۔

قلم کار کو سندوں اور تمغوں سے نوازنے کے لیے بہت سی ادبی انجمنوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کا کام قلم کار کی تخلیق کو سراہنا ہے اور اس کے عوض قلمکار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ان ادبی انجمنوں کے نام اس قدر سنجیدہ ہوتے ہیں کہ نام نہاد قلم کاروں کا ذہن مفلوج ہو جاتا ہے ۔ان کے پرکشش ناموں سے ادبی رنگت جھلکتی ہے ۔یہ تنظیمیں دراصل سوشل میڈیا کا باریکی سے معائنہ کرتی ہیں اور اس کے بعد نو آموز قلم کاروں تک رسائی حاصل کرتی ہیں ۔

اور پھر ایک نئے کھیل کا آغاز ہوتا ہے ۔ایک ایسا ادبی کھیل جس کو سمجھنے سے قلم کار قاصر رہتا ہے۔قلم کار سے باضابطہ طور رابطہ کیا جاتا ہے ۔اس کے ادبی کارناموں کی خوب پذیرائی کی جاتی ہے جس سے قلم کار کا دل بھاگ بھاگ ہو جاتا ہے ۔وہ اپنے اوپر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔

اس کے بعد قلم کار سے ادباً گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی غزل یا افسانہ وغیرہ انجمن کو ارسال کرے جس کو قومی یا بین الاقوامی سطح پر شائع کیا جائے گا ۔انجمن یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مواد ارسال کرنے کے بعد اس کو ادبی میزان میں تولا جائے گا اور اس کے بعد ہی آگے کی کاروائی سے قلم کار کو مطلع کیا جائے گا ۔قلم کار سے مواد کے ساتھ ساتھ کچھ رقم بطور پیشگی وصول بھی کی جاتی ہے ۔۔

پھر کیا ۔۔۔۔بس چند دنوں کا انتظار۔۔۔ جس انتظار میں نقلی قلم کار کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔وہ دن رات اسی سوچ میں غوطہ زن رہتا ہے کہ انجمن کب اپنے فیصلے سے اسے آگاہ کرے گی ۔انجمن بھی نقلی قلم کار کی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے اور بے ہودہ شاعر کو کچھ اس طرح سے مطلع کیا جاتا ہے :”مبارک ہو ۔۔۔آپ کی غزل واقعی قابل تعریف ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ فیض احمد فیض کی طرح ہیں ۔۔انجمن نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ آپ کی غزل کو انعامی مقابلے میں شامل کیا جائے گا جس کے لیے آپ کو پانچ ہزار کی رقم انجمن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنی ہوگی ”

نثری ادب سے وابستہ قلم کار کو یوں مطلع کیا جاتا ہے:”بہت بہت مبارک ہو ۔۔آپ کا افسانہ ادبی دنیا کا ایک شاہکار معلوم ہو رہا ہے ۔عنوان، پلاٹ ،مکالمہ، کردار نگاری دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سعادت حسن منٹو کی روح نے چند پل کے لیے آپ کے جسم میں سرایت کی ہے ۔انجمن کو فخر ہو رہا ہے کہ اس افسانے کو عالمی سطحی مقابلے کے لیے چنا گیا ہےاور اپ جلد از جلد سات ہزار کی رقم انجمن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں

یہ اطلاع ملتے ہی نقلی قلم کار اپنے آپ کو آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔شہرت اور انعام حاصل کرنے کے لیے وہ یہ رقم فوراً انجمن کو ارسال کرتا ہے اور پھر تھوڑا سا اور انتظار ۔۔۔۔

انجمن ایسے ہزاروں قلم کاروں کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ادب کے نام پر لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں ۔دراصل انجمن میں کام کرنے والے لوگ ادب کے فن سے نابالد رہتے ہیں۔ان کو ادبی معیار سے کوئی دلچسپی نہیں ۔۔۔ ان کو قلم کار کے تخیل سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔وہ تو محض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے چکر میں ہوتے ہیں اور وہ قلم کار کو شہرت کی بنا پر بے وقوف بنانے کا خوب ہنر رکھتے ہیں حالانکہ نہ تو قلم کار کا کلام ہی کہیں پر شائع ہوتا ہے اور نہ ہی حقیقت میں کوئی انعامی مقابلہ ہوتا ہے ۔۔

پھر ایک دن قلم کار کو ای میل کے ذریعے خوشخبری دی جاتی ہے کہ اس نے فلاں انعامی مقابلے میں امتیازی پوزیشن حاصل کی ہے اور ایک سرٹیفیکیٹ جو کہ محض ایک ردی کاغذ کے سوا کچھ نہیں ہوتا،انکے ایڈریس پر روانہ کیا جاتا ہے ،جس میں سنہرے الفاظ سے کندہ ہوتا ہے :”سال کا بہترین شاعر یا افسانہ نگار ”

سرٹیفیکیٹ ارسال ہوتے ہی انجمن کا کام اپنے تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔

ہاتھ میں کامیابی کا سند لیتے ہی قلم کار کا تخیل ہر سمت تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس کے بعد خود ساختہ صحافی باقی کسر پوری کرتے ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں کو سال کے بہترین شاعر کے اعزاز سے نوازا گیا حالانکہ شاعر صاحب خود شاعری کی الف بے سے بھی نا آشنا ہوتا ہے۔ایسے بے وقوف خود ساختہ شعراء کا انٹرویو لیا جاتا ہے جو پورے انٹرویو میں افسانے کی صنف پر چرچا کرتے ہیں اور اپنا ایک شعر سنانے سے قاصر رہتے ہیں لیکن خود ساختہ صحافی کی طرف سے واہ واہ کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے اور ساتھ میں اپنے صارفین سے پرخلوص انداز میں اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرنے کی تلقین بھی دیکھنے کو ملتی ہے اور ایک عام آدمی بھی اپنا فرض سمجھ کر ویڈیو کو آگ کی طرح پھیلانے میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے ۔

بس۔۔۔ اب کیا ۔۔۔۔ہر سمت نو آموز نقلی اور خود ساختہ قلم کار کے چرچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
کیا واقعی ایک قلم کار سستی شہرت کے لیے اس قدر اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ سکتا ہے ؟
کیا مصنوعی ذہانت کا ارتقا ادبی دنیا کے سچے پن کا اختتام تصور کیا جائے گا ؟

کیا خود ساختہ صحافی بھی اپنے بیش بہا پیشے کی ذمہ داریوں کو بالائےطاق رکھ کر وقت کے دلال بن گئے ہیں ؟

یہ چند سوالات ہیں جو میں اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔میں کسی بھی قلم کار کی ادبی صلاحیتوں کے خلاف نہیں ہوں ۔مجھے فخر ہوتا ہے جب کوئی نو آموز قلم کار اپنے پاؤں پر چل کر ادب کی دنیا میں قدم رکھتا ہے نہ کہ مصنوعی ذہانت کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹ اور فریب سے اپنی پہچان بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ان کو یہ بات ذہن نشین کرا لوں کہ کاغذ کے پنوں پر اپنے تخیل کی سیاہی کی چھاپ چھوڑنا اور مصنوعی ذہانت کے بدولت چند مضحکہ خیز الفاظ لکھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہےاور یہ فرق کسی بھی تحریر پر نظر ڈالتے ہی صاف صاف عیاں ہو جاتی ہے لیکن زیادہ تر ادب شناس لوگ خاموشی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔یاد رکھیں یہ محض چند دنوں کی خوشی ہے اور ایسے قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ادبی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کر سکیں اور سستی شہرت اور مصنوعی ذہانت کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ دیں ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

تازہ ترین خبریں

جموں کشمیر میں شادی کی تقریب کے دوران مکان گرنے سے 20 زخمی

سری نگر: جموں و کشمیر کے ضلع ریاسی کی تحصیل...

بفلیاز پونچھ میں آگ لگنے سے 13 دکانیں جل کر خاکستر

پونچھ 7 جون: پونچھ ضلع کی تحصیل سورنکوٹ کے...

گھریلو ایل پی جی کی قیمت میں 29 روپے فی 14.2 کلوگرام سلنڈر کا اضافہ

نئی دہلی 7 جون: گھریلو کھانا پکانے والی گیس ایل...

شاعری

شیخ افلاق حسین سیمانی وہ بات اب تجھ میں باقی...

ادب اور سستی شہرت:ایک جائزہ

فاضل شفیع بٹ

ادب کی بے لوث خدمت کرنا ایک قلم کار کا فرض عین ہے ۔ بے شمار ادیب صدیوں سے مختلف اصناف میں اپنے خون جگر کی سیاہی سے ادب کی آبیاری کرنے کا فریضہ انجام دیتے آرہے ہیں۔ پھر چاہے وہ شاعری ہو یا نثری ادب کی کوئی صنف ہو۔ دنیا بھر کی ہزاروں زبانوں میں ہزاروں لاکھوں عظیم المرتبت ادیب پیدا ہوئے اور انسانی شعور پر ایک نہ مٹنے والے نقوش چھوڑ گئے۔ آج بھی دنیا بھر میں ہزاروں زبانوں کے ہزارہا ادیب ادب کی مختلف اصناف میں امتیازی کام کر رہے ہیں۔ انسانی تہذیب و ارتقاء میں ادب سے وابستہ افراد ہر قوم کا سرمایہ ہیں اور انسانی شعور و اخلاقیات پر اثر انداز ہوئے ہیں۔

سوشل میڈیا کی آمد سے ادب اور ادب اور ادبی کام کے ابلاغ کو ایک فوری اور کارآمد ذریعہ دایاب ہوا۔ اب کوئی بھی ادیب بڑی آسانی سے اپنی تخلیق سوشل میڈیا پر اپلوڈ کرتا ہے اور اپنے صارفین کو پلک جپکتے ہی اپنے کلام یا نثری تحریر سے روشناس کرتا ہے ۔حالانکہ دو دہائی قبل ایک قلم کار کو اپنی پہچان بنانے میں سالوں سال درکار ہوتے تھے لیکن اب تو قلم کو ہاتھ میں تھامتے ہی ایک قلم کار ادبی دنیا میں اپنی پہچان بنانا شروع کرتا ہے خواہ وہ پہچان کیسی بھی ہوئے ادبی معیار کے تقاضے پوری کر رہی ہو یا محض تک بندی یا مصنوعی ذہانت کا استعمال کر کے بنائی گئی ہو۔

اگر صنف نازک کی بات کی جائے تو ان کو اپنی پہچان بنانے میں زیادہ دیر نہیں لگتی ۔ان کے بے وزن کلام اور عجیب و غریب خرافات کو جب اخبارات اور رسائل میں جگہ ملتی ہے تو بڑے سے بڑے شاعر و ادیب اپنے مقدوں میں خود کو کوس رہے ہوں گے ۔خیر بات ادب کی ہو رہی تھی اور خاص طور پر نو آموز قلم کاروں کی جو اپنی شہرت کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتے ہیں۔ خواہ ان کو وقت کے نامور ادیبوں کے لیے مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ تبصرے ہی کیوں نہ لکھنے ہوں اور ان تبصروں میں ان کی تعریفوں کے پل باندھنے ہی کیوں نہ ہو ۔آخر ایسے قلم کار کو شہرت چاہیے اور شہرت حاصل کرنے کے لیے وہ اپنے فن کا بڑی ہنر مندی سے استعمال کرتا ہے ۔

اب اسی شہرت کو بڑے آسان طریقوں سے حاصل کیا جا سکتا ہے ۔۔جی ہاں صحیح سنا آپ نے۔۔۔۔

قلم کار کو سندوں اور تمغوں سے نوازنے کے لیے بہت سی ادبی انجمنوں کا قیام عمل میں لایا گیا ہے جن کا کام قلم کار کی تخلیق کو سراہنا ہے اور اس کے عوض قلمکار کی حوصلہ افزائی کرنا ہے ۔ان ادبی انجمنوں کے نام اس قدر سنجیدہ ہوتے ہیں کہ نام نہاد قلم کاروں کا ذہن مفلوج ہو جاتا ہے ۔ان کے پرکشش ناموں سے ادبی رنگت جھلکتی ہے ۔یہ تنظیمیں دراصل سوشل میڈیا کا باریکی سے معائنہ کرتی ہیں اور اس کے بعد نو آموز قلم کاروں تک رسائی حاصل کرتی ہیں ۔

اور پھر ایک نئے کھیل کا آغاز ہوتا ہے ۔ایک ایسا ادبی کھیل جس کو سمجھنے سے قلم کار قاصر رہتا ہے۔قلم کار سے باضابطہ طور رابطہ کیا جاتا ہے ۔اس کے ادبی کارناموں کی خوب پذیرائی کی جاتی ہے جس سے قلم کار کا دل بھاگ بھاگ ہو جاتا ہے ۔وہ اپنے اوپر فخر محسوس کرنے لگتا ہے۔

اس کے بعد قلم کار سے ادباً گزارش کی جاتی ہے کہ وہ اپنی غزل یا افسانہ وغیرہ انجمن کو ارسال کرے جس کو قومی یا بین الاقوامی سطح پر شائع کیا جائے گا ۔انجمن یہ بھی واضح کرتی ہے کہ مواد ارسال کرنے کے بعد اس کو ادبی میزان میں تولا جائے گا اور اس کے بعد ہی آگے کی کاروائی سے قلم کار کو مطلع کیا جائے گا ۔قلم کار سے مواد کے ساتھ ساتھ کچھ رقم بطور پیشگی وصول بھی کی جاتی ہے ۔۔

پھر کیا ۔۔۔۔بس چند دنوں کا انتظار۔۔۔ جس انتظار میں نقلی قلم کار کی نیندیں اڑ جاتی ہیں ۔وہ دن رات اسی سوچ میں غوطہ زن رہتا ہے کہ انجمن کب اپنے فیصلے سے اسے آگاہ کرے گی ۔انجمن بھی نقلی قلم کار کی کاوشوں کا اعتراف کرتی ہے اور بے ہودہ شاعر کو کچھ اس طرح سے مطلع کیا جاتا ہے :”مبارک ہو ۔۔۔آپ کی غزل واقعی قابل تعریف ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ آپ فیض احمد فیض کی طرح ہیں ۔۔انجمن نے یہ فیصلہ لیا ہے کہ آپ کی غزل کو انعامی مقابلے میں شامل کیا جائے گا جس کے لیے آپ کو پانچ ہزار کی رقم انجمن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کرنی ہوگی ”

نثری ادب سے وابستہ قلم کار کو یوں مطلع کیا جاتا ہے:”بہت بہت مبارک ہو ۔۔آپ کا افسانہ ادبی دنیا کا ایک شاہکار معلوم ہو رہا ہے ۔عنوان، پلاٹ ،مکالمہ، کردار نگاری دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ سعادت حسن منٹو کی روح نے چند پل کے لیے آپ کے جسم میں سرایت کی ہے ۔انجمن کو فخر ہو رہا ہے کہ اس افسانے کو عالمی سطحی مقابلے کے لیے چنا گیا ہےاور اپ جلد از جلد سات ہزار کی رقم انجمن کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کریں

یہ اطلاع ملتے ہی نقلی قلم کار اپنے آپ کو آسمان کی بلندیوں میں پرواز کرتا ہوا محسوس کرتا ہے ۔شہرت اور انعام حاصل کرنے کے لیے وہ یہ رقم فوراً انجمن کو ارسال کرتا ہے اور پھر تھوڑا سا اور انتظار ۔۔۔۔

انجمن ایسے ہزاروں قلم کاروں کو اپنے جال میں پھنسانے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ادب کے نام پر لاکھوں روپے جمع ہوتے ہیں ۔دراصل انجمن میں کام کرنے والے لوگ ادب کے فن سے نابالد رہتے ہیں۔ان کو ادبی معیار سے کوئی دلچسپی نہیں ۔۔۔ ان کو قلم کار کے تخیل سے کوئی لینا دینا نہیں ۔۔وہ تو محض زیادہ سے زیادہ پیسے کمانے کے چکر میں ہوتے ہیں اور وہ قلم کار کو شہرت کی بنا پر بے وقوف بنانے کا خوب ہنر رکھتے ہیں حالانکہ نہ تو قلم کار کا کلام ہی کہیں پر شائع ہوتا ہے اور نہ ہی حقیقت میں کوئی انعامی مقابلہ ہوتا ہے ۔۔

پھر ایک دن قلم کار کو ای میل کے ذریعے خوشخبری دی جاتی ہے کہ اس نے فلاں انعامی مقابلے میں امتیازی پوزیشن حاصل کی ہے اور ایک سرٹیفیکیٹ جو کہ محض ایک ردی کاغذ کے سوا کچھ نہیں ہوتا،انکے ایڈریس پر روانہ کیا جاتا ہے ،جس میں سنہرے الفاظ سے کندہ ہوتا ہے :”سال کا بہترین شاعر یا افسانہ نگار ”

سرٹیفیکیٹ ارسال ہوتے ہی انجمن کا کام اپنے تکمیل کو پہنچ جاتا ہے۔

ہاتھ میں کامیابی کا سند لیتے ہی قلم کار کا تخیل ہر سمت تحلیل ہونا شروع ہو جاتا ہے۔اس کے بعد خود ساختہ صحافی باقی کسر پوری کرتے ہیں۔وہ سوشل میڈیا پر ہاہا کار مچانا شروع کر دیتے ہیں کہ فلاں کو سال کے بہترین شاعر کے اعزاز سے نوازا گیا حالانکہ شاعر صاحب خود شاعری کی الف بے سے بھی نا آشنا ہوتا ہے۔ایسے بے وقوف خود ساختہ شعراء کا انٹرویو لیا جاتا ہے جو پورے انٹرویو میں افسانے کی صنف پر چرچا کرتے ہیں اور اپنا ایک شعر سنانے سے قاصر رہتے ہیں لیکن خود ساختہ صحافی کی طرف سے واہ واہ کی بھرمار دیکھنے کو ملتی ہے اور ساتھ میں اپنے صارفین سے پرخلوص انداز میں اس ویڈیو کو زیادہ سے زیادہ شیئر کرنے کی تلقین بھی دیکھنے کو ملتی ہے اور ایک عام آدمی بھی اپنا فرض سمجھ کر ویڈیو کو آگ کی طرح پھیلانے میں بھرپور مدد فراہم کرتا ہے ۔

بس۔۔۔ اب کیا ۔۔۔۔ہر سمت نو آموز نقلی اور خود ساختہ قلم کار کے چرچے ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔
کیا واقعی ایک قلم کار سستی شہرت کے لیے اس قدر اپنے ضمیر کا گلا گھونٹ سکتا ہے ؟
کیا مصنوعی ذہانت کا ارتقا ادبی دنیا کے سچے پن کا اختتام تصور کیا جائے گا ؟

کیا خود ساختہ صحافی بھی اپنے بیش بہا پیشے کی ذمہ داریوں کو بالائےطاق رکھ کر وقت کے دلال بن گئے ہیں ؟

یہ چند سوالات ہیں جو میں اپنے قارئین کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں ۔میں کسی بھی قلم کار کی ادبی صلاحیتوں کے خلاف نہیں ہوں ۔مجھے فخر ہوتا ہے جب کوئی نو آموز قلم کار اپنے پاؤں پر چل کر ادب کی دنیا میں قدم رکھتا ہے نہ کہ مصنوعی ذہانت کا لبادہ اوڑھ کر جھوٹ اور فریب سے اپنی پہچان بنانے کی کوشش کرتا ہے ۔ان کو یہ بات ذہن نشین کرا لوں کہ کاغذ کے پنوں پر اپنے تخیل کی سیاہی کی چھاپ چھوڑنا اور مصنوعی ذہانت کے بدولت چند مضحکہ خیز الفاظ لکھنے میں زمین و آسمان کا فرق ہےاور یہ فرق کسی بھی تحریر پر نظر ڈالتے ہی صاف صاف عیاں ہو جاتی ہے لیکن زیادہ تر ادب شناس لوگ خاموشی کو ہی ترجیح دیتے ہیں ۔یاد رکھیں یہ محض چند دنوں کی خوشی ہے اور ایسے قلم کار حضرات سے گزارش ہے کہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں اور اپنے آپ کو اس قابل بنائیں کہ ادبی دنیا میں اپنی ایک الگ پہچان بنانے میں کامیابی حاصل کر سکیں اور سستی شہرت اور مصنوعی ذہانت کو ہمیشہ کے لیے خیر آباد کہہ دیں ۔
ززز

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں