ترال میں عقیدت، روایات اور بین المذاہب ہم آہنگی کا حسین امتزاج

جنگ نیوز ڈیسک

ترال/جنوبی کشمیر کے گاؤں نوڈل میں ملک کے مختلف حصوں سے سیکڑوں کشمیری پنڈت جمع ہوئے، جہاں انہوں نے روایتی مذہبی جوش و خروش اور بین المذاہب یکجہتی کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے سالانہ نوڈل تیرتھ یاترا میں شرکت کی۔ یہ روحانی اجتماع ہر سال امرناتھ یاترا کے اختتام پر منعقد ہوتا ہے اور اس میں جلاوطن اور غیر جلاوطن دونوں طرح کے کشمیری پنڈت شریک ہوتے ہیں۔

یاترا میں شریک عقیدت مند بھجن، پوجا، ترپن اور ہون جیسے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ ترپن کے دوران تبرک و عقیدت کے طور پر چھڑیاں، جوتے اور کپڑے نذر کیے جاتے ہیں—یہ ایک قدیم روایت ہے جس کا سلسلہ صدیوں پرانا مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں تمام شرکا کے لیے بلا تفریق طعام کی فراہمی کی گئی۔
اس اجتماع کا سب سے روح پرور پہلو مقامی مسلم برادری کی والہانہ شمولیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف عقیدت مندوں کے ساتھ یاترا میں شرکت کی بلکہ اس کے انتظامات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مقامی انتظامیہ اور مسلم برادری نے زائرین کے لیے پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
شرکا نے اس تہوار کی مذہبی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ مقام قدیم ہندو متون اور کشمیری مخطوطات میں پاتالی گنگا کے نام سے مذکور ہے—وہ مقدس جگہ جہاں امرناتھ کے یاتری اپنی مسافت کے اختتام پر اپنے سامان کو نذرِ آب کرتے تھے۔
یہ تقریب ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ وادیٔ کشمیر کی روح میں صدیوں پرانی تہذیبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی وہ روشن روایت آج بھی زندہ ہے، جو مختلف مذاہب اور طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

تازہ ترین خبریں

میرواعظ سمیت دیگر مذہبی رہنماؤں کی ایرانی صدر سے ملاقات

جنگ نیوز نئی دہلی: ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے مذہبی...

فلم فیسٹول IFFJKکی کامیابی میں DIPR کی ٹیم ورک نمایاں

جنگ نیوز سری نگر/جموں و کشمیر میں پہلی مرتبہ منعقد...

لشکر کی تین نکاتی حکمت عملی:جموںکشمیر میں انسدادِ دہشت گردی کارروائیاں تیز

    جنگ نیوز نئی دہلی/سکیورٹی اداروں نے جموں و کشمیر میں...

وزیراعظم مودی نےBRICS بزنس فورم سے خطاب کے دوران تجارتی رکاوٹیں دور کرنے کی تجویزپیش کی

  جنگ نیوز ڈیسک نئی دہلی/وزیراعظم نریندر مودی نے کہا ہے...

جموں کشمیر بینک ڈیجیٹل تبدیلی پربہترین بینک ایوارڈسے سرفراز

  جنگ نیوز سرینگر/جے اینڈ کے بینک نے ممبئی میں منعقدہ...

ترال میں عقیدت، روایات اور بین المذاہب ہم آہنگی کا حسین امتزاج

جنگ نیوز ڈیسک

ترال/جنوبی کشمیر کے گاؤں نوڈل میں ملک کے مختلف حصوں سے سیکڑوں کشمیری پنڈت جمع ہوئے، جہاں انہوں نے روایتی مذہبی جوش و خروش اور بین المذاہب یکجہتی کی شاندار مثال پیش کرتے ہوئے سالانہ نوڈل تیرتھ یاترا میں شرکت کی۔ یہ روحانی اجتماع ہر سال امرناتھ یاترا کے اختتام پر منعقد ہوتا ہے اور اس میں جلاوطن اور غیر جلاوطن دونوں طرح کے کشمیری پنڈت شریک ہوتے ہیں۔

یاترا میں شریک عقیدت مند بھجن، پوجا، ترپن اور ہون جیسے مذہبی رسومات ادا کرتے ہیں۔ ترپن کے دوران تبرک و عقیدت کے طور پر چھڑیاں، جوتے اور کپڑے نذر کیے جاتے ہیں—یہ ایک قدیم روایت ہے جس کا سلسلہ صدیوں پرانا مانا جاتا ہے۔ اس موقع پر لنگر کا اہتمام بھی کیا گیا، جہاں تمام شرکا کے لیے بلا تفریق طعام کی فراہمی کی گئی۔
اس اجتماع کا سب سے روح پرور پہلو مقامی مسلم برادری کی والہانہ شمولیت تھی۔ انہوں نے نہ صرف عقیدت مندوں کے ساتھ یاترا میں شرکت کی بلکہ اس کے انتظامات میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ مقامی انتظامیہ اور مسلم برادری نے زائرین کے لیے پینے کے پانی اور دیگر بنیادی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا۔
شرکا نے اس تہوار کی مذہبی اور تاریخی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ یہ مقام قدیم ہندو متون اور کشمیری مخطوطات میں پاتالی گنگا کے نام سے مذکور ہے—وہ مقدس جگہ جہاں امرناتھ کے یاتری اپنی مسافت کے اختتام پر اپنے سامان کو نذرِ آب کرتے تھے۔
یہ تقریب ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ وادیٔ کشمیر کی روح میں صدیوں پرانی تہذیبی ہم آہنگی اور باہمی احترام کی وہ روشن روایت آج بھی زندہ ہے، جو مختلف مذاہب اور طبقات کو ایک دوسرے کے قریب لاتی ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں