جنگ نیوز ڈیسک
جھنجھنو (راجستھان)، 11 اگست 2025 کو مرکزی وزیر زراعت شری شیو راج سنگھ چوہان اور وزیر اعلیٰ راجستھان شری بھجن لال شرما نے جھنجھنو سے پردھان منتری فصل بیمہ یوجنا کے تحت پہلی قسط کے دعوے کی رقم ڈی بی ٹی نظام کے ذریعے ملک بھر کے 35 لاکھ سے زائد کسانوں کے بینک کھاتوں میں منتقل کی۔ کل 3900 کروڑ روپے میں سے صرف راجستھان کو 1426 کروڑ روپے ملے، جس سے70.9لاکھ کسان مستفید ہوئے۔
تقریب میں جھنجھنو، سیکر، جے پور اور کوٹ پوتلی-بہرور کے تقریباً 35 ہزار کسان شریک ہوئے، جبکہ 23 ریاستوں کے لاکھوں کسان ورچوئل طور پر جڑے۔
وزیر زراعت نے خطاب میں کہا کہ "کسانوں کی خدمت میرا مشن اور بھارتی زراعت کو نمبر ون بنانا میرا عزم ہے۔” انہوں نے بتایا کہ فصل بیمہ یوجنا کے تحت اگر گاؤں کا ایک بھی کسان نقصان میں ہو تو اسے مدد ملے گی۔ کسانوں کو کم از کم امدادی قیمت (MSP) پر 50 فیصد منافع دیا جائے گا اور سبزیوں کی نقل و حمل کا خرچ حکومت برداشت کرے گی۔ انہوں نے دیسی پیداوار اپنانے پر زور دیا تاکہ روزگار اور ملکی دولت میں اضافہ ہو۔
وزیر اعلیٰ بھجن لال شرما نے کہا کہ "خود کفیل کسان ہی خود کفیل بھارت کی بنیاد ہیں۔” انہوں نے اعلان کیا کہ کسانوں کو ایماندار قیمت، بونس اور کسان سمان ندھی کی رقم جلد 12 ہزار روپے سالانہ کر دی جائے گی۔
مرکزی وزیر مملکت بھاگیرت چودھری نے بتایا کہ اب بلاک اور گاؤں سطح پر فصل نقصان کی پیمائش ہوگی تاکہ کوئی کسان محروم نہ رہے۔
فصل بیمہ یوجنا 2016 میں شروع ہوئی تھی اور اب تک 78 کروڑ سے زائد درخواستیں مستفید ہو چکی ہیں، جن میں کسانوں کے 35864 کروڑ روپے پریمیم کے بدلے83.1لاکھ کروڑ روپے کلیمز کی ادائیگی ہو چکی ہے۔ نئی ڈی بی ٹی پالیسی کے تحت ادائیگیاں فصل کٹائی کے فوراً بعد قسطوں میں ہوں گی، تاخیر پر ریاستوں اور انشورنس کمپنیوں کو 12 فیصد جرمانہ یا سود دینا ہوگا۔
ٹیکنالوجی پر مبنی نظام جیسے YES-TECH، WINDS پورٹل، AIDE موبائل ایپ، کرشی رکشک پورٹل اور ہیلپ لائن 14447 سے شفافیت اور رفتار میں اضافہ ہوا ہے۔
پروگرام کا اختتام اس پیغام پر ہوا کہ فصل بیمہ یوجنا کسانوں کے لیے مضبوط ڈھال ہے اور مرکز و ریاست مل کر اسے مزید مؤثر بنائیں گے۔


