"آپریشن سندور” نے دہشت گردی اور بیرونی سرپرستی کے ناپاک رشتے کو بے نقاب کر دیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی: "آپریشن سندور” نے جہاں دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا، وہیں اس نے دنیا کے سامنے دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والے عناصر کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ یہ کارروائی نہ صرف عسکری لحاظ سے غیر معمولی کامیابی تھی بلکہ اس نے دشمن کے عزائم کو کچلنے میں ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تو دشمن فوج کی جانب سے براہ راست ردعمل آیا، جس سے ثابت ہوا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کسی غیر ریاستی عنصر کی نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی قوت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک کے فوجی افسران نے دہشت گردوں کے جنازوں میں شرکت کر کے اپنی وابستگی کا ثبوت دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی نے نہ صرف دشمن کے پروپیگنڈے کو جھوٹا ثابت کیا بلکہ دنیا کو واضح پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی فضائی دفاعی نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے حملے ہمارے دفاعی نظام کو متاثر نہ کر سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ برسوں سے ملک دشمن عناصر کی طرف سے جو دہشت گردانہ کارروائیاں کی جا رہی تھیں، ان کا ہمیشہ محدود ردعمل دیا گیا، لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائک اور فضائی حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے ڈھانچے کو نیست و نابود کر دیا۔
پہلگام میں پیش آئے سفاک حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم سیاحوں کو ان کے مذہب پوچھ کر قتل کرنا انتہائی سفاکیت تھی، جس کا منہ توڑ جواب "آپریشن سندور” کے ذریعے دیا گیا۔ اس کارروائی میں نہ صرف نو دہشت گرد ٹھکانے تباہ کیے گئے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے دو اہم ہیڈکوارٹرز کو بھی ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی صرف دہشت گردوں کے خلاف تھی، اور بھارتی افواج نے دانستہ طور پر دشمن کے شہری علاقوں یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا۔ لیکن جب دشمن افواج نے ہمارے فوجی و شہری اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہماری افواج نے فیصلہ کن جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس سے ان کی فضائی دفاعی صلاحیت کی قلعی کھل گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ "آپریشن سندور” بھارت کی دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی شاندار مثال ہے اور یہ کامیابی ہمارے ملک کی سیاسی قیادت کی مضبوط قوتِ ارادی، انٹیلیجنس ایجنسیوں کی درست معلومات اور ہماری افواج کی مہارت کا امتزاج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے دو جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں، جن کے نام قومی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔
بی ایس ایف کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ داخلی سلامتی، آفات سے نمٹنے، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات جیسے اہم محاذوں پر بھی مثالی کارکردگی دکھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے ہمیشہ اس فورس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، جس کا ثبوت اعلیٰ ترین اعزازات کی طویل فہرست ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حب الوطنی، قربانی اور قومی سلامتی کے لیے بی ایس ایف کی خدمات نہ صرف ملک کے دفاع کی پہلی صف کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ یہ ادارہ دنیا کی بہترین سرحدی فورس کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

"آپریشن سندور” نے دہشت گردی اور بیرونی سرپرستی کے ناپاک رشتے کو بے نقاب کر دیا

جنگ نیوز ڈیسک

نئی دہلی: "آپریشن سندور” نے جہاں دشمن قوتوں کے ناپاک عزائم کو ناکام بنایا، وہیں اس نے دنیا کے سامنے دہشت گردی اور اس کی سرپرستی کرنے والے عناصر کا اصل چہرہ بے نقاب کر دیا۔ یہ کارروائی نہ صرف عسکری لحاظ سے غیر معمولی کامیابی تھی بلکہ اس نے دشمن کے عزائم کو کچلنے میں ایک تاریخ ساز کردار ادا کیا۔
ایک خصوصی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی وزیر داخلہ نے کہا کہ جب دہشت گردوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا گیا تو دشمن فوج کی جانب سے براہ راست ردعمل آیا، جس سے ثابت ہوا کہ دہشت گردوں کی سرپرستی کسی غیر ریاستی عنصر کی نہیں بلکہ ایک منظم ریاستی قوت کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ملک کے فوجی افسران نے دہشت گردوں کے جنازوں میں شرکت کر کے اپنی وابستگی کا ثبوت دیا۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس کارروائی نے نہ صرف دشمن کے پروپیگنڈے کو جھوٹا ثابت کیا بلکہ دنیا کو واضح پیغام دیا کہ بھارت دہشت گردی کے خلاف کسی بھی حد تک جا سکتا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے بھارتی فضائی دفاعی نظام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کے حملے ہمارے دفاعی نظام کو متاثر نہ کر سکے۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ برسوں سے ملک دشمن عناصر کی طرف سے جو دہشت گردانہ کارروائیاں کی جا رہی تھیں، ان کا ہمیشہ محدود ردعمل دیا گیا، لیکن اب وقت بدل چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ چند برسوں میں بھارتی فوج نے سرجیکل اسٹرائک اور فضائی حملوں کے ذریعے دہشت گردی کے ڈھانچے کو نیست و نابود کر دیا۔
پہلگام میں پیش آئے سفاک حملے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ معصوم سیاحوں کو ان کے مذہب پوچھ کر قتل کرنا انتہائی سفاکیت تھی، جس کا منہ توڑ جواب "آپریشن سندور” کے ذریعے دیا گیا۔ اس کارروائی میں نہ صرف نو دہشت گرد ٹھکانے تباہ کیے گئے بلکہ دہشت گرد تنظیموں کے دو اہم ہیڈکوارٹرز کو بھی ختم کر دیا گیا۔
انہوں نے زور دیا کہ یہ کارروائی صرف دہشت گردوں کے خلاف تھی، اور بھارتی افواج نے دانستہ طور پر دشمن کے شہری علاقوں یا فوجی تنصیبات پر حملہ نہیں کیا۔ لیکن جب دشمن افواج نے ہمارے فوجی و شہری اداروں کو نشانہ بنانے کی کوشش کی تو ہماری افواج نے فیصلہ کن جوابی کارروائی کرتے ہوئے دشمن کے ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا، جس سے ان کی فضائی دفاعی صلاحیت کی قلعی کھل گئی۔
وزیر داخلہ نے کہا کہ "آپریشن سندور” بھارت کی دفاعی پیداوار میں خود کفالت کی شاندار مثال ہے اور یہ کامیابی ہمارے ملک کی سیاسی قیادت کی مضبوط قوتِ ارادی، انٹیلیجنس ایجنسیوں کی درست معلومات اور ہماری افواج کی مہارت کا امتزاج ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس کارروائی کے دوران سرحدی حفاظتی فورس (بی ایس ایف) کے دو جوانوں نے مادر وطن کے دفاع میں اپنی جانیں قربان کیں، جن کے نام قومی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھے جائیں گے۔
بی ایس ایف کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ کئی دہائیوں سے نہ صرف سرحدوں کا محافظ ہے بلکہ داخلی سلامتی، آفات سے نمٹنے، انسداد دہشت گردی اور انسداد منشیات جیسے اہم محاذوں پر بھی مثالی کارکردگی دکھا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک نے ہمیشہ اس فورس کی قربانیوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھا ہے، جس کا ثبوت اعلیٰ ترین اعزازات کی طویل فہرست ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ حب الوطنی، قربانی اور قومی سلامتی کے لیے بی ایس ایف کی خدمات نہ صرف ملک کے دفاع کی پہلی صف کی حیثیت رکھتی ہیں بلکہ یہ ادارہ دنیا کی بہترین سرحدی فورس کے طور پر اپنی پہچان بنا چکا ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں