جنگ نیوز ڈیسک
سرینگر، 21 مئی: نیشنل کانفرنس کی مرکزی ورکنگ کمیٹی نے بدھ کو سات اہم قراردادیں منظور کرتے ہوئے جموں و کشمیر کو فوری طور پر مکمل ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کیا۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے نوائے صبح میں کی۔
اجلاس میں بیساران حملے کی شدید مذمت کرتے ہوئے 22 اپریل کو ہلاک ہونے والے 26 افراد، بشمول کشمیری نوجوان سید عادل حسین شاہ کو خراج عقیدت پیش کیا گیا۔ سرحدی گولہ باری سے متاثرہ علاقوں اور متاثرین کو معاوضہ فراہم کرنے پر بھی تفصیلی بات چیت ہوئی۔
اجلاس میں ریاست کی خصوصی حیثیت کی بحالی، امن و مذاکرات کی حمایت، آئینی حقوق کی جمہوری جدوجہد، اور دیگر اہم امور پر قراردادیں منظور کی گئیں۔ اراکین نے دوہری اختیاراتی نظام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ عوام کے مفاد میں نہیں۔
پارٹی نے مرکز سے اپیل کی کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کے جذبات کا احترام کرے اور ان کی امن پسند کوششوں کو نظر انداز نہ کرے۔
قراردادوں میں شامل نکات
| # | عنوان | تفصیل |
|---|---|---|
| 1 | تشدد کی مذمت اور شہداء کو خراجِ عقیدت | بیساران حملے اور سرحدی گولہ باری کی مذمت، متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی کا اظہار۔ |
| 2 | خصوصی حیثیت کی بحالی کے لیے عزم کی تجدید | جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کی فوری بحالی پر زور دیا گیا۔ |
| 3 | ریاستی درجے کی فوری بحالی کا مطالبہ | حکومت ہند سے وعدے کے مطابق ریاستی درجہ فوراً بحال کرنے کی اپیل۔ |
| 4 | امن اور مذاکرات کی حمایت | جنگ بندی کے اعلان کا خیرمقدم اور بھارت-پاکستان سے پائیدار امن کے لیے اقدامات کی اپیل۔ |
| 5 | منشور پر عملدرآمد کا عہد | پارٹی منشور کی تکمیل اور جمہوری جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اظہار۔ |
| 6 | عوامی حمایت کی ستائش | بیساران حملے کی مذمت کرنے والی اجتماعی عوامی حمایت کو سراہا گیا۔ |
| 7 | ملک بھر میں کشمیریوں کی ہراسانی کی مذمت | کشمیری طلباء، تاجروں اور رہائشیوں کو نشانہ بنائے جانے کی مذمت اور ان کی حفاظت کا مطالبہ۔ |


