جنگ نیوز ڈیسک
شوہامہ، گاندربل/شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) کے شعبہ ویٹرنری سائنس و اینیمل ہسبنڈری، شوہامہ میں جمعرات کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں "شیپ اینڈ گوٹ ریسرچ سنٹر (MRCS&G) کے لیے ویژن 2030 کی حکمت عملی” پر غور کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی نے کی، جبکہ دیگر اہم شرکاء میں یونیورسٹی افسران، ماہرین تحقیق، ڈائریکٹرز، ڈینز، محکمہ شیپ ہسبنڈری کے افسران اور MRCS&G کے سائنسدان شامل تھے۔
ڈاکٹر پرویز احمد ریشی، سربراہ MRCS&G نے مرکز کی اہم ترجیحات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جن میں بھیڑوں کی جینیاتی بہتری، بریڈ بیسڈ فارموں کا قیام، فینومک ڈیٹا بیس، "ہاؤرٹی-شیپ” ماڈلز کی فیلڈ توسیع، اور پریسیژن فیڈنگ سسٹم شامل تھے۔
اس موقع پر "اسمارٹ شیپ بریڈر ایپ” متعارف کرائی گئی جو بھیڑ بکری پالنے کے جدید طریقے اپنانے میں مددگار ہوگی۔ دودھ دینے والی بکریوں کی افزائش، کسانوں کے لیے ہنر پر مبنی سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کورسز پر بھی بات کی گئی۔
ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ہارون رشید نائیک نے مرکز کو ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ ڈائریکٹر ایکسٹنشن ڈاکٹر ریحانہ حبیب کانتھ نے کسانوں کے لیے کاروباری منصوبے شروع کرنے کا عندیہ دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر نذیر گنائی نے کسان دوست تحقیقی منصوبوں کو سراہتے ہوئے بین شعبہ جاتی اشتراک پر زور دیا اور کہا کہ یہ اجلاس چھوٹے جانوروں کی تحقیق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
محکمہ شیپ ہسبنڈری کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بشارت کٹھو نے ٹیکنالوجی کو میدان میں نافذ کرنے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کا آغاز ڈین ویٹرنری سائنس، پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد شاہ کے استقبالیہ خطاب سے ہوا جبکہ اختتام پر پروفیسر مسعود سلیم میر نے شکریہ ادا کیا۔
SKUAST-K میں چھوٹے جانوروں کی تحقیق و ترقی پر غور و فکر کی نشست
SKUAST-K میں چھوٹے جانوروں کی تحقیق و ترقی پر غور و فکر کی نشست
جنگ نیوز ڈیسک
شوہامہ، گاندربل/شیرِ کشمیر یونیورسٹی آف ایگریکلچرل سائنسز اینڈ ٹیکنالوجی کشمیر (SKUAST-K) کے شعبہ ویٹرنری سائنس و اینیمل ہسبنڈری، شوہامہ میں جمعرات کو ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں "شیپ اینڈ گوٹ ریسرچ سنٹر (MRCS&G) کے لیے ویژن 2030 کی حکمت عملی” پر غور کیا گیا۔
اجلاس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نذیر احمد گنائی نے کی، جبکہ دیگر اہم شرکاء میں یونیورسٹی افسران، ماہرین تحقیق، ڈائریکٹرز، ڈینز، محکمہ شیپ ہسبنڈری کے افسران اور MRCS&G کے سائنسدان شامل تھے۔
ڈاکٹر پرویز احمد ریشی، سربراہ MRCS&G نے مرکز کی اہم ترجیحات پر تفصیلی پریزنٹیشن دی، جن میں بھیڑوں کی جینیاتی بہتری، بریڈ بیسڈ فارموں کا قیام، فینومک ڈیٹا بیس، "ہاؤرٹی-شیپ” ماڈلز کی فیلڈ توسیع، اور پریسیژن فیڈنگ سسٹم شامل تھے۔
اس موقع پر "اسمارٹ شیپ بریڈر ایپ” متعارف کرائی گئی جو بھیڑ بکری پالنے کے جدید طریقے اپنانے میں مددگار ہوگی۔ دودھ دینے والی بکریوں کی افزائش، کسانوں کے لیے ہنر پر مبنی سرٹیفکیٹ اور ڈپلومہ کورسز پر بھی بات کی گئی۔
ڈائریکٹر ریسرچ ڈاکٹر ہارون رشید نائیک نے مرکز کو ادارہ جاتی تعاون کی یقین دہانی کرائی جبکہ ڈائریکٹر ایکسٹنشن ڈاکٹر ریحانہ حبیب کانتھ نے کسانوں کے لیے کاروباری منصوبے شروع کرنے کا عندیہ دیا۔
پروفیسر ڈاکٹر نذیر گنائی نے کسان دوست تحقیقی منصوبوں کو سراہتے ہوئے بین شعبہ جاتی اشتراک پر زور دیا اور کہا کہ یہ اجلاس چھوٹے جانوروں کی تحقیق کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
محکمہ شیپ ہسبنڈری کے جوائنٹ ڈائریکٹر ڈاکٹر بشارت کٹھو نے ٹیکنالوجی کو میدان میں نافذ کرنے میں مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
اجلاس کا آغاز ڈین ویٹرنری سائنس، پروفیسر ڈاکٹر ریاض احمد شاہ کے استقبالیہ خطاب سے ہوا جبکہ اختتام پر پروفیسر مسعود سلیم میر نے شکریہ ادا کیا۔


