معصوم تین سالہ بچی کی موت

صورہ کے علاقے میںکل پیش آنے والا سانحہ، جس میں ایک معصوم تین سالہ بچی نبیلہ سڑک حادثے میں جان کی بازی ہار گئی، بظاہر ایک معمول کی خبر لگ سکتی ہے،لیکن جنہوں نے نبیلہ کے جانے ولالوں کے لیے یہ غم ناقابلِ بیان اور ناقابلِ برداشت ہے۔

نبیلہ ایک ذیلی گلی سے مین سڑک کی طرف نکل رہی تھی کہ ایک تیز رفتار دو پہیہ گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔ اس حادثے نے نہ صرف اس ننھی جان کو ہم سے چھین لیا بلکہ اس کے والدین کی زندگیوں کو ایسا زخم دے دیا جس کا کوئی مرہم ممکن نہیں۔ ہمسایہ ہونے کے ناتے میں نے اس کرب کو قریب سے محسوس کیا، وہ چیخیں، وہ بین، آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ حادثہ ٹالا جا سکتا تھا۔ مقامی لوگوں نے بارہا انتظامیہ سے علاقے میں اسپیڈ بریکرز، ٹریفک آئینے اور زیبرا کراسنگ کی مانگ کی تھی، مگر ہر بار ان کی اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا۔ جس سڑک پر یہ حادثہ پیش آیا، وہ کئی گلیوں کو آپس میں جوڑتی ہے اور دن بھر اس پر ٹریفک رواں رہتی ہے۔

خود میں اس سڑک پر کئی بار بال بال بچا ہوں۔ نبیلہ کسی ہائی وے یا بڑی سڑک پر نہیں تھی، وہ ایک اندرونی، نسبتاً پر سکون گلی میں تھی۔ یہی بات اس حادثے کو اور زیادہ المناک بناتی ہے۔یہ واقعہ حکام کے لیے ایک وارننگ ہے، ایک بیداری کی گھنٹی۔ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ فوری طور پر ایسی گنجان آبادیوں میں اسپیڈ بریکرز اور ٹریفک آئینے نصب کیے جائیں۔ ہمیں مزید معصوم جانوں کے ضیاع کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تاکہ اقدامات کیے جائیں۔اور جو بات مزید تکلیف دہ ہے، وہ یہ کہ اطلاعات کے مطابق حادثہ کرنے والی دو پہیہ گاڑی ایک نابالغ نوجوان چلا رہا تھا۔ کیا ہم نے پچھلے نومبر کے ٹنگپورہ سانحے سے کچھ نہیں سیکھا، جہاں ایک کم عمر ڈرائیور کی لاپرواہی نے چار زندگیاں نگل لی تھیں؟

اگرچہ پولیس ہر گلی کوچے پر نگرانی نہیں کر سکتی، لیکن کیا یہ والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو گاڑیاں تھمانے سے باز رکھیں؟نبیلہ کی موت کو صرف ایک افسوسناک واقعہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے۔ اسے ایک پیغام سمجھا جائے—ایک پکار کہ اب ہمیں جاگنا ہوگا، محفوظ سڑکوں کے لیے، ذمہ دارانہ والدین کے لیے، اور ایک ایسی انتظامیہ کے لیے جو عوام کی بات سنے اور ان پر عمل کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

پی- ڈی- پی صدر نے ایمس اونتی پورہ کی جلد تکمیل کا مطالبہ کیا،

سری نگر: پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی صدر...

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

معصوم تین سالہ بچی کی موت

صورہ کے علاقے میںکل پیش آنے والا سانحہ، جس میں ایک معصوم تین سالہ بچی نبیلہ سڑک حادثے میں جان کی بازی ہار گئی، بظاہر ایک معمول کی خبر لگ سکتی ہے،لیکن جنہوں نے نبیلہ کے جانے ولالوں کے لیے یہ غم ناقابلِ بیان اور ناقابلِ برداشت ہے۔

نبیلہ ایک ذیلی گلی سے مین سڑک کی طرف نکل رہی تھی کہ ایک تیز رفتار دو پہیہ گاڑی نے اسے ٹکر مار دی۔ اس حادثے نے نہ صرف اس ننھی جان کو ہم سے چھین لیا بلکہ اس کے والدین کی زندگیوں کو ایسا زخم دے دیا جس کا کوئی مرہم ممکن نہیں۔ ہمسایہ ہونے کے ناتے میں نے اس کرب کو قریب سے محسوس کیا، وہ چیخیں، وہ بین، آج بھی کانوں میں گونج رہے ہیں۔دکھ کی بات یہ ہے کہ یہ حادثہ ٹالا جا سکتا تھا۔ مقامی لوگوں نے بارہا انتظامیہ سے علاقے میں اسپیڈ بریکرز، ٹریفک آئینے اور زیبرا کراسنگ کی مانگ کی تھی، مگر ہر بار ان کی اپیلوں کو نظر انداز کیا گیا۔ جس سڑک پر یہ حادثہ پیش آیا، وہ کئی گلیوں کو آپس میں جوڑتی ہے اور دن بھر اس پر ٹریفک رواں رہتی ہے۔

خود میں اس سڑک پر کئی بار بال بال بچا ہوں۔ نبیلہ کسی ہائی وے یا بڑی سڑک پر نہیں تھی، وہ ایک اندرونی، نسبتاً پر سکون گلی میں تھی۔ یہی بات اس حادثے کو اور زیادہ المناک بناتی ہے۔یہ واقعہ حکام کے لیے ایک وارننگ ہے، ایک بیداری کی گھنٹی۔ اب مزید تاخیر کی گنجائش نہیں۔ فوری طور پر ایسی گنجان آبادیوں میں اسپیڈ بریکرز اور ٹریفک آئینے نصب کیے جائیں۔ ہمیں مزید معصوم جانوں کے ضیاع کا انتظار نہیں کرنا چاہیے تاکہ اقدامات کیے جائیں۔اور جو بات مزید تکلیف دہ ہے، وہ یہ کہ اطلاعات کے مطابق حادثہ کرنے والی دو پہیہ گاڑی ایک نابالغ نوجوان چلا رہا تھا۔ کیا ہم نے پچھلے نومبر کے ٹنگپورہ سانحے سے کچھ نہیں سیکھا، جہاں ایک کم عمر ڈرائیور کی لاپرواہی نے چار زندگیاں نگل لی تھیں؟

اگرچہ پولیس ہر گلی کوچے پر نگرانی نہیں کر سکتی، لیکن کیا یہ والدین اور سرپرستوں کی ذمہ داری نہیں کہ وہ اپنے کم عمر بچوں کو گاڑیاں تھمانے سے باز رکھیں؟نبیلہ کی موت کو صرف ایک افسوسناک واقعہ سمجھ کر فراموش نہ کیا جائے۔ اسے ایک پیغام سمجھا جائے—ایک پکار کہ اب ہمیں جاگنا ہوگا، محفوظ سڑکوں کے لیے، ذمہ دارانہ والدین کے لیے، اور ایک ایسی انتظامیہ کے لیے جو عوام کی بات سنے اور ان پر عمل کرے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں