مکالمہ اور ترقی کامیابی کی راہ

ہر سال 21 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی یعنی World Day for Cultural Diversity for Dialogue and Development منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خوبصورتی اور طاقت اُس کی ثقافتی تنوع میں ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا مذہب، نسل، زبان اور نظریات کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہے، یہ دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تنوع تقسیم نہیں، طاقت ہے۔
ثقافت صرف لباس، کھانوں، زبان یا موسیقی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک قوم کی تاریخ، علم، روایات اور اقدار کی عکاسی ہے۔ یہ تنوع معاشروں کو زندہ رکھتا ہے، جدت کو فروغ دیتا ہے، اور پائیدار ترقی کا ضامن بنتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق ثقافتی تنوع انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس کا تحفظ محض اخلاقی فرض نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت ہے۔
اس دن کی اصل روح مکالمہ ہے۔ مکالمہ کا مطلب صرف گفتگو نہیں بلکہ دوسروں کی بات سننے، سمجھنے اور احترام کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب اقوام، قومیں اور افراد ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں تو نفرت کی جگہ محبت اور تصادم کی جگہ تعاون جنم لیتا ہے۔
ہمارے جیسے علاقوں میں جہاں مختلف زبانیں، مذاہب اور ثقافتیں ساتھ ساتھ موجود ہیں، وہاں مکالمے اور رواداری کی اہمیت دوگنا ہو جاتی ہے۔ یہاں ثقافتی تنوع کو خطرہ نہیں بلکہ قومی اتحاد کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔
ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اس میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نصاب میں دوسروں کی ثقافتوں کا احترام سکھانا چاہیے، میڈیا کو بین الثقافتی ہم آہنگی کی مثالیں اجاگر کرنی چاہییں، اور پالیسی سازوں کو اقلیتوں کی روایات و زبانوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
آئیے، اس دن کو صرف تقریب کا موقع نہ بنائیں بلکہ عمل کا آغاز بنائیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کو پرامن اور منصفانہ بنانے کے لیے ہمیں ثقافتی تنوع کو گلے لگانا ہوگا۔
تنوع کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی دولت ہے جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

تازہ ترین خبریں

نارکو دہشت گردی کے خلاف عوامی تحریک اُبھر چکی ہے

جنگ نیوز ڈیسک سری نگر/لیفٹیننٹ گورنر شری منوج سنہا نے...

جموں میں ملک کے ساتویں علاقائی موسمیاتی مرکز کا افتتاح

جنگ نیوز مرکزی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی و ارضیاتی...

طنز و مزاح:’’ٹر‘‘ کی دنیا اور ہماری زندگی

طبیب احسن تابش’ ’ٹر‘‘دو حرفی لفظ ہے ۔آپ اس میں...

مکالمہ اور ترقی کامیابی کی راہ

ہر سال 21 مئی کو دنیا بھر میں عالمی یومِ ثقافتی تنوع برائے مکالمہ و ترقی یعنی World Day for Cultural Diversity for Dialogue and Development منایا جاتا ہے۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ انسانیت کی خوبصورتی اور طاقت اُس کی ثقافتی تنوع میں ہے۔ ایسے دور میں جب دنیا مذہب، نسل، زبان اور نظریات کی بنیاد پر تقسیم کا شکار ہے، یہ دن ہمیں یہ پیغام دیتا ہے کہ تنوع تقسیم نہیں، طاقت ہے۔
ثقافت صرف لباس، کھانوں، زبان یا موسیقی کا نام نہیں بلکہ یہ ایک قوم کی تاریخ، علم، روایات اور اقدار کی عکاسی ہے۔ یہ تنوع معاشروں کو زندہ رکھتا ہے، جدت کو فروغ دیتا ہے، اور پائیدار ترقی کا ضامن بنتا ہے۔ یونیسکو کے مطابق ثقافتی تنوع انسانیت کا مشترکہ ورثہ ہے اور اس کا تحفظ محض اخلاقی فرض نہیں بلکہ موجودہ دور کی ایک اہم ضرورت ہے۔
اس دن کی اصل روح مکالمہ ہے۔ مکالمہ کا مطلب صرف گفتگو نہیں بلکہ دوسروں کی بات سننے، سمجھنے اور احترام کرنے کی صلاحیت ہے۔ جب اقوام، قومیں اور افراد ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں تو نفرت کی جگہ محبت اور تصادم کی جگہ تعاون جنم لیتا ہے۔
ہمارے جیسے علاقوں میں جہاں مختلف زبانیں، مذاہب اور ثقافتیں ساتھ ساتھ موجود ہیں، وہاں مکالمے اور رواداری کی اہمیت دوگنا ہو جاتی ہے۔ یہاں ثقافتی تنوع کو خطرہ نہیں بلکہ قومی اتحاد کی بنیاد سمجھنا چاہیے۔
ریاستی اداروں، تعلیمی نظام، میڈیا اور سول سوسائٹی کو اس میدان میں اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔ نصاب میں دوسروں کی ثقافتوں کا احترام سکھانا چاہیے، میڈیا کو بین الثقافتی ہم آہنگی کی مثالیں اجاگر کرنی چاہییں، اور پالیسی سازوں کو اقلیتوں کی روایات و زبانوں کا تحفظ یقینی بنانا چاہیے۔
آئیے، اس دن کو صرف تقریب کا موقع نہ بنائیں بلکہ عمل کا آغاز بنائیں۔ یہ دن ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کو پرامن اور منصفانہ بنانے کے لیے ہمیں ثقافتی تنوع کو گلے لگانا ہوگا۔
تنوع کوئی مسئلہ نہیں بلکہ ایک ایسی دولت ہے جس کی حفاظت ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں