جنگ نیوز ڈیسک
نئی دلی : وزیر دفاع راجناتھ سنگھ نے منگل کو کہا کہ بھارتی مسلح افواج نے "آپریشن سندور” کے دوران ماہر سرجنز کی طرح کارروائی کی، جہاں دہشت گرد ٹھکانوں کو انتہائی درستگی کے ساتھ نشانہ بنایا گیا، بالکل ویسے ہی جیسے ایک سرجن متاثرہ حصے کو نکالتا ہے اور باقی جسم کو نقصان نہیں پہنچنے دیتا۔
انہوں نے کہا کہ ان حملوں نے پاکستانی فوج کے اس نیٹ ورک کو تباہ کر دیا جو دہشت گرد سرگرمیوں کی پشت پناہی کرتا ہے۔
راجناتھ سنگھ لکھنؤ میں ڈاکٹر کے این ایس میموریل اسپتال (مایو میڈیکل سینٹر) کی 25 ویں سالگرہ کی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ بھارتی افواج نے صرف دہشت گردوں کو نشانہ بنایا اور عام شہریوں کو نقصان سے بچایا۔
انہوں نے کہا:
"ہماری افواج نے بالکل ایک ماہر ڈاکٹر یا سرجن کی طرح کام کیا۔ جیسے ایک سرجن صرف متاثرہ حصے پر کام کرتا ہے، اسی طرح بھارتی افواج نے بھی دہشت گردی کی جڑ پر وار کیا، وہ بھی بے مثال درستگی کے ساتھ۔”
وزیر دفاع نے کہا کہ آپریشن اس انداز میں منصوبہ بند اور انجام دیے گئے کہ شہری علاقوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ انہوں نے کہا کہ فوج نے صرف ان عناصر کو نشانہ بنایا جو تشدد پھیلانے کے ذمہ دار تھے، جبکہ بے گناہوں کو مکمل تحفظ دیا گیا۔
راجناتھ سنگھ نے بتایا کہ بھارتی حملوں کے بعد پاکستان نے جوابی کارروائی کرنے کی کوشش کی، جس میں ہندو مندروں، گردواروں اور گرجا گھروں کو نشانہ بنایا گیا۔ تاہم، بھارتی افواج کی کارروائی نے پاکستانی فوج کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا۔
انہوں نے مزید کہا:
"ہمارے جوانوں نے مکمل ذمہ داری کے ساتھ کارروائی کی، اور یہ یقینی بنایا کہ صرف مجرموں کو سزا دی جائے، جبکہ بے گناہ افراد محفوظ رہیں۔”
راجناتھ سنگھ نے زور دے کر کہا کہ بھارت کی کارروائیاں صرف اُن جگہوں تک محدود تھیں جہاں دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دیا جا رہا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ کارروائیاں سرحد پار دہشت گردی کے خلاف بھارت کی واضح پالیسی کا پیغام ہیں۔
"ہماری افواج نے قوم کے مفاد اور عوام کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے مکمل پیشہ ورانہ اور انسانی جذبے کے ساتھ کارروائی کی،” وزیر دفاع نے کہا۔


