سرینگر جنگ نیوز ڈیسک
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی، جس میں 26 افراد (زیادہ تر سیاح) ہلاک ہوئے۔ انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور بھارت-پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تصادم سے گریز کی اپیل کی۔
گوتریس نے کہا، "جنگ کوئی حل نہیں۔ فوجی اقدامات سے مسئلہ نہیں سلجھے گا۔ اس نازک وقت میں زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے۔” انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی کوششوں میں مدد کی پیشکش بھی کی۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پہلی بار دریائے سندھ کے معاہدے کو معطل کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے شملہ معاہدے کو روک دیا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
گوتریس نے زور دے کر کہا، "شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ذمہ داروں کو قانونی طریقے سے سزا دلائی جائے۔
اقوام متحدہ نے پہلگام حملے کی مذمت کی، بھارت-پاکستان کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش
اقوام متحدہ نے پہلگام حملے کی مذمت کی، بھارت-پاکستان کشیدگی کم کرنے میں مدد کی پیشکش
سرینگر جنگ نیوز ڈیسک
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے 22 اپریل کو پہلگام میں دہشت گردانہ حملے کی سخت مذمت کی، جس میں 26 افراد (زیادہ تر سیاح) ہلاک ہوئے۔ انہوں نے متاثرین کے اہل خانہ سے تعزیت کا اظہار کیا اور بھارت-پاکستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے دونوں ممالک سے تصادم سے گریز کی اپیل کی۔
گوتریس نے کہا، "جنگ کوئی حل نہیں۔ فوجی اقدامات سے مسئلہ نہیں سلجھے گا۔ اس نازک وقت میں زیادہ سے زیادہ تحمل کی ضرورت ہے۔” انہوں نے اقوام متحدہ کی جانب سے امن کی کوششوں میں مدد کی پیشکش بھی کی۔
پہلگام حملے کے بعد بھارت نے پہلی بار دریائے سندھ کے معاہدے کو معطل کیا، جس کے جواب میں پاکستان نے شملہ معاہدے کو روک دیا، جس سے کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
گوتریس نے زور دے کر کہا، "شہریوں کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے۔ ذمہ داروں کو قانونی طریقے سے سزا دلائی جائے۔


