
رشید پروینؔ
سوپور
عمر عبداللہ ایک بار پھر شادی کے بندھن میں ندھی رازدان کے ساتھ بندھ چکے ہیں (مبارک باد نہیں دے سکتا، میرا دل کانپ جاتا ہے)۔ اس کے ساتھ ہی سیاسی لحاظ سے ان کے لئے کئی نئے اندیشے بھی پیدا ہو چکے ہیں۔
نیشنل کانفرنس ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہے، اندرونِ خانہ سب کچھ ٹھیک نہیں، بلکہ این سی کا ایک گروہ نالاں ہے اور کئی اہم شخصیات، جنہیں وزارت نہیں ملی، بغاوت پر آمادہ ہیں۔ این سی میں ایک بڑا گروہ خاندانی یا موروثی سیاست کے خلاف ہے اور اس خاندانی سیاست کے خاتمے کا مطالبہ کرتا ہے۔
حزبِ اختلاف کے رہنما سنیل شرما نے کابینہ میں ردوبدل ہوتے ہی یہ بیان داغ کر سنسنی پھیلانے کی کوشش کی ہے۔ ویسے بھی وہ پچھلے ایک سال سے کہیں نہ کہیں اور کسی نہ کسی مقام پر اس قسم کی تھرتھلیاں مچانے کی کاوشیں ضرور کرتے رہتے ہیں۔ ویسے بھی سنسنی پھیلانا حزبِ اختلاف کا ایک اہم فریضہ ہوتا ہے۔ جمہوری طرزِ نظام میں بھی وہی حیلے پرویزی ہوتے ہیں، خواہ پارٹی نظام ہو یا خاندانی نظام، اس لئے خاندان ہی بہرحال پارٹیوں کے پیچھے بھی برسرِ اقتدار رہتے ہیں۔
دیکھا جائے تو گراؤنڈ لیول پر بیانات سے کہیں ہلکے پھلکے جھٹکے اگر محسوس بھی کیے گئے ہوں، لیکن اپوزیشن کی جانب سے اس طرح کی پیش گوئیاں کوئی انہونی بات نہیں اور ایسا کرنا اپوزیشن کا معمول ہی رہتا ہے۔
لوک بھون آڈیٹوریم میں کابینہ کے ارکان کی حلف برداری کی تقریب اختتام پذیر ہو چکی ہے، جس میں لیفٹیننٹ گورنر نے نئے وزرا کو حلف دلایا۔ اس تقریب میں فاروق عبداللہ اور دیگر تقریباً تمام کلیدی عہدے دار بھی شامل تھے۔ آپ کو معلوم ہی ہے کہ اس توسیع کا عندیہ پہلے ہی دیا جا چکا تھا، لیکن سیاسی غلطی کا یوں ارتکاب لگتا ہے کہ عمر نے شاید اپنے رفقا، پارٹی کے کلیدی عہدے داروں اور کابینہ میں شامل افراد سے کوئی صلاح و مشورہ نہیں کیا تھا۔
ایسا اس لئے لگتا ہے کہ پارٹی کے لئے کچھ نئے اندیشے پیدا ہوئے ہیں، جو چند افراد کی مایوسیوں اور ناراضگیوں کا ہی ردِعمل ہو سکتے ہیں۔ بہرحال کابینہ میں چار نئے وزرا کو جگہ ملی ہے، جن میں علی محمد ساگر، میر سیف اللہ، شمیمہ فردوس اور الطاف احمد وانی شامل ہیں۔
سب سے پہلے یہ کہ شمیمہ فردوس اس کابینہ کی دوسری خاتون وزیر ہیں۔ وہ اس بار تیسری مرتبہ حبہ کدل حلقے سے منتخب ہو کر آئی ہیں۔ ظاہر ہے کہ اپنے حلقے میں کافی مقبول بھی رہی ہوں گی اور قرینِ قیاس یہی ہے کہ انہوں نے اپنے حلقے میں اچھی کارکردگی بھی دکھائی ہوگی۔
علی محمد ساگر مسلسل اپنے حلقے سے کامیاب ہوتے رہے ہیں اور اچھی شہرت کے حامل ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ کابینہ میں جگہ پاتے رہے ہیں۔ ان کے بارے میں ایک اہم بات یہ ہے کہ علی محمد ساگر اور مبارک گل، دونوں ہی یوتھ نیشنل کانفرنس کے روحِ رواں رہے ہیں اور یوتھ سے ہی پرواز کرکے این سی کی اگلی صف میں کھڑے ہوئے ہیں۔ دونوں کی خدمات اس پارٹی کے لئے ایک ساتھ شروع ہوئی تھیں، بلکہ ان کے ساتھ ایک اور نام بھی تھا جو یوتھ این سی کے بانی ارکان میں شامل تھا، یعنی جی این شاہین، لیکن وہ اس کارواں سے شاید کہیں پہلے ہی بچھڑ گئے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ ساگر صاحب این سی کے دیرینہ اور بڑے وفاداروں میں شمار ہوتے ہیں۔
میر سیف اللہ اس سے قبل تین مرتبہ کپواڑہ حلقے سے منتخب ہوئے تھے اور اب انہیں بھی کابینہ میں جگہ ملی ہے۔ الطاف احمد پہلگام حلقے سے دو بار منتخب ہوئے ہیں اور ظاہر ہے کہ اس حلقے کے عوام کا ووٹ اور حمایت انہیں حاصل رہی ہے۔ لیکن این سی کے کلیدی عہدے داروں اور صفِ اول کے رہنماؤں کی فہرست میں ان کا نام کم ہی سننے اور دیکھنے میں آیا ہے۔ تاہم، ان کے بارے میں ضرور کچھ ایسا ہوگا کہ عمر نے انہیں اپنے چند دیرینہ ساتھیوں پر ترجیح دی ہے۔
90 نشستوں پر مشتمل جموں و کشمیر اسمبلی میں وزرا کی تعداد بھی مقرر ہے اور اس سے تجاوز نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے کابینہ میں زیادہ گنجائش نہیں بنتی۔ سو، یہ ایک فطری بات ہے کہ بہت سارے ایسے افراد، جو وزارت ملنے کی امید لگائے بیٹھے تھے، مایوس بھی ہوئے ہوں گے اور ناراض بھی۔ یہ ایک فطری عمل ہے، لیکن ان میں سے کچھ یا ایک دو نے اپنی ناراضگی کا برملا اظہار کیا ہے۔ دوسرے یا تو خاموش ہی رہے اور پارٹی میں بدستور کام کرتے رہیں گے، کیونکہ یہی عقل اور سیاست کا تقاضا ہے۔
کوئی بھی بڑا سے بڑا سیاسی قدآور کسی بڑی پارٹی سے باہر آکر اپنی اہمیت اور افادیت، دونوں ہی کھو دیتا ہے۔ اس طرح کی سینکڑوں مثالیں ہمارے پاس موجود ہیں۔
بہرحال، اس توسیع کے موقع پر مبارک گل کی ناراضگی بڑی اہم سمجھی جاتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے برملا اپنی ناراضگی اور مایوسی کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ میں نے لکھا ہے، یوتھ این سی ساگر کے ساتھ سفر کرتے ہوئے یہاں تک پہنچی ہے۔ ان کی دیرینہ اور کئی دہائیوں پر محیط خدمات کو شاید ملحوظِ نظر رکھنا چاہیے تھا، لیکن ایسا ضرور رہا ہوگا کہ عمر کے ذہن میں ان کے لئے کوئی اور بہتر متبادل بھی موجود ہو۔ ایسا تاثر پیدا ہو رہا ہے اور دیا جا رہا ہے کہ حلقہ عیدگاہ کے این سی حامی زبردست ناراض ہیں۔ یقینی طور پر ایسا ہو سکتا ہے، لیکن اس ناراضگی کو کسی بھی صورت میں بغاوت تصور نہیں کیا جا سکتا۔
صرف ایک وزارت نہ ملنے کی وجہ سے ایسا سینئر پارٹی رکن نہ تو پارٹی کے خلاف بغاوت کر سکتا ہے اور نہ ہی اپنی پارٹی کے لیڈر کے فیصلے کو کسی طرح مسترد کرنے کا اہل ہوتا ہے، بلکہ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ کوئی بھی شخص، خواہ وہ کتنا ہی اہم کیوں نہ ہو، پارٹی کے اندر محفوظ چھت کے نیچے رہتا ہے اور آگے اپنے موقعے کا انتظار بھی صبر سے کرتا ہے۔
یہاں سیاسی پارٹیاں بہرحال موروثی طور پر ہی منتقل ہوتی ہیں۔ ہاں، تاریخ نے کبھی کبھی اس ڈگر سے ہٹ کر بھی چند ابواب ایک مختصر سے عرصے کے لئے قلم بند کیے ہیں، لیکن بہرحال مطالعہ یہی بتاتا ہے کہ زمانے کی گردش نے اکثر و بیشتر ممالک کو خاندانی سیاست تک محدود کر رکھا ہے یا کسی فوجی ڈکٹیٹر نے سارے نظام کو لپیٹ کر اپنا راج قائم کر رکھا ہے۔
دوسرے رکنِ اسمبلی، یعنی اننت ناگ ویسٹ کے مجید لارمی صاحب، وزارت نہ ملنے سے زبردست ناراض ہیں اور انہوں نے بھی وزارت نہ ملنے پر اپنی ناراضگی کا اظہار کر دیا ہے، لیکن انہوں نے بالکل دانش مندی کا ثبوت دیتے ہوئے ساتھ ہی واضح طور پر کہا ہے کہ وہ پارٹی چھوڑنے یا پارٹی سے تعلق توڑنے کے بجائے اپنے چیف کے فیصلے کو قبول کرتے ہیں۔ یہ بالغ نظری اور سیاسی بلوغیت ہی کا مظہر ہے۔
ان صاحب کے بارے میں بھی ہمارے پاس کوئی خاص معلومات نہیں کہ کس بنا پر انہیں وزارت ملنے کی توقع تھی۔ یہ بہرحال ان کی پارٹی قیادت ہی کے معاملات ہیں۔
اس سارے معاملے میں اور اس کا بغور جائزہ لینے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ کوئی بھی ردوبدل یا توسیع اس عمل کی متقاضی ہوتی ہے کہ پارٹی قیادت اپنے اہم اور دیرینہ ساتھیوں اور عہدے داروں سے مشورہ کرے، اپنا فیصلہ ان تک پہلے ہی پہنچائے اور اپنے دلائل اور منطق کو بروئے کار لاکر ان کی ذہن سازی بھی کرتی رہے، تاکہ اچانک ان کے سامنے کوئی ایسی انہونی بات نہ آجائے جو ان کے لئے ذہنی دھماکے کی صورت اختیار کر لے۔
شاید پارٹی کے اندرونِ خانہ بھی اب وہ جمہوری اقدار آہستہ آہستہ معدوم ہوتی جا رہی ہیں، جو جمہوریت کی روح سمجھی جاتی تھیں۔ اعتماد کی فضا قائم رہے تو کوئی بھی پارٹی اندیشوں اور وسوسوں کا شکار نہیں ہوتی، جبکہ وسوسے اور وہم و گمان اکثر و بیشتر سیاسی تنظیموں کی ٹوٹ پھوٹ میں کلیدی اور حتمی کردار ادا کرتے ہیں۔
عوام نے عمر سرکار کو پچھلے انتخابات میں جو بھاری مینڈیٹ اور اعتماد دیا ہے، وہ چند اہم اور بنیادی باتوں اور منزلوں کے حصول کے وعدوں کے لئے تھا۔ اگرچہ اخباری اطلاعات کے مطابق 18 ارکانِ اسمبلی کی ایک بیٹھک کہیں ہوئی ہے، جس میں ایک میمورنڈم منظور کیا گیا اور شاید وہ پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک پہنچا بھی دیا گیا ہے۔ اس میں ان نکات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ پچھلے انتخابات کے انتخابی منشور میں کیے گئے وعدے پورے کیے جائیں، اسٹیٹ ہڈ اور دفعہ 370 کی بحالی کا وعدہ پورا کیا جائے۔
15 یا 18 ارکان کی اس بیٹھک کو کس تناظر میں لیا جائے، ابھی یہ واضح نہیں۔ کیا انہیں کسی دوسری تنظیم کی آشیرواد بھی حاصل ہے یا اسے اپنی پارٹی پر تھوڑا سا دباؤ بڑھانے کی حکمتِ عملی ہی قرار دیا جا سکتا ہے؟
اس تناظر میں شاید سنیل شرما کا بیان محض ایک سیاسی پٹاخہ نہ ہو، لیکن بظاہر کئی دلائل کے پیشِ نظر عمر سرکار کے لئے ابھی ایسا کوئی خطرہ نہیں، تاہم اس ردوبدل نے ان کے لئے کئی نئے اندیشے ضرور پیدا کیے ہیں۔ یہ اس بات سے واضح ہے کہ پارٹی کو فوری طور پر ایک بیان دینا پڑا کہ ’’اختلافِ رائے ایک جمہوری قدر ہے اور اختلاف کو بغاوت یا پارٹی سے علیحدگی کا مظہر نہیں سمجھا جا سکتا۔‘‘
’’کچھ تو ہے جس کی پردہ داری ہے۔‘‘ میں نے پہلے ہی واضح کیا ہے کہ این سی کے سینئر ترین رہنماؤں میں بھی اتنا دم اور اتنی عوامی حمایت نہیں کہ وہ سیاسی طور پر الگ ہو کر زندہ رہ سکیں۔
ماضی میں دیکھا جائے تو مرحوم محمد افضل بیگ، جو مرحوم شیخ عبداللہ کے ہم نوالہ و ہم پیالہ تھے، بلکہ حقِ خودارادیت کے بانی، اور شروع ہی سے نیشنل کانفرنس کے معماروں میں شامل تھے، بلکہ شیخ عبداللہ کی ساری سیاسی عمارت میں مرکزی ستون کی حیثیت رکھتے تھے، انہیں جب مرحوم عبداللہ نے چاہا، مکھن سے بال کی


