
محمد اعجاز افضل بصیرؔ
آج کا انسان ترقی کی جس منزل پر کھڑا ہے، وہاں سے آسمان کو چھوتی عمارتیں، جگمگاتی سڑکیں، جدید ٹیکنالوجی اور آسائشوں سے بھرپور زندگی صاف دکھائی دیتی ہے۔ شہروں کی راتیں دن کا منظر پیش کرتی ہیں، بازاروں میں رونق ہے، زندگی کی رفتار تیز ہے اور کامیابی کے نئے نئے راستے کھل رہے ہیں۔ لیکن اس چمکتی ہوئی دنیا کے پیچھے ایک ایسا تاریک پہلو بھی موجود ہے جسے دیکھنے کے لئے آنکھوں سے زیادہ زندہ ضمیر کی ضرورت ہے۔ سوال یہ ہے کہ جب شہر روشنیوں سے بھر گئے ہیں تو انسان کے اندر اتنا اندھیرا کیوں بڑھتا جا رہا ہے؟ یہی ہمارے عہد کا سب سے بڑا المیہ ہے کہ روشنیوں کے شہر میں انسان کا ضمیر اندھیروں میں بھٹک رہا ہے۔
ترقی معاشرے کی کامیابی کی علامت ہے۔ سڑکیں، عمارتیں، تعلیمی ادارے اور جدید سہولتیں زندگی کو آسان بناتی ہیں، مگر حقیقی ترقی وہ ہے جو انسان کو بہتر، محفوظ اور باوقار زندگی دے۔ اگر بلند عمارتوں کے سائے میں غریب بھوکا سوئے اور مظلوم کی فریاد سننے والا کوئی نہ ہو، تو ایسی ترقی ادھوری ہے۔
*انسان نے سائنس کے ذریعے دنیا کے فاصلے کم کیے ہیں، مگر افسوس کہ دلوں کے درمیان فاصلے کم کرنے میں ناکام رہا ہے۔*
ضمیر انسان کی وہ آواز ہے جو اسے اچھے برے اور حق و باطل میں فرق سکھاتی ہے۔ جب یہ آواز کمزور پڑ جاتی ہے تو انسان ظلم اور ناانصافی دیکھ کر بھی خاموش رہتا ہے۔ یہ خاموشی ظلم کو بڑھاوا دیتی ہے، کیونکہ معاشرہ صرف ظالم کے ظلم سے نہیں، بلکہ انصاف پسند لوگوں کی خاموشی سے بھی کمزور ہوتا ہے۔
آج دولت کو کامیابی کا پیمانہ سمجھا جانے لگا ہے اور انسان کی عزت اس کے کردار کے بجائے اس کی مالی حیثیت سے کی جاتی ہے۔ دولت کی ہوس میں لوگ رشوت، دھوکا دہی اور بدعنوانی کا راستہ اختیار کر لیتے ہیں۔ جب دیانت داری کو کمزوری اور بدعنوانی کو کامیابی سمجھا جائے تو یہ معاشرے کے اخلاقی زوال کی علامت ہے۔ دولت ضروری ہے، مگر انسانیت سے زیادہ اہم نہیں۔
زندگی کی خوبصورتی محبت، خلوص اور رشتوں میں ہے، مگر آج مفاد پرستی نے ان تعلقات کو کمزور کر دیا ہے۔ لوگ ضرورت کے وقت رشتوں کی قدر کرتے ہیں اور کام نکلنے پر دور ہو جاتے ہیں۔ *افسوس کہ جن والدین نے زندگی بچوں کے لئے وقف کی، وہی بڑھاپے میں تنہائی کا شکار ہیں۔ یہ کیسی ترقی ہے کہ دنیا سے رابطہ ہے، مگر اپنے والدین کے لئے وقت نہیں؟*
ڈیجیٹل دور نے ہماری زندگی آسان بنا دی ہے۔ آج ہم موبائل کے ذریعے دور بیٹھے لوگوں سے بات تو کر لیتے ہیں، مگر اکثر اپنے ہی گھر والوں کے لئے وقت نہیں نکالتے۔ سوشل میڈیا پر دوسروں کے دکھ درد پر افسوس کا اظہار کرنا آسان ہے، لیکن حقیقت میں ان کی مدد کے لئے آگے آنا مشکل لگتا ہے۔ ہمیں سمجھنا ہوگا کہ صرف پوسٹ شیئر کرنے سے کسی کی پریشانی دور نہیں ہوتی، بلکہ اصل ہمدردی وہ ہے جو ہمارے عمل میں نظر آئے۔
تعلیم انسان کو علم فراہم کرتی ہے، جبکہ حقیقی شعور اسے اس علم کے درست استعمال کا راستہ دکھاتا ہے۔ کسی شخص کے پاس بڑی ڈگریاں ہوں، لیکن وہ دوسروں کی عزت نہ کرے، کمزوروں کا حق مارے یا اپنے علم کو دوسروں کو نیچا دکھانے کے لئے استعمال کرے، تو اس کی تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔
آج معاشرے کو ایسے تعلیم یافتہ افراد کی ضرورت ہے جو صرف اپنے مستقبل کی تعمیر نہ کریں، بلکہ دوسروں کے لئے بھی آسانیاں پیدا کریں۔ تعلیم کا اصل حسن کردار، برداشت، رواداری، دیانت داری اور خدمتِ خلق میں نمایاں ہوتا ہے۔ اگر علم انسان کو بہتر انسان نہ بنا سکے تو ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے ساتھ اپنی اخلاقی تربیت پر بھی غور کرنا ہوگا۔
روشنیوں سے جگمگاتے شہروں میں آج بھی بہت سے لوگ غربت کا شکار ہیں۔ کہیں کھانا ضائع ہوتا ہے، تو کہیں لوگ دو وقت کی روٹی کے لئے پریشان رہتے ہیں۔ غربت کے باعث بچے تعلیم اور کئی خاندان علاج سے محروم رہ جاتے ہیں۔ حقیقی ترقی وہی ہے جس میں ہر انسان کو عزت کے ساتھ تعلیم، علاج اور روزگار کے مواقع میسر ہوں۔
ایک مہذب معاشرے کی پہچان یہ بھی ہے کہ وہاں عورت کو عزت، تحفظ اور ترقی کے یکساں مواقع حاصل ہوں۔ لیکن بعض جگہوں پر آج بھی عورت کے احترام کے دعوے اور عملی رویوں میں فرق نظر آتا ہے۔ بیٹیوں کی تعلیم میں رکاوٹیں، جہیز کے نام پر مطالبات، گھریلو تشدد اور عورت کی صلاحیتوں کو نظرانداز کرنا اسی دوہرے معیار کی مثالیں ہیں۔
اگر کوئی معاشرہ ترقی کا دعویٰ کرتا ہے، تو اسے اپنی بیٹیوں کے خوابوں، ان کی تعلیم اور ان کی خودمختاری کو بھی اہمیت دینی ہوگی۔ عورت کو عزت دینا محض الفاظ کا معاملہ نہیں، بلکہ اس کے حقوق تسلیم کرنا اور اس کے ساتھ منصفانہ سلوک کرنا ہے۔
آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ روشنیوں کے شہر میں اندھیرا ضمیر ہمارے عہد کی ایک اہم سماجی حقیقت کی علامت ہے۔ ہم نے اپنے شہروں کو روشن کرنے کے لئے بجلی، مشینوں اور جدید ٹیکنالوجی کا سہارا لیا، لیکن دلوں میں محبت، ذہنوں میں شعور اور ضمیروں میں انصاف کی روشنی پیدا کرنا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔
ترقی کا حقیقی مفہوم صرف بلند عمارتیں، وسیع سڑکیں اور جدید سہولتیں نہیں، بلکہ ایسا معاشرہ ہے جہاں کسی بھوکے کو بھوکا نہ سونا پڑے، کسی مظلوم کو تنہا نہ چھوڑا جائے، کسی غریب کو حقیر نہ سمجھا جائے اور کسی انسان کی عزت اس کی دولت سے نہ ناپی جائے۔
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ شہر کی خوبصورتی اس کی روشنیوں میں ضرور ہے، مگر اس کی عظمت وہاں رہنے والے انسانوں کے کردار میں پوشیدہ ہے۔ *اگر ضمیر زندہ ہو تو ایک چھوٹا سا گھر بھی محبت کا روشن مرکز بن سکتا ہے، اور اگر ضمیر مردہ ہو تو روشنیوں سے جگمگاتا شہر بھی اخلاقی اندھیروں میں ڈوبا رہ سکتا ہے۔*
آئیے، ہم صرف روشنیوں کے شہر تعمیر نہ کریں، بلکہ ایسے انسان بھی بنیں جن کے دل میں ہمدردی، کردار میں سچائی اور ضمیر میں انصاف کی روشنی ہو۔ کیونکہ دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت روشن عمارتوں کی نہیں، روشن ضمیروں کی ہے۔ *شہر کی اصل روشنی اس کی سڑکوں اور عمارتوں سے نہیں، بلکہ وہاں بسنے والے انسانوں کے کردار، احساس اور زندہ ضمیر سے ہوتی ہے*۔


