نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کا ٹھنڈا ہو جانا آپ علیہ السلام کا ایک زبردست معجزہ تھا۔ علامہ اقبال نے اسی واقعے کو ذہن میں رکھتے ہوئے درج ذیل اشعار میں بڑی خوبصورتی سے اس کی ترجمانی فرمائی ہے:
(1) آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟
(2) بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
بعض کمزور ایمان والے یا منافقین اس واقعے پر اعتراض کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے حضرات متوجہ ہوں۔ ہماری سائنس کہتی ہے کہ اگر ہوا سے آکسیجن کو فوری طور پر خارج کر دیا جائے تو آگ بھی فوراً بجھ جاتی ہے۔
فی زمانہ ایسے میٹریل تیار ہو چکے ہیں جو آگ کو روکنے یا اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں مخصوص پینٹ اور ایس بیس ٹاس (Asbestos) قابل ذکر ہیں۔ ایسا کپڑا بھی ایجاد ہو چکا ہے کہ اگر آپ اس کا دستانہ اپنے ہاتھ میں پہن کر کسی بھٹی میں ہاتھ ڈال دیں تو آپ کا ہاتھ نہیں جلے گا۔ اسی طرح ایسا لباس بھی تیار کر لیا گیا ہے جسے خلانورد (Astronaut) یا آگ بجھانے والے اہلکار پہن لیتے ہیں تو آگ اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
خلائی سفر کے دوران ایسا خلائی لباس پہنا جاتا ہے جس پر نہ صرف آگ بلکہ خلائی اثرات بھی اثر انداز نہیں ہوتے اور خلانورد اسی لباس میں خلائی اسٹیشن ’’میر‘‘ سے خلا میں چہل قدمی بھی کر لیتے ہیں۔
قارئین کے لئے یہ بات خالی از دلچسپی نہ ہوگی کہ قرآن مجید میں ایسے کرتے یا لباس کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے جو حرارت سے بچاؤ فراہم کرے گا۔ فرمایا گیا ہے:
’’وَجَعَلَ لَکُمْ سَرَابیلَ تَقیکُمُ الْحَرَّ‘‘
اور تمہارے لئے ایسے کرتے اور لباس بنا دیے جو تمہیں گرمی اور آگ سے بچاتے ہیں۔ (سورۃ النحل، آیت 81)
چنانچہ ایسا لباس جو گرمی اور آگ سے بچائے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ یہ لباس بنانا بھی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو سکھایا ہے۔ آگ سے بچاؤ کی یہ نعمت کوئی معمولی نعمت نہیں ہے۔
آگ کا محرک آکسیجن گیس ہے اور اس کے مخالف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ اسی لئے آج کل آگ بجھانے والے ایسے آلات تیار ہو چکے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں، جسے آگ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایسے کیمیکلز بھی ایجاد ہو چکے ہیں کہ اگر انہیں آگ پر چھڑک دیا جائے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے صحیح سلامت نکل آنے کے بعد حکم الٰہی سے فلسطین کی طرف چلے گئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

تازہ ترین خبریں

عمان کے ساحل کے قریب ہندوستانی جہاز پر حملہ،

نئی دہلی: مرکزی وزیر برائے بندرگاہیں، جہاز رانی اور...

امریکی وسط مدتی انتخابات میں ووٹنگ جاری،

واشنگٹن ڈی سی: 2026 کے وسط مدتی انتخابات کے لیے...

کشمیر میں روایتی پھول ’موَل‘ کی مانگ میں اضافہ، مصنوعی رنگوں پر پابندی کا اثر

سری نگر/جنگ نیوز/ کشمیر کے روایتی پکوانوں کو سرخ رنگ...

جموں و کشمیر سیاحت کی عالمی تشہیر، لندن میں عالمی ٹریول نمائش میں شرکت

جنگ نیوز جموں و کشمیر محکمہ سیاحت نے عالمی سیاحتی...

لڑکیوں کی پُر اعتماد شخصیت، وقت کی اہم ضرورت

سیما شکور عموماً یہ سوچ لیا جاتا ہے کہ لڑکیوں...

نمرود کی آگ اور جدید سائنسی تحقیقات

 

ماجد مجید

کشمیر یونیورسٹی

حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نمرود کی آگ کا ٹھنڈا ہو جانا آپ علیہ السلام کا ایک زبردست معجزہ تھا۔ علامہ اقبال نے اسی واقعے کو ذہن میں رکھتے ہوئے درج ذیل اشعار میں بڑی خوبصورتی سے اس کی ترجمانی فرمائی ہے:
(1) آگ ہے، اولاد ابراہیم ہے، نمرود ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحان مقصود ہے؟
(2) بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
عقل ہے محو تماشائے لب بام ابھی
بعض کمزور ایمان والے یا منافقین اس واقعے پر اعتراض کرتے ہیں۔ لہٰذا ایسے حضرات متوجہ ہوں۔ ہماری سائنس کہتی ہے کہ اگر ہوا سے آکسیجن کو فوری طور پر خارج کر دیا جائے تو آگ بھی فوراً بجھ جاتی ہے۔
فی زمانہ ایسے میٹریل تیار ہو چکے ہیں جو آگ کو روکنے یا اس کے اثرات سے محفوظ رکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان میں مخصوص پینٹ اور ایس بیس ٹاس (Asbestos) قابل ذکر ہیں۔ ایسا کپڑا بھی ایجاد ہو چکا ہے کہ اگر آپ اس کا دستانہ اپنے ہاتھ میں پہن کر کسی بھٹی میں ہاتھ ڈال دیں تو آپ کا ہاتھ نہیں جلے گا۔ اسی طرح ایسا لباس بھی تیار کر لیا گیا ہے جسے خلانورد (Astronaut) یا آگ بجھانے والے اہلکار پہن لیتے ہیں تو آگ اس پر اثر انداز نہیں ہوتی۔
خلائی سفر کے دوران ایسا خلائی لباس پہنا جاتا ہے جس پر نہ صرف آگ بلکہ خلائی اثرات بھی اثر انداز نہیں ہوتے اور خلانورد اسی لباس میں خلائی اسٹیشن ’’میر‘‘ سے خلا میں چہل قدمی بھی کر لیتے ہیں۔
قارئین کے لئے یہ بات خالی از دلچسپی نہ ہوگی کہ قرآن مجید میں ایسے کرتے یا لباس کی بھی پیش گوئی کی گئی ہے جو حرارت سے بچاؤ فراہم کرے گا۔ فرمایا گیا ہے:
’’وَجَعَلَ لَکُمْ سَرَابیلَ تَقیکُمُ الْحَرَّ‘‘
اور تمہارے لئے ایسے کرتے اور لباس بنا دیے جو تمہیں گرمی اور آگ سے بچاتے ہیں۔ (سورۃ النحل، آیت 81)
چنانچہ ایسا لباس جو گرمی اور آگ سے بچائے، یہ بھی اللہ تعالیٰ کی ایک نعمت ہے۔ یہ لباس بنانا بھی اللہ تعالیٰ ہی نے انسان کو سکھایا ہے۔ آگ سے بچاؤ کی یہ نعمت کوئی معمولی نعمت نہیں ہے۔
آگ کا محرک آکسیجن گیس ہے اور اس کے مخالف کاربن ڈائی آکسائیڈ ہے۔ اسی لئے آج کل آگ بجھانے والے ایسے آلات تیار ہو چکے ہیں جو کاربن ڈائی آکسائیڈ پیدا کرتے ہیں، جسے آگ پر چھوڑ دیا جاتا ہے۔ اسی طرح ایسے کیمیکلز بھی ایجاد ہو چکے ہیں کہ اگر انہیں آگ پر چھڑک دیا جائے تو اس پر قابو پایا جا سکتا ہے۔
شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام آگ سے صحیح سلامت نکل آنے کے بعد حکم الٰہی سے فلسطین کی طرف چلے گئے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں