جنگ نیوز
سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم، صحافی اور سماجی مصلح شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش کے موقع پر آج ضلع اننت ناگ کے کوکرناگ علاقے کے صوف شالی میں ان کے نام سے منسوب سرکاری ہائر سیکنڈری اسکول میں تقریب منعقد ہوئی۔
2 نومبر 1924 کو صوف شالی میں پیدا ہونے والے سروانند کول پریم نے اپنی زندگی ادب، تعلیم، سماجی خدمت اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے فروغ کے لیے وقف کی۔ وہ 1942 سے 1946 تک تحریکِ آزادی سے وابستہ رہے اور اس دوران مبینہ طور پر 6 مرتبہ گرفتار ہوئے۔
ادبی میدان میں ان کی خدمات نمایاں رہیں۔ انہوں نے 2 درجن سے زائد کتابیں تصنیف کیں اور بھگوت گیتا، رامائن اور رابندر ناتھ ٹیگور کیگیتانجلی سمیت اہم ادبی و مذہبی تصانیف کا کشمیری اور دیگر زبانوں میں ترجمہ کیا۔
انہوں نے محکمہ تعلیم میں بھی کئی برس خدمات انجام دیں اور اپنی تحریروں کے ذریعے کشمیر کی تہذیب، روایات، روحانیت اور باہمی بھائی چارے کا پیغام عام کیا۔
یکم مئی 1990 کو عسکریت پسندوں نے انہیں اور ان کے بیٹے وریندر کول کو قتل کردیا تھا۔ ان کی شہادت کشمیری ادب اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لیے ایک بڑا نقصان قرار دی جاتی ہے۔
ادبی و سماجی خدمات کے اعتراف میں انہیں 2022 میں حکومتِ جموں و کشمیر کی جانب سے بعد از وفات لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔
تقریب کی خاص اہمیت یہ تھی کہ جس ادارے میں ان کی یومِ پیدائش منائی گئی، وہ کبھی ان کا تعلیمی مرکز رہا تھا اور بعد میں انہوں نے اسی ادارے میں بطور استاد خدمات انجام دیں۔
مقررین نے کہا کہ نئی نسل کو سروانند کول پریم کی زندگی، قربانیوں اور انسانیت، امن، بھائی چارے اور کشمیریت کے پیغام سے روشناس کرانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔


