ڈاکٹر خورشید ریشی
تبدیلی قدرت کا اٹل قانون ہے۔ وقت کے ساتھ انسانی زندگی کے ہر شعبے میں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ سائنس و ٹیکنالوجی نے جہاں زندگی کو آسان بنایا ہے، وہیں سوشل میڈیا نے خیالات، تجربات اور معلومات کو عام لوگوں تک پہنچانے کے بے شمار مواقع فراہم کیے ہیں۔ آج موبائل فون اور انٹرنیٹ کے ذریعے دنیا کے کسی بھی حصے میں موجود شخص اپنے خیالات چند لمحوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتا ہے۔
تاہم، سوشل میڈیا کا مقصد محض تفریح اور شہرت حاصل کرنا نہیں، بلکہ اسے علم و ادب کے فروغ، سماجی شعور کی بیداری اور نئی نسل کی رہنمائی کے لئے بھی استعمال کیا جانا چاہیے۔ اس سلسلے میں جاوید اقبال ماوری کی کوشش قابلِ تحسین ہے کہ وہ مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو عوام کے روبرو لا رہے ہیں۔
جاوید اقبال ماوری نے شخصیات سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ ایک مثبت ادبی، سماجی اور اصلاحی کوشش ہے۔ اس پروگرام میں سیاست، مذہب، تعلیم، صحافت، ادب اور سماجی خدمات سے وابستہ افراد کو اپنے تجربات بیان کرنے کا موقع ملتا ہے۔
اب تک وہ متعدد ممتاز شخصیات سے گفتگو کر چکے ہیں، جن میں علاقۂ ماور کی معروف سیاسی شخصیت محمد امین خان، ہریل کی علمی و دینی شخصیت سید سیف الدین، ماہرِ تعلیم سید محمد حنیف، نوجوان مصنف و کالم نویس خورشید احمد ڈار، ماہرِ قانون نور الشہباز، طنز و مزاح کے ذریعے عوام سے رابطہ رکھنے والے ارشد ساغر، صدرِ اوقاف ہندوارہ حاجی غلام رسول ڈار، معروف افسانہ نگار ڈاکٹر ریاض احمد توحیدی اور سابق پرنسپل ڈائٹ کپواڑہ منظور احمد بٹ شامل ہیں۔
ان شخصیات کے تجربات اور مشاہدات کو عوام تک پہنچانا نہ صرف ان کی خدمات کو اجاگر کرتا ہے بلکہ دوسروں کو ان کی زندگیوں سے سیکھنے کا موقع بھی فراہم کرتا ہے۔
ہمارے معاشرے کا ایک اہم مسئلہ یہ ہے کہ نئی نسل اکثر اپنے علاقے کی ان شخصیات سے ناواقف رہتی ہے جنہوں نے تعلیم، ادب، سیاست، مذہب اور سماجی خدمات میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
جاوید اقبال ماوری کا یہ پروگرام نوجوانوں کو اپنے علاقے کی علمی و سماجی شخصیات سے متعارف کرانے کا مؤثر ذریعہ بن سکتا ہے۔ نوجوان ان شخصیات کی جدوجہد، مشکلات اور کامیابیوں سے سبق حاصل کر سکتے ہیں۔ اپنے علاقے کے محسنوں کو پہچاننا اور ان کی خدمات کا اعتراف کرنا معاشرتی ترقی کے لئے ضروری ہے۔
زندگی میں کامیابی کے ساتھ ناکامی اور خوشی کے ساتھ مشکلات بھی آتی ہیں۔ تجربہ کار افراد کی گفتگو نوجوانوں کو زندگی کے ان پہلوؤں سے روشناس کراتی ہے جنہیں صرف کتابوں سے سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔
جب کوئی استاد اپنی تدریسی زندگی، صحافی اپنے عملی تجربات، ادیب اپنے تخلیقی سفر اور سماجی کارکن اپنی جدوجہد بیان کرتا ہے تو نوجوانوں کو مختلف شعبوں کی حقیقتیں سمجھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہی اس پروگرام کی بنیادی افادیت ہے کہ انفرادی تجربات اجتماعی رہنمائی کا ذریعہ بن رہے ہیں۔
آج سوشل میڈیا ہماری روزمرہ زندگی کا اہم حصہ ہے، لیکن اس کا غیر ضروری استعمال قیمتی وقت ضائع کرتا ہے۔ اگر اسی پلیٹ فارم کو علم، تحقیق، مثبت مکالمے اور سماجی اصلاح کے لئے استعمال کیا جائے تو اس کے دور رس نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
جاوید اقبال ماوری کی کوشش اس بات کی مثال ہے کہ سوشل میڈیا کے ذریعے دوسروں کے تجربات اور خدمات کو بھی عام کیا جا سکتا ہے۔
ہر علاقے کی اپنی تاریخ، ثقافت، زبان اور نمایاں شخصیات ہوتی ہیں۔ ان کی زندگیوں میں علاقے کے سماجی حالات، تعلیمی ارتقا اور ثقافتی روایات کی جھلک ملتی ہے۔
بدقسمتی سے بہت سے افراد کے قیمتی تجربات اور خدمات تحریری یا ڈیجیٹل صورت میں محفوظ نہیں کیے جاتے۔ اگر اس پروگرام کی گفتگو کو باقاعدہ محفوظ کرکے تحریری شکل بھی دی جائے تو یہ علاقائی تاریخ، زبان و ادب اور سماجی تحقیق کے لئے قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتی ہے۔
اس پروگرام کی افادیت بڑھانے کے لئے ضروری ہے کہ گفتگوؤں کو منظم انداز میں محفوظ کیا جائے اور ان کے اہم نکات تحریری صورت میں بھی پیش کیے جائیں۔ اس مواد کو تعلیمی اداروں اور نوجوانوں تک پہنچانے کے علاوہ کشمیری زبان و ادب سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو بھی خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے، تاکہ مقامی زبان، ثقافت اور ادبی ورثے کا تحفظ ممکن ہو سکے۔
اگر اس سلسلے کو تسلسل اور ذمہ داری کے ساتھ آگے بڑھایا جائے تو یہ ایک انفرادی سرگرمی سے بڑھ کر اجتماعی علمی و سماجی اثاثہ بن سکتا ہے۔
نتیجہ: ایک فرد کی کوشش، نسلوں کے لئے سرمایہ
مختصر یہ کہ شاعر جاوید اقبال ماوری کا سوشل میڈیا کے ذریعے مختلف شخصیات سے ملاقات اور تبادلۂ خیال کا سلسلہ ایک قابلِ تحسین ادبی، سماجی اور اصلاحی کوشش ہے۔ اس کے ذریعے مختلف شعبوں سے وابستہ شخصیات کے خیالات اور تجربات عوام تک پہنچ رہے ہیں، جبکہ نئی نسل کو اپنے علاقے کی ممتاز شخصیات سے واقف ہونے کا موقع مل رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنے محسنوں کی خدمات کو یاد رکھیں، ان کے تجربات محفوظ کریں اور نئی نسل کو مثبت رہنمائی فراہم کریں۔ بلاشبہ، یہ محض شخصیات سے ملاقات کا پروگرام نہیں بلکہ علم و تجربے کی منتقلی، مقامی تاریخ و ثقافت کے تحفظ اور نوجوانوں کی فکری و سماجی تربیت کی ایک مثبت کاوش ہے۔ ایسی کوششیں حوصلہ افزائی اور اجتماعی تعاون کی مستحق ہیں۔


