ڈاکٹر احسان تابش فکر کا مسیحا محبت کا پیکر

 

 

 

 

صوفیہ ناز
لندن

ڈاکٹر احسان تابش کو میں گزشتہ 20 برسوں سے جانتی ہوں۔ اس طویل عرصے میں انہیں قریب سے دیکھنے، سننے اور ان کے ادبی سفر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ آن لائن مشاعروں کی خوبصورت محفلوں میں ان کی شرکت اور ان کے کلام سے شناسائی نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا۔ آج دل چاہا کہ ان کی شخصیت اور فن پر اپنے تاثرات قلم بند کروں۔ میں نہ کوئی محقق ہوں، نہ نقاد اور نہ ہی ادبی مبصر، البتہ ایک قاری کی حیثیت سے ان کے اشعار نے میرے دل و دماغ پر جو نقوش چھوڑے ہیں، انہیں بیان کرنا چاہتی ہوں تاکہ ان کے ادبی سفر کی تاریخی گواہی میں میرا نام بھی شامل ہو سکے۔
ڈاکٹر احسان تابش 30 برس مدینہ منورہ، سعودی عرب میں گزارنے کے بعد وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب بے نیازی، خودداری اور فکری آزادی دکھائی دیتی ہے۔ وہ زمانے کے شور میں اپنی آواز کھونے کے بجائے اپنے اندر کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ زمینی حقائق پر گہری نظر رکھتے ہیں، معاشرتی مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور اپنے خیالات سے ذہنوں کو جھنجھوڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ محبت، خلوص اور صداقت کے قائل ہیں اور تصنع، نمود و نمائش اور گروہ بندی سے دور رہتے ہیں۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ صرف شاعر نہیں بلکہ ایک حساس افسانہ نگار، نثر نگار اور صاحبِ فکر ادیب بھی ہیں۔ ان کے ہاں زندگی کے تجربات محض واقعات نہیں رہتے بلکہ فکر و احساس کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانی رشتوں کی نزاکت، جدائی کا کرب، تنہائی کی شدت، معاشرتی بے حسی اور روحانی سکون کی تلاش نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ وہ مشکل فلسفے کو عام فہم الفاظ میں بیان کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔
محبت اور احساس کی شاعری
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا ایک خوبصورت پہلو محبت اور اس سے وابستہ لطیف احساسات ہیں۔ ان کی ایک غزل کے اشعار دیکھیے:
میں سوچ رہا تھا بس یہی یارو
اس کی ہنسی سے دل بھر جائے
یہ شعر محبت کی سادگی اور اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی ایک مسکراہٹ ہی زندگی کی تمام خواہشات پر بھاری ہو جاتی ہے۔ شاعر نے بہت کم الفاظ میں محبت کی ایک مکمل دنیا سمیٹ دی ہے۔
اسی غزل میں وہ کہتے ہیں:
جب حواسوں پر چھا گئی وہ
نگاہیں پوچھیں کدھر جائے
یہاں محبت کے غلبے اور انسانی بے اختیاری کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ محبوب کی موجودگی انسان کے حواس پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ نگاہیں بھی اپنا راستہ بھول جاتی ہیں۔
ایک اور شعر دیکھیے:
لفظ لبوں پر رک گئے لبوں پہ میرے
قدم رکے اور وہ گزر جائے
یہ وہ کیفیت ہے جب انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ محبوب سامنے سے گزر جاتا ہے اور انسان صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر احسان تابش معمولی سے لمحے کو بھی شاعری میں یادگار بنانے کا ہنر رکھتے ہیں۔
رشتوں کی شکستگی اور تنہائی کا کرب
ان کی شاعری میں انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اپنوں کی بے اعتنائی ایک مستقل موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اس درد کو بڑی سادگی سے بیان کرتے ہیں:
میری کشتی ڈگمگانے لگی
جب میرے اپنے بھی بیگانے ہوئے
زندگی کو کشتی سے تشبیہ دے کر شاعر نے ایک وسیع انسانی تجربے کو دو مصرعوں میں سمو دیا ہے۔ انسان کی زندگی اس وقت سب سے زیادہ ڈگمگاتی ہے جب اس کے اپنے ہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس شعر میں صرف تنہائی نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا کرب بھی موجود ہے۔
اسی غزل میں وہ کہتے ہیں:
اہل نظر کو ڈھونڈتے ہوئے
ہاں دل کے کئی خانے ہوئے
یہاں تلاشِ رفاقت کے دوران ملنے والی مایوسیوں اور تجربات کا ذکر ہے۔ انسان جب اپنے احساسات سمجھنے والے لوگوں کو تلاش کرتا ہے تو اسے کئی مرتبہ نئے زخم بھی ملتے ہیں۔
لیکن شاعر مایوسی کو اپنا مقدر نہیں بناتا:
جا کر کہہ دو ہر ایک سے تابش
میرے ہر خواب بھی سہانے ہوئے
یہ شعر ڈاکٹر احسان تابش کی مثبت فکر اور امید پسندی کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ٹوٹنے کے باوجود خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ یہی ان کی شاعری کا حوصلہ افزا پہلو ہے۔
وقت، تاریخ اور ادبی شناخت
ڈاکٹر احسان تابش کا ایک دو مصرعی شعر فیس بک پر نظر سے گزرا، جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا:
وقت نے احسان لکھ دی تاریخ چمن
جب کبھی بجلی گرے گی سرخیاں دہراؤ گے
اس شعر میں وقت کو ایک مصنف اور تاریخ کو ایک زندہ دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کے اعمال اور اس کی فکری خدمات وقت کے ساتھ اپنی پہچان خود بناتے ہیں۔ تاریخ کسی کی خواہش سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور کام سے رقم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری میں ذاتی احساسات سے اجتماعی شعور تک کا سفر بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے دکھ کو بیان کرتے ہوئے معاشرے، زمانے اور انسانی تاریخ کے سوالات تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وسعتِ فکر انہیں محض ذاتی تجربات کا شاعر نہیں رہنے دیتی۔
اندھیروں کے مقابلے میں چراغ
ان کا یہ شعر میرے نزدیک ان کی پوری شخصیت کا خلاصہ ہے:
چراغ جلانے کی حسرت ابھی باقی ہے
اندھیروں سے کہہ دو ہمارے گھر نہ آئیں
یہ شعر محض امید کا اظہار نہیں بلکہ مزاحمت کا اعلان ہے۔ شاعر اندھیروں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ یہ اندھیرے مایوسی، نفرت، خود غرضی اور معاشرتی بے حسی کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک اور مقام پر وہ کہتے ہیں:
چراغ بجھے ہیں تو کیا اندھیرا مان لیں
دل میں ابھی چراغ جلانے کے بہانے ہوئے
یہاں شاعر نے امید کو خارجی حالات کا محتاج نہیں بنایا بلکہ اسے دل کے اندر موجود ایک قوت قرار دیا ہے۔ چراغ بجھ بھی جائیں تو روشنی کی خواہش ختم نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک یہی ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا بنیادی پیغام ہے کہ انسان کو مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
معاشرتی شعور اور ضمیر کی آواز
ڈاکٹر احسان تابش کے کلام میں معاشرتی رویوں پر گہری نظر دکھائی دیتی ہے۔ وہ انسانی تعلقات میں بڑھتی ہوئی مفاد پرستی سے بھی بے خبر نہیں:
وفا کے تقاضے ابھی دل میں زندہ ہیں
مگر لوگ مطلب کے رشتے نبھاتے ہیں
یہ شعر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ جہاں تعلقات میں خلوص کی جگہ مفاد اور محبت کی جگہ ضرورت نے لے لی ہے۔ شاعر اس تبدیلی کا شکوہ بھی کرتا ہے اور وفا کے جذبے کو زندہ رکھنے کا عزم بھی ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح:
خود سے آنکھیں ملانا مشکل ہے
جب ضمیر قاضی بن کر کھڑا ہے
یہ شعر خود احتسابی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانا آسان ہے مگر اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا ہونا مشکل۔ ڈاکٹر احسان تابش یہاں انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کا یہ شعر بھی موجودہ عہد کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے:
کہتا ہے بشر اب کوئی رہبر نہیں ہے
کسی کے چہرے پر نکھار نہیں ہے
یہاں رہنمائی کے فقدان اور اجتماعی مایوسی کا ذکر ہے۔ شاعر صرف فرد کی بات نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو آج بھی رہنمائی، اعتماد اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔
تصوف، عبادت اور روحانی بالیدگی
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو تصوف اور روحانیت ہے۔ ان کے ہاں عقل اور دل، علم اور عرفان، دنیا اور آخرت کے درمیان ایک خوبصورت ربط دکھائی دیتا ہے۔
کتابیں پڑھ کے تھک گیا عقل کا مسافر
دل کو سکون آیت سجدہ سنا رہا ہے
یہ شعر علم کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی عقل ہر سوال کا جواب فراہم نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات دل کو وہ سکون عبادت اور اللہ کے ذکر میں ملتا ہے جو دنیا کی کتابوں اور فلسفوں میں تلاش کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔
تابش یہی ہے خلاصہ سارے فلسفوں کا
جو جھک گیا وہی سربلند ہو رہا ہے
کتنے سادہ الفاظ میں ایک بڑی روحانی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ عاجزی، بندگی اور انکساری کو حقیقی بلندی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
منزلیں تو ملی علم و عرفان کی ہزار
مگر قرار ماتھے کے داغ سے آ رہا ہے
یہاں ماتھے کا داغ سجدے کی علامت ہے۔ شاعر نے علم و عرفان کی تمام منزلوں کے باوجود حقیقی سکون کو بندگی سے وابستہ کیا ہے۔
ان کے یہ اشعار بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر احسان تابش کے لئے شاعری محض جذبات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ روحانی تربیت اور فکری بالیدگی کا وسیلہ بھی ہے۔
انسانی کرب اور نئی نسل کا دکھ
ان کے کلام میں اجتماعی دکھ اور تشدد کے ماحول میں پروان چڑھنے والی نسلوں کا ذکر بھی ملتا ہے:
تشدد کے موسم میں پل کر
بچوں کو ڈر نہیں گرم ہواؤں سے
یہ شعر ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں بچے بچپن ہی سے خوف، تشدد اور عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شاعر نے تشدد کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک موسم قرار دیا ہے، جو نسلوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسی طرح ان کے یہ اشعار زندگی کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو دوبارہ جوڑنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں:
پکارتی ہے ہر صبح زندگی
ٹوٹ گئی ہوں جوڑنے والا چاہیے
اور:
روز کہتی ہے زندگی مجھ سے
کوئی زخم رفو کر دوں میرے
یہاں زندگی کو ایک زخمی وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مرہم اور محبت کی تلاش میں ہے۔ شاعر کا حساس دل انسانی دکھ کو محسوس کرتا ہے اور اس کے لئے شفا کی امید بھی تلاش کرتا ہے۔
نعتیہ شاعری اور عشق رسول ﷺ
ڈاکٹر احسان تابش کے کلام میں نعتیہ شاعری ایک الگ روحانی کیفیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ مدینہ منورہ میں طویل قیام اور حرمین شریفین سے ان کی وابستگی کا عکس ان کے اشعار میں محسوس ہوتا ہے۔
نور آنکھوں میں رب کا ہے میرا نبی
پیار و الفت کا پیکر ہے میرا نبی
ان اشعار میں عقیدت اور محبت کا خوبصورت امتزاج ہے۔ شاعر کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی ذات محبت، رحمت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
ان کا یہ نعتیہ قطعہ بھی قابلِ ذکر ہے:
ہر وقت خیالوں میں میرے وہ گنبد خضرا رہتا ہے
ہر وقت نگاہوں میں اب تو بس کعبہ کعبہ رہتا ہے
کیا فکر ہو تابش کو کوئی کیا خوف ہو اس کو عقبی کا
اس کے تو لبوں پہ عرصہ سے اب مولا مولا رہتا ہے
یہاں مدینہ منورہ کی نسبت، کعبہ شریف کی محبت اور ذکر الٰہی ایک ہی روحانی کیفیت میں جمع ہو گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر کی قلبی وابستگی اور عقیدت نمایاں ہے۔
ایک اور شعر دیکھیے:
ہوتا ہے جس میں ذکر رسول کریم کا
اس گھر میں برکتوں بھری برسات ہوتی ہے
یہ شعر درود و سلام، ذکر رسول ﷺ اور روحانی برکتوں کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
ذاتی مشاہدات اور ڈاکٹر احسان تابش کی شخصیت
میں ڈاکٹر احسان تابش سے حج کے دوران مدینہ منورہ میں ملاقات کر چکی ہوں۔ دس دن تک انہیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت میں خلوص، محبت اور بے ساختگی نمایاں ہے۔ وہ بات کرتے ہیں تو اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مزاج میں ایک بے نیازی ہے، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کے لئے درد اور احساس بھی موجود ہے۔
ان کی زندگی اور شاعری میں ایک دلچسپ مماثلت ہے۔ ان کے اشعار میں جہاں تنہائی، بیگانگی اور بے بسی دکھائی دیتی ہے، وہیں ان کی شخصیت میں امید، حوصلہ اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ بھی نظر آتا ہے۔
ایک مرتبہ میں نے ان سے حال پوچھا تو انہوں نے یہ شعر سنایا:
دیواروں سے اب باتیں کرتے ہیں رات بھر
جو اپنے تھے وہی لوگ اجنبی ہوئے
یہ شعر سن کر اندازہ ہوا کہ بعض اوقات انسان اپنے دل کی پوری داستان دو مصرعوں میں بیان کر دیتا ہے۔ اس میں تنہائی بھی ہے، رشتوں کی شکستگی بھی اور ایک خاموش شکایت بھی۔
ڈاکٹر احسان تابش کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کو محض شکوہ نہیں بناتے بلکہ اسے شعر کی صورت دے کر دوسروں کے احساسات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ یہی ایک حساس شاعر کی پہچان ہے۔
ادبی عہد میں ڈاکٹر احسان تابش کی اہمیت
آج کے ادبی ماحول میں جہاں فوری شہرت، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور نمود و نمائش کی دوڑ دکھائی دیتی ہے، وہاں ڈاکٹر احسان تابش جیسے ادیب اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ وہ کم لکھتے ہیں لیکن ان کے کلام میں تجربے، مشاہدے اور مطالعے کی گہرائی محسوس ہوتی ہے۔
ان کی شاعری میں غزل کی روایت بھی ہے، نثری نظم کی بے ساختگی بھی، افسانے کی کہانی بھی اور تصوف کی روحانی خوشبو بھی۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا کلام قاری کو صرف متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے سوچنے، اپنے اندر جھانکنے اور زندگی کے معنی تلاش کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
میرے نزدیک ڈاکٹر احسان تابش کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ درد کو لفظ دیتے ہیں، تنہائی کو آواز دیتے ہیں اور اندھیروں میں چراغ جلانے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں شکست کے بعد سنبھلنے، مایوسی کے بعد امید رکھنے اور دنیاوی تجربات کے بعد روحانی سکون تلاش کرنے کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔
ڈاکٹر احسان تابش کی ادبی شخصیت کو سمجھنے کے لئے ان کے چند اشعار پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان کے کلام کے پس منظر میں موجود زندگی کے تجربات، مشاہدات اور احساسات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے ہاں لفظ محض لفظ نہیں بلکہ زندگی کے کسی نہ کسی تجربے کی گواہی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری میں ایک طرف انسانی زندگی کا کرب ہے تو دوسری طرف امید کا چراغ۔ ایک طرف رشتوں کی بے وفائی ہے تو دوسری طرف وفا کا عزم۔ ایک طرف عقل کی تھکن ہے تو دوسری طرف سجدے کا سکون۔ یہی تضادات ان کی شاعری کو زندگی سے قریب کرتے ہیں۔
وہ زخم دکھاتے ہیں مگر مایوسی نہیں پھیلاتے، اندھیروں کا ذکر کرتے ہیں مگر چراغ جلانے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ وہ انسان کو ٹوٹنے کے بعد بھی جینے، خواب دیکھنے اور محبت کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
میری نظر میں ڈاکٹر احسان تابش فکر کے مسافر، محبت کے ترجمان اور روحانی احساس کے شاعر ہیں۔ ان کا قلم اسی طرح خلوص، صداقت اور روشنی کے چراغ جلاتا رہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

تازہ ترین خبریں

پاورگرڈ کا دوسری سہ ماہی میں 3,866 کروڑ روپے کا منافع (PAT)، سالانہ بنیادوں پر 8 فیصد اضافہ

  سرینگر جنگ ڈیسک پاور گرڈ کارپوریشن آف انڈیا لمیٹڈ (پاورگرڈ)،...

ایم ایس لطیفی 40 کے نئے بیچ کیلئے 15 نومبر کو داخلہ ٹیسٹ

جنگ نیوز حیدرآباد/جے ای ای ایڈوانسڈ 2026 میں آل انڈیا...

متحدہ مجلسِ علما ء نے اننت ناگ میں مسجد پر حملے کی مذمت کی

جنگ نیوز ڈیسک متحدہ مجلسِ علما جموں و کشمیرنے اننت...

شہید سروانند کول پریم کی 102ویں یومِ پیدائش پر خراجِ عقیدت پیش

جنگ نیوز سری نگر/معروف کشمیری شاعر، مجاہدِ آزادی، ماہرِ تعلیم،...

PDPکا یوم تاسیس:طاقت کے بجائے کشمیری عوام کی آواز سنے مرکز/ محبوبہ

سری نگر/جنگ نیوز/ پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کی...

ڈاکٹر احسان تابش فکر کا مسیحا محبت کا پیکر

 

 

 

 

صوفیہ ناز
لندن

ڈاکٹر احسان تابش کو میں گزشتہ 20 برسوں سے جانتی ہوں۔ اس طویل عرصے میں انہیں قریب سے دیکھنے، سننے اور ان کے ادبی سفر کو سمجھنے کا موقع ملا۔ آن لائن مشاعروں کی خوبصورت محفلوں میں ان کی شرکت اور ان کے کلام سے شناسائی نے ہمیشہ مجھے متاثر کیا۔ آج دل چاہا کہ ان کی شخصیت اور فن پر اپنے تاثرات قلم بند کروں۔ میں نہ کوئی محقق ہوں، نہ نقاد اور نہ ہی ادبی مبصر، البتہ ایک قاری کی حیثیت سے ان کے اشعار نے میرے دل و دماغ پر جو نقوش چھوڑے ہیں، انہیں بیان کرنا چاہتی ہوں تاکہ ان کے ادبی سفر کی تاریخی گواہی میں میرا نام بھی شامل ہو سکے۔
ڈاکٹر احسان تابش 30 برس مدینہ منورہ، سعودی عرب میں گزارنے کے بعد وطن واپس لوٹ آئے ہیں۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب بے نیازی، خودداری اور فکری آزادی دکھائی دیتی ہے۔ وہ زمانے کے شور میں اپنی آواز کھونے کے بجائے اپنے اندر کی دنیا میں رہنا پسند کرتے ہیں۔ زمینی حقائق پر گہری نظر رکھتے ہیں، معاشرتی مسائل پر کھل کر اظہار خیال کرتے ہیں اور اپنے خیالات سے ذہنوں کو جھنجھوڑنے کا ہنر جانتے ہیں۔ وہ محبت، خلوص اور صداقت کے قائل ہیں اور تصنع، نمود و نمائش اور گروہ بندی سے دور رہتے ہیں۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شخصیت کا ایک اہم پہلو یہ ہے کہ وہ صرف شاعر نہیں بلکہ ایک حساس افسانہ نگار، نثر نگار اور صاحبِ فکر ادیب بھی ہیں۔ ان کے ہاں زندگی کے تجربات محض واقعات نہیں رہتے بلکہ فکر و احساس کی صورت اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کی تحریروں میں انسانی رشتوں کی نزاکت، جدائی کا کرب، تنہائی کی شدت، معاشرتی بے حسی اور روحانی سکون کی تلاش نمایاں نظر آتی ہے۔ ان کا اسلوب سادہ، رواں اور دل میں اتر جانے والا ہے۔ وہ مشکل فلسفے کو عام فہم الفاظ میں بیان کرنے کا سلیقہ رکھتے ہیں۔
محبت اور احساس کی شاعری
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا ایک خوبصورت پہلو محبت اور اس سے وابستہ لطیف احساسات ہیں۔ ان کی ایک غزل کے اشعار دیکھیے:
میں سوچ رہا تھا بس یہی یارو
اس کی ہنسی سے دل بھر جائے
یہ شعر محبت کی سادگی اور اس کیفیت کو بیان کرتا ہے جہاں محبوب کی ایک مسکراہٹ ہی زندگی کی تمام خواہشات پر بھاری ہو جاتی ہے۔ شاعر نے بہت کم الفاظ میں محبت کی ایک مکمل دنیا سمیٹ دی ہے۔
اسی غزل میں وہ کہتے ہیں:
جب حواسوں پر چھا گئی وہ
نگاہیں پوچھیں کدھر جائے
یہاں محبت کے غلبے اور انسانی بے اختیاری کو خوبصورتی سے بیان کیا گیا ہے۔ محبوب کی موجودگی انسان کے حواس پر اس طرح چھا جاتی ہے کہ نگاہیں بھی اپنا راستہ بھول جاتی ہیں۔
ایک اور شعر دیکھیے:
لفظ لبوں پر رک گئے لبوں پہ میرے
قدم رکے اور وہ گزر جائے
یہ وہ کیفیت ہے جب انسان بہت کچھ کہنا چاہتا ہے مگر الفاظ ساتھ نہیں دیتے۔ محبوب سامنے سے گزر جاتا ہے اور انسان صرف دیکھتا رہ جاتا ہے۔ ڈاکٹر احسان تابش معمولی سے لمحے کو بھی شاعری میں یادگار بنانے کا ہنر رکھتے ہیں۔
رشتوں کی شکستگی اور تنہائی کا کرب
ان کی شاعری میں انسانی رشتوں کی ٹوٹ پھوٹ اور اپنوں کی بے اعتنائی ایک مستقل موضوع کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اس درد کو بڑی سادگی سے بیان کرتے ہیں:
میری کشتی ڈگمگانے لگی
جب میرے اپنے بھی بیگانے ہوئے
زندگی کو کشتی سے تشبیہ دے کر شاعر نے ایک وسیع انسانی تجربے کو دو مصرعوں میں سمو دیا ہے۔ انسان کی زندگی اس وقت سب سے زیادہ ڈگمگاتی ہے جب اس کے اپنے ہی اس کا ساتھ چھوڑ دیتے ہیں۔ اس شعر میں صرف تنہائی نہیں بلکہ اعتماد کے ٹوٹنے کا کرب بھی موجود ہے۔
اسی غزل میں وہ کہتے ہیں:
اہل نظر کو ڈھونڈتے ہوئے
ہاں دل کے کئی خانے ہوئے
یہاں تلاشِ رفاقت کے دوران ملنے والی مایوسیوں اور تجربات کا ذکر ہے۔ انسان جب اپنے احساسات سمجھنے والے لوگوں کو تلاش کرتا ہے تو اسے کئی مرتبہ نئے زخم بھی ملتے ہیں۔
لیکن شاعر مایوسی کو اپنا مقدر نہیں بناتا:
جا کر کہہ دو ہر ایک سے تابش
میرے ہر خواب بھی سہانے ہوئے
یہ شعر ڈاکٹر احسان تابش کی مثبت فکر اور امید پسندی کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ٹوٹنے کے باوجود خواب دیکھنا نہیں چھوڑتے۔ یہی ان کی شاعری کا حوصلہ افزا پہلو ہے۔
وقت، تاریخ اور ادبی شناخت
ڈاکٹر احسان تابش کا ایک دو مصرعی شعر فیس بک پر نظر سے گزرا، جس نے مجھے خاص طور پر متاثر کیا:
وقت نے احسان لکھ دی تاریخ چمن
جب کبھی بجلی گرے گی سرخیاں دہراؤ گے
اس شعر میں وقت کو ایک مصنف اور تاریخ کو ایک زندہ دستاویز کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ شاعر کا اشارہ اس حقیقت کی طرف ہے کہ انسان کے اعمال اور اس کی فکری خدمات وقت کے ساتھ اپنی پہچان خود بناتے ہیں۔ تاریخ کسی کی خواہش سے نہیں بلکہ اس کے کردار اور کام سے رقم ہوتی ہے۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری میں ذاتی احساسات سے اجتماعی شعور تک کا سفر بھی دکھائی دیتا ہے۔ وہ اپنی ذات کے دکھ کو بیان کرتے ہوئے معاشرے، زمانے اور انسانی تاریخ کے سوالات تک پہنچ جاتے ہیں۔ یہی وسعتِ فکر انہیں محض ذاتی تجربات کا شاعر نہیں رہنے دیتی۔
اندھیروں کے مقابلے میں چراغ
ان کا یہ شعر میرے نزدیک ان کی پوری شخصیت کا خلاصہ ہے:
چراغ جلانے کی حسرت ابھی باقی ہے
اندھیروں سے کہہ دو ہمارے گھر نہ آئیں
یہ شعر محض امید کا اظہار نہیں بلکہ مزاحمت کا اعلان ہے۔ شاعر اندھیروں سے خوف زدہ ہونے کے بجائے انہیں اپنے گھر میں داخل ہونے سے روک رہا ہے۔ یہ اندھیرے مایوسی، نفرت، خود غرضی اور معاشرتی بے حسی کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔
ایک اور مقام پر وہ کہتے ہیں:
چراغ بجھے ہیں تو کیا اندھیرا مان لیں
دل میں ابھی چراغ جلانے کے بہانے ہوئے
یہاں شاعر نے امید کو خارجی حالات کا محتاج نہیں بنایا بلکہ اسے دل کے اندر موجود ایک قوت قرار دیا ہے۔ چراغ بجھ بھی جائیں تو روشنی کی خواہش ختم نہیں ہوتی۔ میرے نزدیک یہی ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا بنیادی پیغام ہے کہ انسان کو مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے۔
معاشرتی شعور اور ضمیر کی آواز
ڈاکٹر احسان تابش کے کلام میں معاشرتی رویوں پر گہری نظر دکھائی دیتی ہے۔ وہ انسانی تعلقات میں بڑھتی ہوئی مفاد پرستی سے بھی بے خبر نہیں:
وفا کے تقاضے ابھی دل میں زندہ ہیں
مگر لوگ مطلب کے رشتے نبھاتے ہیں
یہ شعر ہمارے معاشرے کی ایک تلخ حقیقت کو سامنے لاتا ہے۔ جہاں تعلقات میں خلوص کی جگہ مفاد اور محبت کی جگہ ضرورت نے لے لی ہے۔ شاعر اس تبدیلی کا شکوہ بھی کرتا ہے اور وفا کے جذبے کو زندہ رکھنے کا عزم بھی ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح:
خود سے آنکھیں ملانا مشکل ہے
جب ضمیر قاضی بن کر کھڑا ہے
یہ شعر خود احتسابی کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ دوسروں پر انگلی اٹھانا آسان ہے مگر اپنے ضمیر کے سامنے کھڑا ہونا مشکل۔ ڈاکٹر احسان تابش یہاں انسان کو اپنے اندر جھانکنے اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کرنے کی دعوت دیتے ہیں۔
ان کا یہ شعر بھی موجودہ عہد کی بے چینی کی عکاسی کرتا ہے:
کہتا ہے بشر اب کوئی رہبر نہیں ہے
کسی کے چہرے پر نکھار نہیں ہے
یہاں رہنمائی کے فقدان اور اجتماعی مایوسی کا ذکر ہے۔ شاعر صرف فرد کی بات نہیں کرتا بلکہ پورے معاشرے کی نبض پر ہاتھ رکھتا ہے۔ اسے محسوس ہوتا ہے کہ انسان کو آج بھی رہنمائی، اعتماد اور اخلاقی قیادت کی ضرورت ہے۔
تصوف، عبادت اور روحانی بالیدگی
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری کا ایک نمایاں پہلو تصوف اور روحانیت ہے۔ ان کے ہاں عقل اور دل، علم اور عرفان، دنیا اور آخرت کے درمیان ایک خوبصورت ربط دکھائی دیتا ہے۔
کتابیں پڑھ کے تھک گیا عقل کا مسافر
دل کو سکون آیت سجدہ سنا رہا ہے
یہ شعر علم کی اہمیت سے انکار نہیں کرتا بلکہ اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسانی عقل ہر سوال کا جواب فراہم نہیں کر سکتی۔ بعض اوقات دل کو وہ سکون عبادت اور اللہ کے ذکر میں ملتا ہے جو دنیا کی کتابوں اور فلسفوں میں تلاش کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوتا۔
تابش یہی ہے خلاصہ سارے فلسفوں کا
جو جھک گیا وہی سربلند ہو رہا ہے
کتنے سادہ الفاظ میں ایک بڑی روحانی حقیقت بیان کی گئی ہے۔ عاجزی، بندگی اور انکساری کو حقیقی بلندی کا ذریعہ قرار دیا گیا ہے۔
اسی فکر کو آگے بڑھاتے ہوئے وہ کہتے ہیں:
منزلیں تو ملی علم و عرفان کی ہزار
مگر قرار ماتھے کے داغ سے آ رہا ہے
یہاں ماتھے کا داغ سجدے کی علامت ہے۔ شاعر نے علم و عرفان کی تمام منزلوں کے باوجود حقیقی سکون کو بندگی سے وابستہ کیا ہے۔
ان کے یہ اشعار بتاتے ہیں کہ ڈاکٹر احسان تابش کے لئے شاعری محض جذبات کے اظہار کا ذریعہ نہیں بلکہ روحانی تربیت اور فکری بالیدگی کا وسیلہ بھی ہے۔
انسانی کرب اور نئی نسل کا دکھ
ان کے کلام میں اجتماعی دکھ اور تشدد کے ماحول میں پروان چڑھنے والی نسلوں کا ذکر بھی ملتا ہے:
تشدد کے موسم میں پل کر
بچوں کو ڈر نہیں گرم ہواؤں سے
یہ شعر ایک ایسے معاشرے کی تصویر پیش کرتا ہے جہاں بچے بچپن ہی سے خوف، تشدد اور عدم تحفظ کے ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ شاعر نے تشدد کو محض ایک واقعہ نہیں بلکہ ایک موسم قرار دیا ہے، جو نسلوں کی نفسیات پر اثر انداز ہوتا ہے۔
اسی طرح ان کے یہ اشعار زندگی کے ٹوٹے ہوئے حصوں کو دوبارہ جوڑنے کی خواہش ظاہر کرتے ہیں:
پکارتی ہے ہر صبح زندگی
ٹوٹ گئی ہوں جوڑنے والا چاہیے
اور:
روز کہتی ہے زندگی مجھ سے
کوئی زخم رفو کر دوں میرے
یہاں زندگی کو ایک زخمی وجود کے طور پر پیش کیا گیا ہے جو مرہم اور محبت کی تلاش میں ہے۔ شاعر کا حساس دل انسانی دکھ کو محسوس کرتا ہے اور اس کے لئے شفا کی امید بھی تلاش کرتا ہے۔
نعتیہ شاعری اور عشق رسول ﷺ
ڈاکٹر احسان تابش کے کلام میں نعتیہ شاعری ایک الگ روحانی کیفیت کے ساتھ سامنے آتی ہے۔ مدینہ منورہ میں طویل قیام اور حرمین شریفین سے ان کی وابستگی کا عکس ان کے اشعار میں محسوس ہوتا ہے۔
نور آنکھوں میں رب کا ہے میرا نبی
پیار و الفت کا پیکر ہے میرا نبی
ان اشعار میں عقیدت اور محبت کا خوبصورت امتزاج ہے۔ شاعر کے نزدیک رسول اکرم ﷺ کی ذات محبت، رحمت اور ہدایت کا سرچشمہ ہے۔
ان کا یہ نعتیہ قطعہ بھی قابلِ ذکر ہے:
ہر وقت خیالوں میں میرے وہ گنبد خضرا رہتا ہے
ہر وقت نگاہوں میں اب تو بس کعبہ کعبہ رہتا ہے
کیا فکر ہو تابش کو کوئی کیا خوف ہو اس کو عقبی کا
اس کے تو لبوں پہ عرصہ سے اب مولا مولا رہتا ہے
یہاں مدینہ منورہ کی نسبت، کعبہ شریف کی محبت اور ذکر الٰہی ایک ہی روحانی کیفیت میں جمع ہو گئے ہیں۔ ان اشعار میں شاعر کی قلبی وابستگی اور عقیدت نمایاں ہے۔
ایک اور شعر دیکھیے:
ہوتا ہے جس میں ذکر رسول کریم کا
اس گھر میں برکتوں بھری برسات ہوتی ہے
یہ شعر درود و سلام، ذکر رسول ﷺ اور روحانی برکتوں کی اہمیت کو بیان کرتا ہے۔
ذاتی مشاہدات اور ڈاکٹر احسان تابش کی شخصیت
میں ڈاکٹر احسان تابش سے حج کے دوران مدینہ منورہ میں ملاقات کر چکی ہوں۔ دس دن تک انہیں قریب سے دیکھنے اور سمجھنے کا موقع ملا۔ ان کی شخصیت میں خلوص، محبت اور بے ساختگی نمایاں ہے۔ وہ بات کرتے ہیں تو اپنے خیالات کا بھرپور اظہار کرتے ہیں۔ ان کے مزاج میں ایک بے نیازی ہے، لیکن اس کے ساتھ دوسروں کے لئے درد اور احساس بھی موجود ہے۔
ان کی زندگی اور شاعری میں ایک دلچسپ مماثلت ہے۔ ان کے اشعار میں جہاں تنہائی، بیگانگی اور بے بسی دکھائی دیتی ہے، وہیں ان کی شخصیت میں امید، حوصلہ اور دوسروں کے کام آنے کا جذبہ بھی نظر آتا ہے۔
ایک مرتبہ میں نے ان سے حال پوچھا تو انہوں نے یہ شعر سنایا:
دیواروں سے اب باتیں کرتے ہیں رات بھر
جو اپنے تھے وہی لوگ اجنبی ہوئے
یہ شعر سن کر اندازہ ہوا کہ بعض اوقات انسان اپنے دل کی پوری داستان دو مصرعوں میں بیان کر دیتا ہے۔ اس میں تنہائی بھی ہے، رشتوں کی شکستگی بھی اور ایک خاموش شکایت بھی۔
ڈاکٹر احسان تابش کی خوبی یہ ہے کہ وہ اپنے دکھ کو محض شکوہ نہیں بناتے بلکہ اسے شعر کی صورت دے کر دوسروں کے احساسات کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ یہی ایک حساس شاعر کی پہچان ہے۔
ادبی عہد میں ڈاکٹر احسان تابش کی اہمیت
آج کے ادبی ماحول میں جہاں فوری شہرت، سوشل میڈیا کی مقبولیت اور نمود و نمائش کی دوڑ دکھائی دیتی ہے، وہاں ڈاکٹر احسان تابش جیسے ادیب اپنی الگ شناخت رکھتے ہیں۔ وہ کم لکھتے ہیں لیکن ان کے کلام میں تجربے، مشاہدے اور مطالعے کی گہرائی محسوس ہوتی ہے۔
ان کی شاعری میں غزل کی روایت بھی ہے، نثری نظم کی بے ساختگی بھی، افسانے کی کہانی بھی اور تصوف کی روحانی خوشبو بھی۔ وہ انسانی زندگی کے مختلف پہلوؤں کو اپنے مخصوص انداز میں پیش کرتے ہیں۔ ان کا کلام قاری کو صرف متاثر نہیں کرتا بلکہ اسے سوچنے، اپنے اندر جھانکنے اور زندگی کے معنی تلاش کرنے پر بھی مجبور کرتا ہے۔
میرے نزدیک ڈاکٹر احسان تابش کی اصل پہچان یہی ہے کہ وہ درد کو لفظ دیتے ہیں، تنہائی کو آواز دیتے ہیں اور اندھیروں میں چراغ جلانے کا حوصلہ پیدا کرتے ہیں۔ ان کی شاعری میں شکست کے بعد سنبھلنے، مایوسی کے بعد امید رکھنے اور دنیاوی تجربات کے بعد روحانی سکون تلاش کرنے کا سفر مسلسل جاری رہتا ہے۔
ڈاکٹر احسان تابش کی ادبی شخصیت کو سمجھنے کے لئے ان کے چند اشعار پڑھ لینا کافی نہیں، بلکہ ان کے کلام کے پس منظر میں موجود زندگی کے تجربات، مشاہدات اور احساسات کو بھی سمجھنا ضروری ہے۔ ان کے ہاں لفظ محض لفظ نہیں بلکہ زندگی کے کسی نہ کسی تجربے کی گواہی دیتے ہیں۔
ڈاکٹر احسان تابش کی شاعری میں ایک طرف انسانی زندگی کا کرب ہے تو دوسری طرف امید کا چراغ۔ ایک طرف رشتوں کی بے وفائی ہے تو دوسری طرف وفا کا عزم۔ ایک طرف عقل کی تھکن ہے تو دوسری طرف سجدے کا سکون۔ یہی تضادات ان کی شاعری کو زندگی سے قریب کرتے ہیں۔
وہ زخم دکھاتے ہیں مگر مایوسی نہیں پھیلاتے، اندھیروں کا ذکر کرتے ہیں مگر چراغ جلانے کا حوصلہ بھی دیتے ہیں۔ ان کی شاعری کا سب سے خوبصورت پہلو یہی ہے کہ وہ انسان کو ٹوٹنے کے بعد بھی جینے، خواب دیکھنے اور محبت کرنے کا پیغام دیتی ہے۔
میری نظر میں ڈاکٹر احسان تابش فکر کے مسافر، محبت کے ترجمان اور روحانی احساس کے شاعر ہیں۔ ان کا قلم اسی طرح خلوص، صداقت اور روشنی کے چراغ جلاتا رہے۔

مصنف کے بارے میں

ہمارے واٹس ایپ چینل کو جوائن کریں