توحید آذرؔ انصاری
دنیا میں وقت کے ساتھ ساتھ بہت سی تبدیلیاں آتی رہی ہیں۔ انسان نے ہر دور میں ترقی کی ہے اور آج بھی ترقی کا یہ سفر جاری ہے۔ سائنس، ٹیکنالوجی اور دیگر شعبوں میں انسان نے حیرت انگیز کامیابیاں حاصل کی ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ کیا اس ترقی کے ساتھ ہماری انسانیت بھی ترقی کر رہی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں حضرت آدم علیہ السلام کا ذکر کیا ہے، جنہیں اسلامی عقیدے کے مطابق پہلا انسان مانا جاتا ہے۔ ان کے دو بیٹے ہابیل اور قابیل تھے۔ جب دونوں نے اللہ تعالیٰ کے حضور قربانی پیش کی تو ہابیل کی قربانی قبول ہوئی، جبکہ قابیل کی قربانی قبول نہیں ہوئی۔ اس بات پر قابیل کے دل میں حسد پیدا ہوا اور بالآخر اس نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کر دیا۔ یہ واقعہ ہمیں بتاتا ہے کہ حسد انسان کو کس قدر سنگین جرم کی طرف لے جا سکتا ہے۔ یوں انسانی تاریخ کے ابتدائی واقعات میں ہی ہمیں حسد، دشمنی اور رشتوں کی پامالی کی ایک مثال ملتی ہے۔ (سورۃ المائدہ، آیات ۲۷ تا ۳۱)
انسان کی اصل طاقت صرف اس کے بازوؤں میں نہیں، بلکہ اس کی عقل اور ذہن میں بھی ہے۔ اسی ذہنی صلاحیت کے ذریعے انسان نے قدیم دور سے جدید دور تک کا سفر طے کیا۔ آگ جلانے سے لے کر بجلی پیدا کرنے تک اور سادہ ذرائع سے جدید ٹیکنالوجی تک، یہ سب انسانی ذہن ہی کا کمال ہے۔ آج ہم ایسے دور میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں بہت سے کام چند لمحوں میں انجام دیے جا سکتے ہیں۔
لیکن صرف ترقی کر لینا ہی بڑی بات نہیں، بلکہ اس سے بھی زیادہ اہم یہ ہے کہ ہم اپنے انسانی رشتوں کو کس طرح نبھاتے ہیں اور دوسروں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ آخر ہم ترقی کس کے لئے کر رہے ہیں؟ ظاہر ہے کہ ہم اپنے لئے، اپنے خاندان کے لئے اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کے لئے محنت کرتے ہیں۔ اگر ہماری ترقی کا مقصد انسان کی زندگی کو آسان بنانا ہے تو پھر ہمارے رویّوں میں بھی آسانی، محبت اور ہمدردی ہونی چاہیے۔
ہماری زندگی میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔ استاد اپنے شاگردوں کو علم کی روشنی سے آراستہ کرتا ہے، تجربہ کار افراد اپنے سے کم تجربہ رکھنے والوں کی رہنمائی کرتے ہیں اور مختلف شعبوں میں کام کرنے والے لوگ ایک دوسرے سے سیکھتے ہیں۔ اس طرح معاشرہ آگے بڑھتا ہے۔ لیکن افسوس کہ ہمارے اسکولوں، کالجوں، اسپتالوں، دفتروں اور دیگر اداروں میں بعض اوقات ایسے رویّے بھی دیکھنے کو ملتے ہیں جہاں اعلیٰ عہدوں پر فائز افراد اپنے ماتحتوں کے ساتھ اچھا برتاؤ نہیں کرتے۔
اس کی ایک وجہ عہدے کا غرور اور خود کو دوسروں سے برتر سمجھنے کی سوچ ہے۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ان کا عہدہ بلند ہے، اس لئے دوسروں کے ساتھ ان کا رویّہ بھی برتری جتانے والا ہونا چاہیے۔ حالانکہ یہ سوچ درست نہیں۔ ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ عہدے اور مرتبے ہماری عملی زندگی کا حصہ ہیں، لیکن ہماری بنیادی شناخت انسان ہونا ہے۔ ہمیں کسی بھی عہدے پر فائز ہونے کے باوجود عاجزی اختیار کرنی چاہیے اور ہر شخص کے ساتھ عزت اور نرمی سے پیش آنا چاہیے۔
تعلیم انسان کو علم دیتی ہے، لیکن اس علم کا حقیقی فائدہ اسی وقت ہے جب وہ ہمارے اخلاق اور کردار میں بھی نظر آئے۔ اگر کوئی شخص اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے باوجود دوسروں کی عزت کرنا نہیں سیکھتا تو اس کی تعلیم کا مقصد ادھورا رہ جاتا ہے۔ جیسے ایک شعر ہے کہ:
تہذیب سکھاتی ہے جینے کا سلیقہ،
تعلیم سے جاہل کی جہالت نہیں جاتی۔
انسانیت کا مطلب صرف دوسروں کے ساتھ اچھا برتاؤ کرنا نہیں، بلکہ ان کے دکھ درد کو سمجھنا، ضرورت کے وقت ان کی مدد کرنا اور ان کی عزتِ نفس کا خیال رکھنا بھی ہے۔ مگر افسوس کہ آج بعض مواقع پر ہم اپنی ذمہ داری سے پیچھے ہٹ جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر، اگر سڑک پر کسی شخص کا حادثہ ہو جائے تو بعض لوگ اس کی مدد کرنے کے بجائے تماشائی بن کر کھڑے رہتے ہیں۔ انہیں یہ فکر ہوتی ہے کہ کہیں وہ کسی مشکل میں نہ پڑ جائیں۔ یقیناً ایسے حالات میں احتیاط اور مناسب طریقۂ کار اہم ہیں، لیکن کسی ضرورت مند کی مدد کے لئے محفوظ اور مناسب قدم اٹھانا بھی ہماری سماجی ذمہ داری ہے۔ اگر ہم کسی مصیبت زدہ شخص کی مدد کرنے کے بجائے صرف تماشا دیکھتے رہیں تو یہ ہمارے اندر ہمدردی کی کمی کو ظاہر کرتا ہے۔
اسی طرح ہمارے روزمرہ کے رویّے بھی ہماری شخصیت کی عکاسی کرتے ہیں۔ جب ہم گھر سے باہر نکلتے ہیں اور کسی آٹو یا بس میں سفر کرتے ہیں تو اکثر دوسروں سے خوش اخلاقی کے ساتھ بات کرتے ہیں۔ لیکن جیسے ہی گھر واپس آتے ہیں، بعض اوقات ہمارا رویّہ بدل جاتا ہے۔ گھر والوں کی معمولی سی بات پر ہم غصہ کرنے لگتے ہیں اور ان سے اونچی آواز میں بات کرتے ہیں۔ ہم یہ سوچنے کی زحمت بھی نہیں کرتے کہ ہمارے الفاظ ان کے دل کو کتنا دکھ پہنچا سکتے ہیں۔
حالانکہ انسانیت کا آغاز ہمارے اپنے گھر سے ہوتا ہے۔ اگر ہم باہر کے لوگوں کے ساتھ نرمی سے پیش آ سکتے ہیں تو اپنے والدین، بہن بھائیوں اور دیگر اہلِ خانہ کے ساتھ بھی اچھا رویّہ اختیار کر سکتے ہیں۔ محبت اور احترام کا تقاضا یہی ہے کہ ہم اپنے قریبی رشتوں کی قدر کریں اور ان کے جذبات کا خیال رکھیں۔
ایک اور اہم مسئلہ نوجوان نسل کے بعض تعلقات میں بھی دیکھنے کو ملتا ہے۔ دو افراد ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں اور ساتھ زندگی گزارنے کے وعدے کرتے ہیں، لیکن بعض اوقات ان میں سے کوئی ایک اپنے وعدے سے مکر جاتا ہے یا دوسرے شخص کے جذبات کے ساتھ کھیلتا ہے۔ اس طرح دھوکہ کھانے والا شخص ذہنی اور جذباتی تکلیف سے گزرتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھنا ضروری ہے کہ ہر تعلق کا انجام ایک جیسا نہیں ہوتا اور کسی تعلق کو ختم کرنا بذاتِ خود دھوکہ نہیں ہے۔ اصل مسئلہ جھوٹ بولنا، غلط امیدیں دلانا اور جان بوجھ کر کسی کے جذبات سے کھیلنا ہے۔ ہمیں اپنے الفاظ اور وعدوں کی اہمیت سمجھنی چاہیے، کیونکہ کسی کے اعتماد کو ٹھیس پہنچانا بھی ایک سنگین اخلاقی مسئلہ ہے۔
لہٰذا ہمیں چاہیے کہ ہم ہر شخص کے ساتھ اچھی زبان، شائستہ انداز اور محبت سے پیش آئیں، چاہے وہ ہم سے بڑا ہو یا چھوٹا، امیر ہو یا غریب، یا کسی بھی عہدے پر فائز ہو۔ ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ترقی کی حقیقی پہچان صرف بڑی عمارتیں، جدید مشینیں اور نئی ایجادات نہیں، بلکہ ایک ایسا معاشرہ بھی ہے جہاں انسان ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھیں، ایک دوسرے کی عزت کریں اور مشکل وقت میں کام آئیں۔
“انسانیت کو زندہ رکھنے کے لئے ہمیں سب سے پہلے خود ایک اچھا انسان بننا ہوگا۔ اگر ہماری ترقی ہمارے اخلاق، کردار اور رویّوں کو بہتر نہیں بنا رہی تو ہمیں اپنی ترقی کے مفہوم پر دوبارہ غور کرنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ حقیقی کامیابی صرف آگے بڑھنے میں نہیں، بلکہ دوسروں کو ساتھ لے کر آگے بڑھنے میں ہے”۔


